تازہ تر ین

میڈیا کو درپیش چیلنجز کا بھر پور مقابلہ کرینگے: میڈیا کنونشن اعلامیہ ، سی پی این ای کے کنونشن میں موثر روابط اور اتحاد کی عملی تشکیل پر اتفاق

اسلام آباد (پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے گزشتہ جمعہ کو منعقدہ سی پی این ای ”پاکستان میڈیا کنونشن 2019ئ“ میں منظور کردہ اعلان نامے کے خاص نکات کو جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیا کنونشن میں میڈیا کی آزادی، میڈیا قوانین، میڈیا پر پابندیاں، میڈیا کے اقتصادی مسائل، جدید میڈیا ٹیکنالوجی، میڈیا کی سا لمیت اور بقا، میڈیا کے باہمی اتحاد اور یکجہتی کے موضوعات پر منعقدہ مباحثوں میں سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ کنونشن میں آزادی اظہار، میڈیا کی آزادی کو درپیش خطرات اور خدشات کا تفصیلی جائزہ لے کر میڈیا کو درپیش چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کرنے کا عزم مصمم کیا گیا۔ کنونشن میں اتفاق کیا گیا کہ عوام اور میڈیا کی جمہوری حاصلات کو غصب کرنے ، قدغن اور نقب لگانے کے مقصد سے کسی بھی اقدام کی ریاستی اور حکومتی اہلکاروں سمیت کسی بھی ادارے اور فرد کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ کنونشن کے اعلان نامے میں میڈیا کے اداروں اور ان کے کارکنوں کے مصائب، مسائل اور پریشانیوں کی جانب ریاستی اور وفاقی حکومت کے رویہ کو ظالمانہ، بے اعتنائی اور بے حسی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے آزادی صحافت، آزادی اظہار اور عوام کے حق آگہی پر بالواسطہ مہلک اور کاری حملہ قرار دیا ہے۔کنونشن میں میڈیا سے متعلق وفاقی حکومت کے مجوزہ خصوصی قوانین کو جمہوری روایات، آزادی اظہار، میڈیا کی آزادی، اطلاعات تک رسائی اور آگہی سمیت بنیادی انسانی حقوق پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے اور میڈیا کے لئے مجوزہ قانون سازی میں میڈیا کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہ کرنے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ میڈیا کی آزادی میں ریاستی، غیر ریاستی اور حکومتی مداخلت سمیت ہر غیر ضروری عمل دخل اور مداخلت کی بھرپور مخالفت کی جائے گی ، اسے ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گااور اس کی بھرپور مزاحمت بھی کی جائے گی۔ کنونشن کے شرکاءنے اعلان نامے کے ذریعے واضح پیغام دیا ہے کہ آزاد میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں معلومات کی آزادانہ ترسیل، عوامی دلچسپی کے معاملات پر توجہ، شفافیت اور احتساب کے لئے آزادی اظہار اور دیگر انسانی حقوق کے فروغ اور اسے تحفظ دینے میں آزاد میڈیا اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔ اعلان نامے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا پریکٹیشنرز کو اس امر کا بخوبی ادراک اور احساس ہے کہ آزادی صحافت کا ذمہ دارانہ استعمال بھی ازحد ضروری ہے اور غیر اخلاقی میڈیا پریکٹس کی اجازت ہر گز نہیں ہونی چاہئے، اس کے لئے میڈیا میں ایک متفقہ رضاکارانہ ضابطہ اخلاق کی تشکیل اور استعمال پر زور دینا چاہئے کیونکہ اخلاقی پریکٹس کی مانیٹرنگ صرف رضاکارانہ طور پر تشکیل شدہ ادارے ہی کر سکتے ہیں، جبکہ خلاف ورزیوں کی مانیٹرنگ اور کاروائی کو رضاکارانہ بنیادوں پر تشکیل کئے جانے والے میڈیا کمیشن کے سپرد کیا جانا چاہئے۔ اعلامیہ میں آزادی اظہار اور آزادی صحافت اور جدید میڈیا ٹیکنالوجی کے پھیلاو¿ کے ثمرات کو ملک کے تمام دور افتادہ اور محروم علاقوں، شہروں، دیہاتوں اور دیگر نچلی سطحوں پر پہنچانے کے لئے سازگار ماحول کی تشکیل کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا اور اس ضمن میں چھوٹے شہروں اور پسماندہ علاقوں سمیت ملک کے تمام حصوں کے مقامی پریس کلبوں ، مقامی میڈیا تنظیموں ، مین اسٹریم میڈیا اور ان کی تنظیموں کے ساتھ روابط مربوط کرنے کے لئے مو¿ثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کنونشن میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ مقامی اور علاقائی میڈیا کو ریاست اور حکومت کی عدم سرپرستی اور میڈیا پالیسی کی وجہ سے فروغ حاصل نہیں ہو سکا ہے جس کے نتیجے میں میڈیا کے شعبے میں مقامی سطح پر لاکھوں افراد کے روزگار کے امکانات اور مواقع کا اور سب سے بڑھ کر عوام کے حق آگہی، حق اظہار اور معلومات تک رسائی کے حقوق کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی اور علاقائی میڈیا کی غیر موجودگی کی وجہ سے عوام کے مقامی مسائل، مقامی قیادت، مقامی معیشت، مقامی تشہیر (ایڈورٹائزنگ) اور مقامی ثقافت پس پشت دھکیل دیئے گئے ہیں، اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل کرنے کے باوجود میڈیا سے متعلق امور صوبوں سے مقامی سطح پر منتقل نہ ہو سکے ہیں، یوںعوام کے بنیادی حقوق کی مقامی سطح پر بے قدری، بے اختیاری اور پابندی بدستور ہے۔ میڈیا کنونشن نے میڈیا کے شعبے میں لاکھوں لوگوں کے روزگار کے اسباب اور وسائل دستیاب کرنے کی غرض سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے مقامی میڈیا کی تشکیل اور فروغ پر بھی زور دیا ہے تاکہ مقامی قیادت، مقامی زندگی، مقامی معیشت، مقامی تشہیر ، مقامی سیاست اور مقامی ثقافت کو مقامی میڈیا کے ذریعے اجاگر کیا جا سکے، جس سے لاکھوں مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی کے مواقع بھی حاصل ہوں گے۔ میڈیا پالیسی کا مقصد ایسے سازگار عوامل پیدا کرنا ہوگا جس کے ذریعے نہ صرف عوام کے بنیادی حقوق کی بجا آوری ہو بلکہ میڈیا کے شعبے کو بھی فروغ حاصل ہو سکے۔ اعلان نامے میں صحافت اور میڈیا کو مقامی سطح یعنی تمام ضلعوں اور تحصیلوں تک منتقلی، رسائی اور پھیلاو¿ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ مقامی مسائل کی نشاندہی ممکن ہو سکے اور مقامی قیادت، مقامی ترقی، مقامی ثقافت، مقامی معیشت کو فروغ حاصل ہو سکے۔ان اقدامات سے ملک کے اندر ایک آزاد، مضبوط اور متحرک (dynamic) میڈیا کے ذریعے پاکستان کے عوام کی بالواسطہ طور پر خود اختیاری کی سطح میں ایک نمایاں اضافہ ہوگا۔ ایک روبہ ترقی جمہوری کلچر پروان چڑھے گا اور جمہوریت بھی مستحکم ہوگی جہاں آمریت کے امکانات ختم ہوں گے وہاں معیشت میں ترقی کی نئی راہوں کے متعلق عوامی سطح پر آگہی میں بھی اضافہ ہوگا۔ عملیت پسندی بڑھے گی، مایوسیوں اور عدم تحفظ اور بے گانگی میں کمی آئے گی۔ کنونشن میں وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے سرکاری اشتہارات کی تقسیم میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے مقامی اور علاقائی اخبارات کو یکسر نظرانداز کئے جانے کومیڈیا کے لئے زہر قاتل قرار دیتے ہوئے نام نہاد مساویانہ اشتہارات کی تقسیم کی بے نتیجہ پالیسی کے نام پر علاقائی اور درمیانے درجے کے اخبارات کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے لہٰذا فوری طور پر اشتہارات کی تقسیم کے لئے ایک منصفانہ لیکن نتیجہ خیز پالیسی تشکیل دی جائے تاکہ چھوٹے ، مقامی اور علاقائی اخبارات کو معاشی طور پر مستحکم کیا جا سکے۔ کنونشن نے وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے مقامی اور علاقائی میڈیا کے مسائل کے حل کے لئے سی پی این ای کی تفصیلی تجاویز پر عملدرآمد کی یقین دہانی کا خیر مقدم کیا۔کنونشن میں وفاقی وزیر اطلاعات کو بتایا گیا کہ پاکستان میں پرنٹ میڈیا بھی جدید تقاضوں اور رجحانات سے مرصع ہو رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی ضرورت اور اثر پذیری کا احیاءہو رہا ہے۔ نئے رجحانات اور مہارتوں کے ذریعے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مقامی اخبارات ور مخصوص موضوعات کے جرائد کی ضرورت اور مارکیٹ میں وسعت کی صورتحال موجود ہے جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کنونشن نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ پرنٹ میڈیا کے لئے کسی بھی نئے قانون کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔کنونشن کے تمام شرکاءنے سی پی این ای کے صدر عارف نظامی کو کامیاب کنونشن کے انعقاد پر مبارکباد دی اورانتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور سی پی این ای کو اختیار دیا کہ وہ پرنٹ، ریڈیو، ٹی وی اور ڈیجیٹل میڈیا سے تعلق رکھنے والے تمام میڈیا پریکٹیشنرز میں مربوط روابط، یکجہتی اور باہمی اتحادکو عملی شکل دینے کے لئے ہر ممکن اور ضروری تدابیر اختیار کرے تاکہ ملک کے تمام میڈیا پریکٹیشنرز کے درمیان مربوط تعاون کو عملی شکل دی جا سکے۔ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے بتایا کہ اس سلسلے میں سی پی این ای کے صدر عارف نظامی مزید لائحہ عمل اور پروگرام کا جلد ہی اعلان کریں گے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain