تازہ تر ین

آبی قلت: مستقبل میں پانی صرف راشن کی دکانوں پر ملے گا، رپورٹ

کراچی(ویب ڈیسک): ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ (ڈبلیو آر آئی) کی جاری کردہ تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی کم از کم ایک ارب 70 کروڑ آبادی کو پانی کی شدید ترین قلت کا سامنا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ حالت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔اس رپورٹ میں آبی قلت سے متعلق دنیا بھر کے 189 ممالک کا ڈیٹا جمع کیا گیا ہے جسے ان ملکوں میں ا?بی ذخائر پر دباو¿ کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے۔ ان میں سے 17 ممالک ایسے ہیں جہاں ا?بی قلت کی شرح شدید ترین (یعنی 80 فیصد یا اس سے بھی زیادہ) ہے جبکہ ان میں سے بھی 11 ممالک مشرقِ وسطی میں واقع ہیں۔ مزید 44 ممالک میں ا?بی قلت اگرچہ 40 سے 80 فیصد کے درمیان ہے لیکن اسے بھی ”شدید“ قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر دنیا کی ایک ارب 70 کروڑ آبادی کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔اگر ا?بادی کے نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو بھارت میں لوگوں کی سب سے بڑی تعداد شدید ترین ا?بی قلت کا شکار ہے جبکہ اس فہرست میں بھارت کا 13 واں نمبر ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند صدیوں کے دوران پانی کے فی کس استعمال میں اضافے نے ا?بادی میں اضافے کی شرح کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے؛ جو اپنے ا?پ میں انتہائی تشویشناک بات ہے۔ڈبلیو ا?ر ا?ئی کے سربراہ اینڈریو اسٹیئر کا کہنا ہے کہ ا?بی وسائل پر مسلسل بڑھتا ہوا دباو¿ ایک سنگین ترین مسئلہ ہے لیکن اس پر کوئی بات نہیں کررہا۔ ”اس کے نتائج ہماری ا?نکھوں کے سامنے ہیں جو غذائی عدم تحفظ، تصادم، جنگوں، نقل مکانی اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں ہیں،“ اینڈریو نے بتایا۔اس رپورٹ میں جہاں پانی کے استعمال میں کفایت شعاری برتنے پر زور دیا گیا ہے، وہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ استعمال شدہ پانی کو بازیافت (ری سائیکل) کرکے مختلف مقاصد میں دوبارہ استعمال کرنے کےلیے ہمیں ا?ج کی نسبت کہیں زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے ورنہ وہ دن دور نہیں کہ جب حکومتوں کو پانی کی راشن بندی کرنا پڑے گی اور نلکوں کے بجائے راشن کی سرکاری دکانوں پر ہی پانی دستیاب ہوگا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved