Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • اپنے بل بوتے پر کونسلر کا الیکشن نہیں جیت سکتے اور بات کر رہے ہیں نئے صوبوں و انتظامی یونٹس کی:اسمہ نواز کا ٹوئٹ
    • پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ نرخ 4 لاکھ 30 ہزار روپے سے تجاوز کر گئے
    • شدید بارش کے باعث مری میں لینڈ سلائیڈنگ، متعدد سڑکیں متاثر
    • حکومت کا مستقبل کے سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے 800 ارب روپے کے ہنگامی منصوبے کی تیاری
    • ماہرہ خان نے کشمیر میں ہونے والے تشدد کی دل دہلا دینے والی کہانی شیئر کر دی
    • امارات ائیر لائن کے جہاز کی دبئی سے ہانگ ژو کی پرواز10گھنٹےAC بند ہونے پر مسافر بےہوش
    • پاکستانی فضائی حدود کی پابندیوں سے ایئر انڈیا کو 2.3 ارب ڈالر کا نقصان
    • وسیم اکرم کا گمشدہ کتا مل گیا، دو افراد کو 2 لاکھ 50 ہزار روپے انعام دیا گیا
    • زمبابوے کر کٹ ٹیم کے کپتان سکندر رضا کی بیٹی عنایہ حافظِ قرآن بن گئیں
    • گلگت بلتستان کی براڈ پیک چوٹی پر برفانی تودہ، 2 لاشیں برآمد، عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نرمل پرجا سمیت 8 افراد تاحال لاپتا
    • کوئٹہ کے قریب کوئلے کی کان میں دھماکہ، 34 کان کن جاں بحق، 2 لاپتا
    • اطالوی فٹبال لیجنڈ فرانکو باریزی 66 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
    • حماس نے اسرائیل سے غیر مسلح ہونے کے معاہدے کی تصدیق کر دی
    • اسرائیلی فوج کی سیکیورٹی میں آبادکاروں کا نابلس پر حملہ
    • شان مسعود انجری کے باعث ویسٹ انڈیز سیریز کے دوسرے ٹیسٹ سے باہر
    • 53 روز بعد مظفرآباد میں انٹرنیٹ سروس بحال
    • آئی سی سی رینکنگ: پاکستان دوسرے نمبر پر برقرار
    • کربلا میں اربعین موکب کے قریب امریکی فضائی حملہ
    • پاکستان نے چین کا 1.4 ارب ڈالر قرض واپس کر دیا، ری فنانسنگ چند ہفتوں میں متوقع
    • ارشد ندیم کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو فائنل کے لیے کوالیفائی کر گئے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    نایاب صنوبر کا مستقبل شدید خطرے میں ۔۔۔ درختوں کی زندگی مشکل میں کیوں ؟؟

    By Daily Khabrainاپریل 4, 2018
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    مارچ کے مہینے میں جب پاکستان کے بیشتر حصوں میں درجۂ حرارت تیزی سے بڑھنے لگتا ہے تب بھی وادیِ زیارت کا علاقہ چوتیر برف سے ڈھکا رہتا ہے۔

    زیارت ملک کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کا پہاڑی شہر ہے۔ اور یہ 72 سالہ بختاور بی بی کا آبائی شہر بھی ہے۔ وہ اس برف پوش پہاڑیوں اور صنوبر کے جنگل کے درمیان اپنے گھر سے باہر کی دنیا کے بارے میں نہیں جانتی ہیں۔

    صنوبر کا یہ جنگل اپنی انوکھی حیثیت رکھتا ہے اور یہ اپنی قسم کا دوسرا سب سے بڑا جنگل ہے۔ یہاں کے درخت دنیا کے قدیم ترین پیڑوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کا سبب ان کا سست رفتاری سے بڑھنا اور زیادہ دنوں تک زندہ رہنا بتایا جاتا ہے۔

    ایک کم روشن اور ٹھنڈے کمرے میں بختاور بی بی صنوبر کی لکڑیاں چولھے میں ڈال رہی تھیں۔ جب میں ان کے گھر میں داخل ہوئی تو وہ کھانا بنانے کی تیاری میں تھیں۔

    زیارت

    انھوں نے میری جانب رخ کرتے ہوئے کہا: ‘اس بار سردی بہت سخت تھی۔ بچنا مشکل تھا۔ہمارے یہاں گرم پانی کا نظام نہیں ہے اور کھانا پکانا تقریباً نامکمن تھا۔’

    جب انھوں نے لکڑيوں میں ماچس کی تیلی لگائی تو ان کا چہرہ روشن ہو اٹھا۔

    انھوں نے کہا: ‘جاڑوں میں لکڑیاں اکٹھا کرنا اور انھیں جلانا بھی ایک مشکل کام ہے۔’

    یہ بھی پڑھیے

    پاکستان میں مشروم کی پیداوار میں ریکارڈ کمی

    صنوبر کا جنگل

    وہاں لکڑی کے علاوہ ایندھن کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے اور وہاں کے سینکڑوں باشندوں کو آگ کے لیے درخت کاٹنے کے علاوہ دوسرا چارہ نہیں۔

    وہ اس بات سے بے خبر پیڑ کاٹتے ہیں کہ وہ دنیا کی سب قیمتی حیاتیاتی وراثت کو تباہ کر رہے ہیں۔

    لیکن وہاں میر افغان عالم جیسے چند لوگ بھی ہیں جو اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور اس کا پاس بھی رکھتے ہیں۔

    افغان عالم ایک رضاکار اور ‘جونیپر یونائٹڈ کونسل’ کے صدر ہیں۔ یہ کونسل ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جو کہ صنوبر کے درختوں کے تحفظ کے لیے بیداری پیدا کرنے میں سرگرم ہے۔

    صنوبر کا درخت

    ان کا خیال ہے کہ محکمۂ جنگلات اپنا کام نہیں کر رہا ہے۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ‘محکمۂ جنگلات کا دفتر جنگل کے بیچ و بیچ قائم ہے اور سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور وہ اسے روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے ہیں۔

    زیارت ضلعے کا پہاڑ گہرے سیاہ جنگلوں سے گھراب تھا لیکن اب وہ بنجر مٹی کا ڈھیڑ ہے اور یہاں وہاں اکا دکا درخت نظر آتے ہیں۔ تبدیلی نمایاں ہے اور جنگل تیزی سے غائب ہو رہے ہیں۔

    افغان عالم کا کہنا ہے کہ محکمۂ جنگلات ہر سال تین بار درخت لگانے کی مہم چلاتا ہے۔

    انھوں نے کہا: ‘گذشتہ دس برسوں سے یہ صنوبر کے درخت لگانے کی مہم چلا رہا ہے لیکن آپ وہاں ایک بھی نیا پیڑ نہیں دیکھیں گے۔

    صنوبر کا درخت

    ‘یہ ان کی تصاویر لینے کا موقع ہوتا ہے۔ درحقیقت جنگل کو بچانے کی ان کی کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔’

    لیکن محکمۂ جنگلات ان الزمات کی تردید کرتا ہے۔ جہاں افغان عالم بات کر رہے تھے۔ اس سے تقریبا ایک کلومیٹر کے فاصلے پر محکمۂ جنگلات نے ایک نئی نرسری لگائی ہے۔

    صنوبر کے ختم ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے اور اس کے بڑھنے کی رفتار بہت سست ہے اور اسی لیے صنوبر کے جنگل کے تحفظ کا کام مزید مشکل ہو گیا ہے۔

    محکمۂ جنگلات کے ڈویزنل افسر افراسیاب خان نے بتایا: بیج کی نمو پزیری بہت کم ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ صرف پانچ سے دس فیصد بیج ہی بچ پاتے ہیں۔ انھیں درکار زمین اور درجۂ حرارت فراہم کرنا بھی بہت مشکل ہے۔

    صنوبر کا پودا

    مکحمۂ جنگلات نے 20 ہزار پودے لگائے جس میں سے صرف دو ہزار ہی بچ سکے۔

    صنوبر کی لکڑیوں کا مکان بنانے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ہرنائی، پشین اور لورالائی جیسے پڑوسی اضلاع میں بھی چھتوں اور دروازوں میں ان لکڑیوں کا استعمال ہوتا ہے۔

    افغان عالم نے کہا: ‘جاڑوں میں جب سینکڑوں خاندان دوسرے علاقوں میں منتقل ہوتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ صنوبر کی لکڑیاں بھی لے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ مفت ہے انھیں اس کی قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی ہے۔’

    بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت، قحط سالی، بارش اور برف باری میں بے قاعدگی نے بھی جنگل کو نقصان پہنچایا ہے۔ مقامی افراد کھیتی کے لیے بھی جنگل کاٹ رہے ہیں اور انھوں نے صنوبر کی جگہ پیسہ کمانے کے لیے پھلوں کے باغ لگائے ہیں۔

    صنوبر کا پودا

    جنگل میں بعض درخت چار ہزار سال پرانے ہیں۔ یونیسکو نے اس علاقے کو ‘حیاتیاتی ذخیرہ’ قرار دیا ہے۔ ماہرین اسے زندہ باقیات کہتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے مطالعے کا یہ بہترین وسیلہ ہو سکتے ہیں۔

    لیکن جنگل کے بچنے کی امید رفتہ رفتہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہر چند کے صنوبر کے درخت کاٹنے پر پابندی ہے اور اس کی خلاف ورزی پر جرمانہ ہے لیکن اس کا بے روک ٹوک کاٹنا جاری ہے۔

    کچھ حد تک یہ معقول بھی نظر آتا ہے کہ جو صوبہ اس قدر غربت اور تشدد میں ڈوبا ہو وہاں حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ترجیحات میں کیونکر شامل ہو سکتا ہے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      بغیر ٹانگوں والے روسی شخص نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے تاریخ رقم کر دی

      بکریوں کی انسانوں کے حوالے سے حیرت انگیز صلاحیت کا انکشاف

      جرمن نوجوان نے ایک منٹ میں سوا کلو شہد کھانے کا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا

      تازہ ترین

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.