ملتان ‘سلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کے صدر شہبا ز شریف نے کہا ہے کہ میں 1996ءمیں اڈیالہ جیل میں ساڑھے پانچ ماہ قید رہا۔ حالات کا جبر ہے کہ آج اسی سیل میں نواز شریف بھی قید تنہائی میں ہیں۔ایک روز میری طبیعت کافی خراب تھی لیکن ڈاکٹر کو نہیں لایا گیا میں نے بار بار سیل کو ٹانگیں ماریں جب پولیس والے آئے تو میں نے کہا میں بھی انسان ہوں علاج میرا حق ہے ۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا ہے پہلے روز نواز شریف کو سونے کے لئے بیڈ وغیرہ نہیں دیا گیا زمین پر ہی لٹایا گیا۔ٹوائلٹ میں اتنی غلاظت تھی کہ جانور بھی استعمال نہیں کر سکتا تھا۔جیل میں سہولت کا فقدان نہیں لیکن تین مرتبہ وزیراعظم بننے والے شخص کو نگران حکومت نے بنیادی سہولیات سے محروم رکھا موجودہ نگران حکومت اور پی ٹی آئی ایک ہی ہیں۔ ۔۔عمران خان میرے جیل میں جانے سے متعلق کئی بار بیان دے چکے ہیں عابد باکسر کو میں کبھی زندگی میں ملا ہی نہیں۔گلبرگ تھانے میں جب عابد باکسر تعینات تھا تو میں نے اسے معطل کیا تھا بس یہ سارا قصہ ہے اس کے علاوہ میں اسے جانتا تک نہیں۔عمران خان کہتے ہیں میں خطرناک آدمی ہوں ہاں عمران خان کے حوالے سے میں واقعی خطرناک آدمی ہوں میں نے پنجاب کی بہت خدمت کی۔چیئرمین نیب کی تعیناتی کس طرح ہوئی یہ میں چھبیس جولائی کو بتاﺅں گا۔میں نے قوم کے بڑے پیسے بچائے اور مجھ پر صاف پانی سکینڈل کا الزام لگا دیا گیا۔نواز شریف کی تیرہ جولائی کو واپسی پر میں نے اپنے تیس سالہ دور میں اس سے زیادہ جذباتی استقبال نہیں دیکھا جیسے نواز شریف کا استقبال کیا گیا۔ ن لیگ کے ہزاروں ورکرز کو گرفتار کیا گیا لیکن ایک گملا تک نہیں ٹوٹا۔ہماری پارٹی کو دیوار سے لگانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ بوڑھی ماں کو نواز شریف سے ملنے نہیں دیا گیا۔احد چیمہ کو جب گرفتار کیا گیا تو شور اٹھا طوطے کی جان اس میں ہے مگر میرے خلاف کچھ نہیں نکلوا سکے۔میں نیب کو چیلنج کرتا ہوں میں نے قوم کے 160ارب بچائے اگر نہیں بچائے تو میں الیکشن چھوڑ دوں گا۔تیرہ جولائی کو ہم نے حالات خراب ہونے سے بچائے اگر کوئی بلوہ ہو جاتا تو الیکشن تو بھاڑ میں چلے جاتے۔ووٹ کو عزت اور خدمت کو عزت دونوں چیزیں جڑی ہوئی ہیں۔ناصر الملک بڑے معزز جج رہے میں ان سے کہتا ہوں پی ایم ایل این کو دیوار سے لگانے کا نوٹس لیں۔چھبیس جولائی کا سورج ن لیگ کا سورج ہے مرکز اور صوبوں میں ہماری حکومت بنے گی۔عمران خان یو ٹرن کے بادشاہ ہیں۔اس بات میں کوئی سچائی نہیں کہ ریحام خان سے کتاب میں نے لکھوائی ایسے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔2018کے الیکشن” مدر آف الیکشن“ ہیں۔عوام دھاندلی نہیں ہونے دیں گے۔دھاندلی ہوئی یا نہیں اس کا پچیس جولائی کی رات کو بتاﺅں گا۔ہمیں جیپ کے ووٹوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔چوہدری نثار نواز شریف کے بہت قریب تھے ۔وزیراعظم بننے کے بعد میں سب سے پہلے پانی کا مسئلہ حل کروں گادوسرے نمبر پر پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کروں گاتیسرے نمبر پر تعلیم اور صحت کے میدان میں کام کریں گے۔بھارت کشمیر میں جو ظلم کر رہا ہے وہ سب کو معلوم ہے کشمیر اسی طرح آزاد ہو گا جس طرح دیوار برلن گر گئی۔ پاکستانی قوم بہت باصلاحیت ہے ہم ہندوستا ن کو کئی محاذوں پر پچھاڑیں گے۔ہم نے ملک کی خدمت کی بھارت کبھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج ہم معاشی طور پر آزاد نہیں، معاشی آزادی کے حصول تک دنیا ہمیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گی، حکومت میرا مطمع نظر نہیں، میری ایک ہی خواہش اور جستجو ہے کہ وطن پاک کے لئے جو کر سکوں کر جاﺅں، نوازشریف سے ایٹمی دھماکوں، لوڈ شیڈنگ ختم کرنے، سی پیک اور موٹرویز بنانے کا کریڈٹ کوئی نہیں چھین سکتا، ہمیں بطور قوم سوچنا چاہئے ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارا ملک آگے جانے کی بجائے پیچھے رہ گیا۔مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، تحریک انصاف اور پنجاب حکومت اکٹھے ہیں۔ پولیس، انتظامیہ اور الیکشن کمیشن نے دھاندلی نہ روکی تو عوامی سیلاب نہیں روک سکوں گا اور خود عوامی سیلاب کے آگے ہو کر گولی کھاﺅں گا۔ ملتان میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ الیکشن سے چار روز قبل حنیف عباسی کو سزا سنائے جانے کے بعد اب اس میں کیا شک رہ گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے لیکن اب ہم اس دیوار کو 25 جولائی کو گرائیں گے۔ ترکی کے صدر طیب اردوان نے مجھے فون کر کے میرا، نوازشریف اور مریم نواز کا حال پوچھا ہے جس پر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ترکی کے صدر نے یقین دلایا ہے کہ وہ پاکستان کو ترکی بنانے میں میری مدد کریں گے۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ تم میرے بھائی ہو تم جو کہو گے میں کروں گا۔ میں نے ترک صدر سے اپنے لئے دُعا کرنے کی درخواست کی ہے۔ نوازشریف سے ایسا سلوک کیا جا رہا ہے جیسے پاکستان سے دشمنی کی ہو۔ شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں پوچھتا ہوں کہ سب کو تاریخیں مل گئیں لیکن حنیف عباسی کو کس طرح الیکشن سے چار روز قبل الیکشن سے الگ کر دیا گیا؟ یہ اس لئے کیا ہے کہ شیخ چلی اس حلقے سے 70 ہزار ووٹ سے ہار رہا تھا۔ ہم نے ملتان میں میٹرو بس بنائی جو عوام کے لئے تحفہ ہے۔ میں نے عمران خان کو ہزار مرتبہ چیلنج کیا ہے کہ میرے خلاف کرپشن کا ثبوت لے کر آﺅ لیکن وہ کوئی ثبوت لے کر نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تحریک انصاف اور پنجاب حکومت اکٹھے ہیں۔ میں عمران خان سے کہتا ہوں کہ ملتان میٹرو میں میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن بھی نکل آئی تو میں ہمیشہ کے لئے سیاست چھوڑ دوں گا۔ اگر میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو تو مجھے پھانسی پر چڑھا دو اور اگر عمران خان تمہارے خلاف پشاور میٹرو میں کرپشن ثابت ہو جائے تو کسی پیر کے پاس جا کر چلہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ اب الیکشن میں صرف دو دن رہ گئے ہیں اور اگر نیب نے، الیکشن کمیشن نے اور نگران حکومت نے دھاندلی کو نہ روکا تو پھر میں عوامی سیلاب نہیں روک سکوں گا۔ سیلاب کے آگے میں ہوں گا اور گولی کھاﺅں گا۔






































