لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سیاسی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ایک شخص جو وزیراعظم اور حکومتی پارٹی کا سربراہ تھا اس نے خود پیشکش کی میرے خلاف انکوائری کروا لیں وہ لمحہ ان کے لئے مبارک ثابت نہیں ہوا۔ انکوائری چلی، کیس بنا ایک چیز تو ثابت ہوئی کہ پیسے وہاں کیسے گئے۔ نابالغ بچوں کے پاس اتنا سرمایہ کیسے آ گیا، کیسے پراپرٹی خریدی۔ حسن و حسین نواز نے تو کہا تھا کہ کچھ پراپرٹی فروخت بھی کر دی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ شریف خاندان کی لندن، نیویارک، واشنگٹن میں بہت زیادہ جائیداد اور بھی ہے۔ شریف خاندان نے جو بیانات دیئے وہ تحقیقات میں غلط ثابت ہوئے، ذوالفقار کھوسہ اور چودھری نثار نے خود کہا تھا کہ 93، 94ءمیں وہ نوازشریف کے لندن فلیٹس میں ٹھہرتے رہے ہیں۔ نوازشریف کہتے ہیں کہ مجھ پر کوئی چیز ثابت نہیں ہوئی یہ ثبوت فراہم کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف نے صبر و تحمل سے کام لیا یہ ان کے لئے فائدہ مند ہے۔ وہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ الیکشن میں کامیابی حاصل کریں۔ نوازشریف کا یہ کہنا کہ جیل میں بیٹھ کر جدوجہد کروں گا یہ ساری لفاظی ہوتی ہے۔ نواز کی رہائی کا صرف ایک طریقہ ہے اگر نون لیگ کامیاب ہوتی ہے اور شہباز شریف وزیراعظم بنتے ہیں تو وہ صدر کو سمری بھیج کر سزا معاف کروا لیں اس کے علاوہ آئین میں کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ ذوالفقار بھٹو جیل میں بھی تھے تو ملک میں احتجاج کی کیفیت تھی لیکن نوازشریف کے خلاف فیصلے کے بعد کوئی ایک شخص بھی سڑک پر نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے احتجاجی مہم نہ چلانے کا ٹھیک فیصلہ کیا، بردباری و عقلمندی سے کام لیتے ہوئے پریس کانفرنس میں جذباتی گفتگو نہیں کی۔ اگر نون لیگ کی حکمت عملی میں احتجاج کرنا ہوا تو نوازشریف کی گرفتاری پر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز بینظیر بننا چاہتی ہیں۔ اس کی خواہش ہو گی کہ بھٹو کی طرح میں بھی اپنے والد کی قربانی دے کر لیڈر بن جاﺅں تو بن جائیں لیکن اس قیمت پر مریم کا بینظیر بننا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ نوازشریف کو آج بھی دوست سمجھتا ہوں، ان کی زندگی و سلامتی کے لئے دُعا گو ہوں۔ مریم اس لئے وطن واپس آ رہی ہیں کیونکہ مستقبل ان کا ہے وہ شہباز شریف کو کچھ نہیں سمجھتیں، مجبوری نہ ہوتی تو صدر بھی نہ بننے دیتیں۔ وہ مستقبل کی وزیراعظم بننا چاہتی ہیں۔ بیورو چیف خبریں لندن وجاہت علی خان نے کہا ہے کہ برطانیہ میں نوازشریف کے خلاف فیصلے پر کوئی احتجاج نہیں ہوا البتہ چند نوجوانوں نے نواز شریف کے گھر کے باہر ان کے خلاف نعرے بازی کی۔ انہیں دھکے دے کر نکال دیا گیا۔ نون لیگ برطانیہ کی جانب سے کسی احتجاج کی کال بھی نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جائیداد کی ضبطگی کے حوالے سے حکومت دوسری حکومت کو خط لکھتی ہے، پاکستان برطانوی حکومت کو خط لکھ بھی دے تو عمل نہیں ہو گا کیونکہ بانی متحدہ پر عمران فاروق قتل اور منی لانڈرنگ کا کیس کئی سال سے چل رہا ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ جب دو حکومتوں کا معاملہ آ جاتا ہے تو وہ اپنے مفادات دیکھتے ہیں۔ اکستان کی عدالت کے کہنے پر برطانیہ کبھی بھی جائیداد پاکستان کے حوالے نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ باوثوق ذرائع کے مطابق شاید منگل یا بدھ کو نوازشریف و مریم پاکستان پہنچ جائیں۔ لیگل ایکسپرٹ لندن رضوان سلہریا نے کہا ہے کہ فیصلے کے خلاف نوازشریف کے وکلاءکی خواہش ہو گی کہ وہ سٹے لے لیں تا کہ ہائیکورٹ اس فیصلے پر نظر ثانی کر سکے۔ عدالت کی طرف سے دیا جانے والا 10 دن کا وقت بڑھ بھی سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ رحمان ملک کی طرح اپیل نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نگران وزیراعظم بھی اگر چاہیں تو سزا معافی کی سمری صدر کو بھیج سکتے ہیں لیکن اس سے نوازشریف کو سیاسی طور پر بڑا نقصان ہو گا، بہتر ہے کہ وہ فیصلے کو چیلنج کریں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ ہائیکورٹ میں جائیں اور اپنا حق استعمال کریں۔ نون لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا، اس فیصلے کو تاریخ کبھی قبول نہیں کرے گی۔ عوام قبول نہیں کرتے۔ فیصلے کی ٹائمنگ نے الیکشن کو مشکوک بنا دیا۔ بہتر ہوتا عدالت انتظار کر لیتی اور نوازشریف کی موجودگی میں فیصلہ سناتی۔ عوام 25 جولائی کو اپنا فیصلہ دیں گے جو سب کو نظر آئے گا۔
