تازہ تر ین

ٹیپ میں ٹمپرنگ ثابت ہوئی تو ن لیگ کیلئے سنگین نتائج سامنے آئینگے : اعتزاز احسن

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ مریم نواز نے ویڈیو ٹیپ سامنے لا کر سیاسی اعتبار سے چھوٹا سا دھماکہ تو کیا ہے تاہم اب قانونی اعتبار سے اسے ثابت کرنا انہی پر بار ثبوت ہے۔ قانونی شہادت کے مطابق انہیں اصل ٹیپ عدالت میں پیش کرنا ہوگی صرف جلسے میں اسے دکھانے سے نوازشریف کو رہائی نہیں مل سکتی۔ ٹیپ اگر جینوئن ہے ایڈٹ نہیں کی گئی تو ن لیگ اور مریم کو پہلے ہی دن سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائی کورٹ جا کر دستک دینا اور کہنا چاہئے تھا کہ یہ ثبوت آ گیا ہے نوازشریف کو رہا کیا جائے تاہم ان کا ابھی تک عدالت نہ جانا سمجھ سے بالا ہے۔ یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ سینئر لیگی قیادت کیوں ٹیپ کو عدالت نہیں لے جا رہی۔ جج ارشد ملک نے ٹیپ کی صحت سے انکار کر دیا ہے اس لئے یہ معاملہ محترمہ بینظیر شہید اور زرداری کیس سے مختلف ہے، ان کیخلاف آڈیو سامنے آئی تھی تو اسے سیدھا سپریم کورٹ لے کر گئے تھے۔ اس وقت سیف الرحمان، شہباز شریف، جسٹس قیوم ملک یا جسٹس راشد عزیز کسی نے بھی اس ٹیپ کی صداقت سے انکار نہیں کیا تھا اس لئے سپریم کورٹ کو اس کا فیصلہ کرنے میں آسانی تھی۔ مریم نواز کو تو بڑا تذبذب ہونا چاہئے کہ باپ جیل میں ہے اور اس کی بیگناہی کا ثبوت آ گیا ہے تو اسے فوری لے کر عدالت میں جاتیں۔ اگر یہ معاملہ عدالت میں نہیں لے جایا جاتا تو سمجھا جائے گا کہ اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا اور صرف سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں نوازشریف کی رہائی حاصل کرنا مقصود نہیں ہے۔ اصل ٹیپ کا فرانزک کرائے جانے تک اصل حقائق سامنے نہیں آ سکتے کہ جھوٹا کون ہے یہ بتانا ہو گا کہ ویڈیو آڈیو ٹیپ کو کسی سٹوڈیو میں جوڑا گیا جس نے یہ کام کیا اسے عدالت میں طلب کیا جائے گا۔ اگر ٹیپ فرانزک کے بعد ٹھیک ثابت ہوئی تو عدالت فیصلہ کرے گی کہ جج جھوٹا ہے اور اگر ٹیپ میں ٹمپرنگ ثابت ہوئی تو ن لیگ کیلئے قانونی طور پر سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ ن لیگ کی ساری قیادت جو مریم کے ساتھ تائید کے لئے بیٹھی تھی پر فرد جرم عائد ہو گی ان پر عدالتی عمل کو تہس نہس کرنے کا الزام لگے گا۔ مریم نے صحافیوں کے سوال کا بھی جواب نہ دیا ورنہ کوئی زیرک صحافی پہلا سوال ہی یہ کرتا کہ ٹیپ کی اول کاپی کہاں ہے اسے فوری عدالت میں کیوں نہیں لے جاتے، اس میں تاخیر بالکل نہیں کرنی چاہئے۔ ٹیپ اگر درست ثابت ہوتی ہے تو نوازشریف کو فوری رہائی مل جانی چاہئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کی ہے اس میں مشاورت کی ہو گی کہ محترمہ جلسوں میں تو کہتی ہیں کہ ثبوت مل گیا ہے تاہم اسے عدالت میں پیش نہںی کر رہیں دونوں چیف جسٹس صاحبان تو پریشان ہوں گے کہ الزام تو لگایا جا رہا ہے ثبوت عدالت میں پیش نہیں کئے جا رہے۔ مریم کی پریس کانفرنس میں خواجہ حارث بھی بیٹھے تھے انہیں کہنا چاہئے تھا کہ ہم یہ ٹیپ لے کر عدالت میں پیش نہ کرنے سے اسے مشکوک سمجھا جائے گا اور جج ارشد ملک کی بات سچ سمجھی جائے گی۔ ٹیپ کا معاملہ صرف سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی جا سکتا ہے عدالت تو اس انتظار میں ہو گی کہ نیب وہاں بطور ثبوت پیش کی جائے گی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved