تازہ تر ین

بھارتیو ! نواز کی محبت اب کیوں جاگ اٹھی

کراچی (این این آئی، آن لائن) تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ مجھ پرخود کش حملوں کا خطرہ تھا لیکن اس کے باوجود میں بنوں اور کرک گیا۔کرک اور بنوں میں ہمیں دھمکی آمیز خط لکھے گئے۔ ایک غیر ملکی مخلوق ہے جو اندرونی مافیا کےساتھ ملی ہوئی ہے۔ 25جولائی پاکستان کو بدلنے کا دن ہے ۔ لوگوں ووٹ دینے کے لئے گھر سے نکلنا ہوگا۔دھاندلی کا شور وہ مچارہے ہیں جنہوں نے 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کے ریکارڈ توڑے۔ آئی جی سندھ پولیس کوہدایت دیں کہ لوگوں کو مزار قائد آنے سے نہ روکا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پہنچنے کے بعد ایئرپورٹ پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عمران خان نے کہا کہ 25 جولائی آپ لوگوں کو ووٹ دینے کے لیے گھر سے نکلنا ہوگا۔آئی جی سندھ سے درخواست ہے کہ جلسہ گاہ تک جانے سے نہ روکا جائے لوگوں کو جلسہ گاہ تک پہنچنے میں آسانیاں پیدا کریں۔ لوگوں کو مزارِ قائد آنے دیا جائے۔ میں مزارِ قائد پہنچ کر ساری باتیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر خود کش حملوں کی تھریٹ تھی لیکن کل میں بنوں اور کرک گیا۔ ایک غیر ملکی مخلوق ہے جو اندرونی مافیا کےساتھ ملی ہوئی ہے۔ اس غیرملکی مخلوق کے متعلق میں جلسے میں بتاﺅں گا، الیکشن میں ہمارا حق ہے لوگوں کو اکٹھا کریں اور اپنا پیغام دیں ۔لوگ شور مچارہے ہیں پری پول ریگنگ ہے۔ وہ لوگ شور مچارہے ہیں جنھوں نے پچھلی دفعہ دھاندلی کے ریکارڈ توڑے۔میرے پیچھے دو خودکش حملہ آور تھے۔ لوگوں کو نہ روکیں جلسہ میں آنے والے ہیں۔خلائی مخلوق کے علاوہ غیر ملکی مخلوق بھی ہے جو ملک میں یہ دہشتگردی کروا رہی ہے۔ہم نے جانیں خطرے میں ڈال کر کرک اور بنوں میں جلسے کیے۔ انہوں نے کہا کہ کرک اور بنوں میں ہمیں دھمکی آمیز خط لکھے گئے۔ کراچی کے جلسے میں سندھ کو پیغام دینے آیا ہوں۔قبل از انتخابات دھاندلی کا شور، چور مچائے شور کے مترادف ہے۔ غیر ملکی مخلوق اندرونی مافیا کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ کراچی اور سندھ کا 25جولائی سے پہلے یہ آخری دورہ ہے۔ آئی جی سندھ جلسہ گاہ آنے والوں کی مشکلات دور کریں۔دہشت گردی میں غیر ملکی مخلوق اندرونی مافیا سے ملی ہوئی ہے۔ اس غیر ملکی مخلوق کے بارے میں جلسے میں بتاﺅں گا۔ عمران خان نے کہا ہے کہ راﺅ انوار جیسے لوگ ڈال کر پو لیس کوتباہ کیا گیا ہے۔ فوج کے خلاف سازش ہو رہی ہے ، ہمارا مقابلہ جمہوری قوتوں سے نہیں بلکہ مافیاز سے ہے ۔ کراچی میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق عذیر بلوچ زرداری اور اس کی بہن کہنے پر لوگوں کومارتاتھا ، شوگر ملوں پر قبضہ کیا جاتا تھا ، بلاول ہاﺅس کے گرد گھر بندوق کے زور پر خالی کروائے گئے اور یہ سب کرنے کیلئے سندھ پولیس اس کی حفاظت کرتی تھی ۔ انہوں نے کہا کا مجھ کو ہنسی آتی ہے کہ اس کو یہ جمہوریت کہتے ہیں۔اندر ون سندھ زرداری مافیا کا زور تھا ۔ عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے نوازشریف کو مافیا کا گارڈ فادر کہا ۔ پولیس جس کاکام عوام کو تحفظ دینا ہے اس کو ڈاکے مارنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقابلہ جمہوری لوگوں سے نہیں بلکہ مافیا سے ہے جن کا کام اس ملک میں پیسے بنا کر باہر لے جانا ہے ۔ یہ ملک پر قبضہ کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے لوگ سب سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں ۔ ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ آپ پر 25جولائی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ 2013کے الیکشن سے تین روز قبل میں نے ہسپتال کے بستر سے کہا تھا کہ میں تو پانچ سال برداشت کرلوں لیکن کیا پاکستان کے لوگو تم برداشت کرسکو گے! عمران خان نے کہا کہ انہوں نے میثاق جمہوریت ذاتی مفادات کے لئے کیا تھا ۔ ٹیکس کی مد میں جوپیسہ اکٹھا کیا جاتا ہے وہ چوری اور منی لانڈرنگ کی نذر ہو جاتا ہے ۔ کے پی میں غربت آدھی ہوئی ہے ۔ پولیس کا نظام اور تعلیم کا نظام کے پی میں ہم نے ٹھیک کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے موقع دیا کہ میں ثابت کرکے دکھاﺅں کہ کراچی کو کیسے ٹھیک کرنا ہے ۔ میئر کا ڈائریکٹ انتخاب کروائیں گے ۔ کراچی میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔پیپلز پارٹی اندرون سندھ سے منتخب ہوتی ہے اس کو کراچی کی فکر نہیں ہے اور ایم کیو ایم کراچی سے منتخب ہوتی ہے اور کہتی ہے کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ غربت اندرون سندھ میں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ پہلے ہی سے تیاری کررہے ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور اس کے ساتھ ہندوستان کے میڈیا کو بڑی فکر ہے کہ پاکستان کے الیکشن میںدھاندلی ہو رہی ہے ۔ ان کو نوازشریف کی فکر ہے کیونکہ اسے نے فوج کو بدنام کیا ہے ۔ ماضی میں فوج پر کئی بار تنقید کی گئی جنہوں نے فوج پر تنقید کی انہوں نے اس کی تعریف کی ۔ یہ ہر فورم پر فوج کو بدنام کرتے ہیں۔ ہم اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی ہے۔ اگر فوج نہ ہوتی تو کراچی میں امن کیسے ہوتا ؟ اگر کراچی میں رینجرز آپریشن نہ کرتے تو کیا جان و مال کی حفاظت تھی ؟انہوں نے کہا کہ ملک اور فوج کے خلاف سازش چل رہی ہے ۔ جن مسلمان ملکوں کے پاس فوج مضبوط نہیں تھی ان کا حشر کردیا گیا ہے ۔ ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ہم پر مضبوط فوج ہے اگر ہمارے پاس مضبوط فوج نہ ہوتی تو اس وقت تک ملک کے چار حصے ہوجانے تھے۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain