Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • یمنی حوثیوں کے سعودی عرب میں نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے
    • سوشل میڈیا پر حکومت مخالف بیانیہ پھیلانے والے سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
    • پاکستانی بولر کا وسیم اکرم کی رہنمائی سے انکار، بھارتی صارف کا دعویٰ سابق کپتان نے من گھڑت قرار دے دیا
    • پاکستان کا ایک اور اعزاز،شاہ زیب خان نے ورلڈ تائیکوانڈو پریزیڈنٹ کپ میں کانسی کا تمغہ جیت لیا
    • ریاض ایئر کی پہلی پرواز لاہور پہنچ گئی، پاک سعودی فضائی روابط مزید مضبوط
    • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، ریٹ 5 لاکھ روپے کے قریب پہنچ گیا
    • آئی سی سی نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم سے ڈی میرٹ پوائنٹ واپس لے لیا
    • پاکستان میں الرٹ: نیا میل ویئر حکومتی اداروں اور تنظیموں کو نشانہ بنا رہا ہے
    • سعودی عرب یمن کے حوثیوں کو قابو نہیں کر سکے گا: پاسدارانِ انقلاب
    • ایران کا آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کا آئل ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ
    • کراچی کو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا مرکز بنانے کا بڑا منصوبہ
    • اسپیس ایکس راکٹ کی چاند سے ٹکر، ناسا نے گڑھے کی تصویر جاری کر دی
    • کراچی میں آوارہ کتوں نے 24سالہ نوجوان کی جان لے لی،ہلاکتوں کی تعداد 18 ہوگئی
    • پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، الیکشن کمیشن
    • مصباح ارشد مس یونیورس پاکستان منتخب ؕ،عالمی مقابلے میں نمائندگی کرینگی
    • چین: رئیل اسٹیٹ کمپنی کے ارب پتی مالک کو عمر قید اور ایک ارب ڈالرز سے زائد جرمانہ
    • ہیڈنگلے ٹیسٹ: روبنسن اور ٹنگ نے گیند کے دو ٹکڑے کرکے آپس میں بانٹ لیے
    • امریکی اقتصادی دہشتگردی عالمی معیشت کیلئے خطرہ ہے، عباس عراقچی
    • امریکا میں امیگریشن قوانین سخت، گرین کارڈ اور اسٹوڈنٹ ویزا کے ساتھ میڈیا ویزا بھی نئی پابندیوں کی زد میں
    • ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں 3-5 سے شکست، ایونٹ سے باہر
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ایران پر امریکی حملہ: اصل ہدف پاکستان؟

    By Daily Khabrainمئی 28, 2019
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور(ویب ڈیسک)امریکا نے ایران کے خلاف جنگ کے اشارے دیتے ہوئے خلیج فارس میں اپنے دو جنگی بحری بیڑے تعینات کردیئے ہیں لیکن خطے کی صورتِ حال سے آگاہ لوگ جانتے ہیں کہ امریکا، ایران پر حملہ نہیں کرسکتا۔ ایران پر امریکی حملہ نہ کرنے کی بے شمار وجوہ ہیں۔ ان پر روشنی بعد میں ڈالتے ہیں، پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اگر ایران پر امریکی حملہ ممکن نہیں تو پھر امریکا نے کروڑوں ڈالر خرچ کرکے خلیج فارس میں اپنے بحری بیڑے کیوں تعینا ت کیے ہیں؟امریکا کی جانب سے یہ اقدام دھمکی کا آخری درجہ کہلایا جاسکتا ہے جب امریکا، ایران کےلیے اپنے جنگی بحری بیڑے خلیج فارس میں لے آیا ہے جس کے ساتھ بی 52 بمبار طیارے بھی موجود ہیں۔ اس ساری صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ایران کے رہنماو¿ں کی جانب سے جس طرح رویّے کا مظاہرہ کیا جارہا ہے وہ حیران کن ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے بڑے مطمئن انداز میں یہ جملے ادا کیے: ”مطمئن رہیے! جنگ کسی صورت نہیں ہوگی۔ امریکا ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔“زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ایران پر امریکی حملہ ایک بہت بڑی حماقت ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کے نتیجے میں خلیج فارس کے راستے روزانہ کی بنیاد پر یورپ کو فراہم ہونے والی تیل کی سپلائی، جو دنیا کا 35 سے 40 فیصد ہے، منقطع ہوجائے گی۔ اس حوالے سے دوسری اور بہت اہم وجہ کی وضاحت میں اپنے پچھلے بلاگ میں کرچکا ہوں کہ امریکا کی ایران پر حملے کی غلطی کا خمیازہ براہ راست اسرائیل کو بھگتنا پڑے گا اور اسرائیل کا وجود یقینی طور پر قائم نہیں رہ سکے گا۔اگر امریکا کی جانب سے یہ اقدامات ایران کےلیے نہیں تو پھر ان کا نشانہ کون ہے؟ یہ بات سمجھنے کےلیے اس خطے کے محل وقوع اور ممالک کی معاشی طاقت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔جنوبی ایشیا میں سب سے مہنگا، طویل اور کثیر جہتی منصوبہ صرف ایک ہی ہے جو ”سی پیک“ کے نام سے مشہور ہے۔ اس منصوبے میں چینی حکومت، پاکستانی حکومت کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے تقریباً 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہی ہے جبکہ اس رقم میں اس صورت میں مزید اضافہ ممکن ہے جب اس منصوبے میں دیگر ممالک کو شمولیت کی دعوت دی جائے۔ سی پیک میں ہونے والی سرمایہ کاری اس خطے کے کسی بھی دوممالک کے مابین مشترکہ طورپر ہونے والی سب سےبڑی سرمایہ کاری بھی ہے۔آج تک دنیا میں ہونےوالی تمام ہی جنگوں کی بنیادی وجہ پیسہ ہے۔ جس ملک نے کسی دوسرے ملک پر حملہ کیا، اس میں نظریاتی اختلاف کو ثانوی حیثیت حاصل رہی ہے جبکہ اس ملک کا پیسہ اور اس ملک پر قابض ہونے کے بعد ہونے والا فائدہ ہی جنگ کی بنیادی وجہ رہا ہے۔اس وقت امریکا دنیا میں عالمی طاقت ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جیسے چاہتا ہے کرتا ہے، لیکن اب طاقت کی جگہ معیشت نے لےلی ہے۔ اب جو ملک معاشی اعتبار سے مضبوط ہے، وہی سپر پاور کہلانے کا حقدار ہے؛ اور چین اس وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن کر ابھر رہا ہے۔ امریکا اپنے مقابلے میں کسی کو بھی کبھی مستحکم نہیں دیکھ سکتا، اس لیے وہ بڑی عیاری اور ہوشیاری سے اپنی حکمت عملی پر کام کررہا ہے۔یہ کہا جائے کہ امریکا جو شطرنج کی بساط بچھا رہا ہے، چین نے اس کا اندازہ وقت سے قبل ہی کرلیا ہے۔ اگر میرا تجزیہ غلط ہے تو میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ ایک جانب امریکا خلیج فارس میں اپنے بحری بیڑوں اور بمبارطیاروں کے ساتھ موجود ہے لیکن وہ جس کو دھمکا رہا ہے، اس ملک کے قائدین اپنے عوام کو یقین دلارہے ہیں کہ جنگ نہیں ہوگی؛ جبکہ دوسری جانب وہ ملک جس کا بظاہر کوئی کردار ہی نہیں، اس کا وزیراعظم اپنے ماتحت حکومتی شخصیات کے ساتھ چین کے جنگی تاریخی مقامات کا دورہ کررہا ہے۔ چین میں ایک جنگی ماحول کیوں پیدا ہے؟ جنگی نغمے اور جنگی دستاویزی فلمیں سرکاری ٹی وی پر کیوں چلائی جارہی ہیں؟ جبکہ چینی فوج کی جانب سے جنگی مشقیں بھی شروع کردی گئی ہیں۔کچھ روز قبل چین کے وزیراعظم نے صدر اور دیگر حکومتی اہم شخصیات کے ساتھ چیئرمین ماو¿زے تنگ کے اس مقام کا دورہ کیا جہاں سے ماو¿زے تنگ نے چیانگ کائی شیک کے خلاف لانگ مارچ شروع کیا تھا۔ لانگ مارچ کے اس مقام کو چین میں ایک مقدس مقام کی طرح سمجھا جاتا ہے جہاں سے چین نے ایک نئی تاریخ کا آغاز کیا تھا۔ تو اگر یہ کہا جائے کہ امریکا ایران پر حملہ آور نہیں ہورہا بلکہ اس کا نشانہ یا تو چین ہے یا پھر پاکستان تو شائد غلط نہیں ہوگا۔چین پر حملے کا جواز تو ممکن ہے کہ اس کی معیشت ہو لیکن پاکستان پر حملے کی وجوہ کیا ہیں؟ اس پر میں اپنے تجزیئے کے مطابق کچھ روشنی ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک اہم ترین ٹرائیکا کا ذکر تو میں بھول ہی گیا۔ یہ بھارت، اسرائیل اور امریکا کی مثلث ہے۔ اگرچہ بھارت سے اس میں ٹشو پیپر کا کردار ادا کروایا جارہا ہے لیکن بہرحال ان تینوں کا گٹھ جوڑ دنیا میں مقبول ہے۔صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو معاملے کی نزاکت کا احساس بخوبی ہوجائے گا۔سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ پر کام تیزی سے جاری ہے۔ بھارت کے دیرینہ دوست اور امریکا کے حریف روس کی اس میں دلچسپی بھی ہے۔ یہ وہی روس ہے جس نے گرم پانیوں تک رسائی کےلیے تباہی کا راستہ اختیار کیا اور آخرکار ناکام ہوا۔ اب اس نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے میں شمولیت کی غیراعلانیہ خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس طرح پاکستان، چین اور روس تقریباً ایک صفحے پر ہیں جبکہ امریکا، بھارت اور اسرائیل ہمیشہ کی طرح دوسری جانب۔ پاکستان کے ساتھ اسرائیل کی دشمنی کوئی نئی نہیں، اس حوالے سے پہلے بہت کچھ لکھ چکا ہوں تو میرا خیال ہے یہاں تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ہندوستان آج بھی پاکستان کو ”اکھنڈ بھارت“ کا حصہ تصورکرتا ہے اور پاکستان کو تباہ کرنے کے خواب دیکھتا رہتا ہے۔ اس میں اس کا ہر ممکن ساتھ اسرائیل اور امریکا بھی دیتے ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردوں کی سرپرستی ہو یا ملک میں فرقہ ورانہ فسادات، بھارت کا کردار سب ہی جگہ ملتا ہے۔ اب یہاں پر خطے میں ہونے والے حالات میں تبدیلی کا وقت دیکھیے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تنازعہ شروع ہوا جس کی کوئی عقلی دلیل نہیں تھی، حتیٰ کہ امریکی صدر کے اس فیصلے کو خود امریکی حکومت کے عہدیداروں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ معاملہ ایسے ہی چلتا رہا اور آخرکار بھارت میں انتخابات کا وقت آگیا۔بھارت میں نریندر مودی کی مقبولیت میں واضح کمی ہونے کے باوجود بھاری مینڈیٹ سے فتح نے سیاسی بازیگروں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ نریندر مودی مسلمانوں کے کھلے دشمن سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے بہت سے القابات میں سے ایک لقب گجرات کا قصائی بھی ہے۔ انہوں نے بطور وزیراعلیٰ گجرات مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا تھا اور اس پر کبھی بھی شرمندگی کا اظہاربھی نہیں کیا۔پاکستان اور چین کا حقہ پانی بند کرنے کےلیے ایک منظم جال تیار کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں نریندر مودی کو بالکل اسی طرح پالا جارہا ہے جس طرح جرمنی میں ہٹلر کو پالا گیا تھا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کہا جاتا ہے کہ ہٹلر نے 60 لاکھ یہودیوں کا قتل کیا جبکہ جرمنی میں اس وقت یہودیوں کی تعداد کوئی 20 لاکھ سے کسی صورت زیادہ نہیں تھی۔ جیسے ہٹلر کو تیار کیا گیا تھا، ویسے ہی نریندر مودی کو تیار کیا جا رہا ہے۔ یہودیوں کے بڑے اور ذہین دماغوں نے ہٹلر سے اپنے ہی غریب اور کمزور یہودیوں کا قتل عام کروا کر یہودیوں کےلیے ایک آزاد وطن کا جواز پیدا کیا جس کےبعد امریکا اور برطانیہ نے فلسطینی سرزمین پر یہودیہوں کی رہائش کےلیے مجرمانہ طور پر بالفورمعاہدہ کیا۔میرا خیال ہے کہ نریندر مودی کو ہٹلر کی طرح تیار کیا جارہا ہے کیونکہ ہٹلر قتل و غارت اور جنگ نہیں چاہتا تھا۔ ہٹلر نے اپنی یادداشتوں میں اس کا ذکر کیا ہے۔ اس نے کہا کہ میں جنگ نہیں چاہتا تھا لیکن جو وعدے اور معاہدے میں قوم سے کرچکا تھا، میں ان سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا۔ یہی کچھ نریندر مودی کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔مسلمان دشمنی پر جس طرح وہ الیکشن میں کامیابیاں حاصل کررہا ہے، اب اگر وہ اپنے وعدوں سے منکر ہوتا ہے تو اس کے عوام شدت پسند ہندو اس کو چین سے رہنے نہیں دیں گے۔ یوں اگر امریکا پاکستان کے خلاف کوئی بھی کارستانی کرتا ہے تو مودی کو اس میں لازمی شریک بننا پڑے گا۔امریکا ایران کا بہانہ بنا کر پاکستان سے بلوچستان میں اپنی فوجوں کی موجود گی کا مطالبہ کرسکتا ہے کیونکہ بلوچستان کی سرحد ایران سے ملتی ہے۔ جی! یہی وہ بلوچستان ہے جہاں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے معصوم بلوچوں پر لاکھوں ڈالرکی سرمایہ کاری کی جارہی ہے اور انہیں شدت سے یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ان کے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں۔میرے مطابق پاکستان کو چاروں طرف سے گھیرا جارہا ہے۔ ملک میں ڈالر کا مصنوعی بحران، سیاسی عدم استحکام، بیرونی قرضے، معیشت کا برا حال، افغانستان کی سرحد سے دہشت گردوں کی دراندازی، بھارتی سرحد سے مسلسل بڑھتا ہوا خطرہ، یہ سارے اشارے پاکستان کے خلاف ہی جارہے ہیں۔دشمن ہر طرح سے منظم اور مستحکم ہیں اور ہمارے ملک کے سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ کہاں ہیں ہمارے ذہین دماغ، کہاں ہیں وہ لوگ جو ملکی سلامتی کےلیے مصروف ہیں۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں پر سنگین الزامات ہیں اور سب ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کےلیے سر دھڑ کی بازی لگارہے ہیں۔ کسی کو خبر ہی نہیں کہ دشمن سر پر پہنچ گیا ہے۔ایک جانب وہ چینی ہیں جو ایک قوم ہوکر دشمن کے مقابلے کےلیے ایک جان ہورہے ہیں تو دوسری جانب خود کو مسلمان کہنے والے اپنے بھائیوں پر الزامات لگا رہے ہیں۔ پاکستانی قوم کو بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر سیاسی اور دیگراختلافات بھلا کر ملک پاکستان کی حفاظت کےلیے ایک ہونا ہی پڑے گا کیونکہ دشمن کی نظرمیں ہم صرف مسلمان ہیں اور پاکستانی۔ وہ ہمیں مارتے ہوئے یہ نہیں دیکھے گا کہ سنی کون ہے، شیعہ کون ہے یا دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، مہاجر، پٹھان، پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی، گلگتی، بلتی اور ہزارہ، وہ تو بس ہمیں قتل کرے گا اور تباہ کرے گا۔پاکستان تو ان شائ اللہ روز قیامت تک قائم رہنےکےلیے بنا ہے لیکن ہم بطور قوم دنیا کی بدترین قوم کے نام سے یاد رکھے جائیں گے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      یمنی حوثیوں کے سعودی عرب میں نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے

      سوشل میڈیا پر حکومت مخالف بیانیہ پھیلانے والے سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

      پاکستانی بولر کا وسیم اکرم کی رہنمائی سے انکار، بھارتی صارف کا دعویٰ سابق کپتان نے من گھڑت قرار دے دیا

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.