کراچی (وقائع نگار خصوصی) وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے اگلے 14دن لاک ڈاﺅن مزید سخت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ کسی چیز کو نہیں کھولاجارہا ، سندھ میں لاک ڈاﺅن صبح8سے5بجے تک کی پالیسی برقرار رہے گی،کورونا سے متعلق تمام صورتحال کومانیٹرنگ خود کر رہا ہوں، سندھ میں کورونا سے اموات کی شرح 2.4 فیصد ہے کورونا کے بعض مریضوں کی اسپتال پہنچنے کے 24 گھنٹے میں موت واقع ہوگئی، بعض مریض ایسے بھی آئے کہ انہیں اسپتال مردہ حالت میں پہنچایا گیا، میں جو بھی کررہا ہوں عوام کی بھلائی اور حفاظت کی خاطر کر رہا ہوں، دنیا کی ہر چیز سے زیادہ اہم صحتمند زندگی ہے، ہمیں سمجھ نہیں آرہی کنسٹرکشن انڈسٹری کھولنے کی کیا ضرورت ہے، کوئی کنسٹرکشن سائٹ کھلی نہیں ہونی چاہیے، بلڈر کو پہلے انتظامیہ سے اجازت لینا ہوگی، کوئی ریسٹورنٹ کھولے گا تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی تاہم ہوم ڈلیوری پر ایس او پیز کو فالو کرنا ہو گا۔بدھ کوسندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں کورونا ٹیسٹنگ کاعمل بڑھادیاگیا ہے،اب تک سندھ بھر میں 16026ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں،کوئی یہ سمجھ رہا کہ پاکستان میں وائرس دیگرممالک سے کم ہے تو یہ غلط ہے ، سندھ میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد1668 ہے۔دو روز قبل ٹیسٹ کٹس اور دیگر سامان آنے کا ذکر کیا تھا، سندھ میں گزشتہ 24گھنٹے میں 1523ٹیسٹ ہوئے ، اس سے پہلے ہم ایک روز میں 500سے زائد ٹیسٹ نہیں کر پارہے۔مرادعلی شاہ نے کہا کہ سندھ میں اب تک 507مریض صحت یاب ہوئے ، 24گھنٹے کے دوران 137افراد صحت یاب ہوئے جبکہ کورونا سے جاں بحق مریضوں کی تعداد41ہوگئی ہیں، سندھ میں جو 41اموات ہوئیں یہ وہ ہیں جن کاٹیسٹ مثبت آیا۔انہوں نے کہاکہ تبلیغی جماعت کے بھائیوں کے آئسولیشن میں ٹیسٹ بھی شروع کئے ہیں، تبلیغی جماعت کے 5ہزار کے قریب افراد کو آئسولیشن کیا تھا جبکہ حیدر آباد میں تبلیغی جماعت کے 110 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ایسے کیسزبھی اسپتالوں میں آرہے ہیں جومردہ حالت میں لائے گئے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ایک بار مر جائے تو اس کا ٹیسٹ نہیں لیا جا سکتا، ماہرین نے اسپتال لائے گئے مرنے والوں کے ایکسرے ودیگرٹیسٹ کئے ہیں، ڈاکٹرز نے بتایا مردہ حالت میں لائے گئے لوگوں کے پھیپھڑے کورونا مریضوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے ایسے کیسز رپورٹ نہیں ہورہے جوکورونا سے متاثرہ ہیں، ہم نے کچھ لوگوں کی تدفین ایسے کرائی جن کی کورونا ایس اوپیز کے تحت ہوتی ہے ، کچھ ایسی اموات بھی ہیں جو رپورٹ نہیں ہورہیں۔وزیراعلی سندھ نے کہاکہ ایسالگ رہا ہے ایسے کیسز رپورٹ نہیں ہورہے جوکورونا سے متاثرہیں، 100کےقریب ایسی اموات ہیں جن پر خدشہ ہیں، ہمارے یہاں ٹیسٹنگ کی بنیاد پر کیسز کی شرح دنیا کے برابر ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم کوئی بھی اقدام اٹھائیں گے اس کا اثر سب پر پڑےگا، پورا ملک ایک صورتحال کیساتھ چلے گا تو اس کا فائدہ سب کو ہوگا، کل وزیراعظم کیساتھ میٹنگز کے بعد مزید14روز کے
لاک ڈاﺅن کا فیصلہ ہوا، گزشتہ روز سب صوبوں کا یہی خیال تھا کہ لاک ڈاﺅن بڑھنا چاہیے، وفاق نے 14روز لاک ڈان بڑھایا اس کا مطلب ہے کوئی تو ایشو ہے۔مراد علی شاہ نے کہاکہ ہم نے پلمبر ، ہیئرڈریسر ، درزی کی دکانیں کھولنے سے منع کردیاہے، آٹو موبل انڈسٹری کھولنے جارہے تھے اس پر بھی ہم نے منع کردیا، وفاق کو ہم نے سندھ کے ایس او پیز دیئے ہیں، آٹو موبل انڈسٹری پر بات مانی گئی اور پھر سب نے نہ کھولنے پر اتفاق کیا۔انھوں نے کہا کہ ڈومیسٹک فلائٹس مزید ایک ہفتے نہ کھولنے پر اتفاق ہوا ،ملازمین کو فیکٹری تک لانے کیلئے کمپنی اپنی ٹرانسپورٹ چلائے گی، فیکٹری کی گاڑی میں40کی گنجائش ہے تو15سے زائد لوگ نہیں بیٹھ سکتے۔وزیراعلی سندھ نے کہاکہ پلمبر وغیرہ گھرجاکرکام کرسکیں گے اس کی ایس او پیز بنا رہے ہیں، فیکٹریز پر آنیوالے کو سینی ٹائز کیا جائے گا ،سماجی فاصلے کا خیال رکھاجائے گا ، ہر انڈسٹری کے باہر بورڈ پر ایس او پیز لکھے ہوں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ہر ایک شخص کیلئے الگ ایس او پی ہوگا، الگ طریقہ کار ہوگا، سمجھ نہیں آرہا ہے کہ کنسٹرکشن کو اسوقت کھولنے کی کیا وجہ ہے، انڈسٹریزکے ایس او پیز پر سب نے اتفاق کیا جس پر وزیر اعظم کومبارکباد دیتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کو کہتاہوں کنسٹرکشن کی کوئی سائٹ نہیں کھلی ہونی چاہیے، کنسٹرکشن سائٹس ایس اوپیز کے بعدکھولنے کی اجازت دیں گے، کوئی شخص گھر بنارہا ہویا شہر،اسے پہلے انتظامیہ سے اجازت لینا ہوگا، پہلے کوئی چھپ چھپا کر کام کررہا تھا تو وہ اب نہیں کرسکے گا۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ریسٹورنٹس کی ہوم ڈیلیوری بھی ایس اوپیز سے مشروط ہیں ، ریسٹورنٹس ایس اوپیز فالو کرکے ہی ہوم ڈیلیوری کرسکتے ہیں ، غریب اور مزدور طبقے کے ریسٹورنٹس کھولنے کے ایس اوپیز ہیں، چھوٹے ریسٹورنٹس کھولے تو وہاں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔مراد علی شاہ نے کہاکہ شکرگزار ہوں کہ وزیراعظم نے میری باتیں تحمل سے سنیں، وزیراعظم نے کل کہا ہے2دن بعد علما سے ملاقات کریں گے، مذہبی اجتماعات پرجوبھی متفقہ فیصلہ ہووہ آپ اعلان کریں۔انھوں نے کہا کہ تاجروں سے بات ہوئی تحمل سے میری بات سننے پران کاشکر گزار ہوں ، پہلے دن سے موقف ہے کچھ دن سخت لاک ڈاﺅن کریں تو ہی فائدہ ہوگا۔وزیراعلی سندھ نے کہاکہ دنیاوی چیزیں بھول جائیں رمضان قریب سے اللہ کی عبادت گھروں سے کریں، وائرس پراسوقت تک قابو نہیں ہوسکتا جب تک سخت لاک ڈاﺅن نہ ہو، مستقبل میں وائرس کا حل نظر نہیں آرہا مگر اللہ بڑا ہے وہی ہمیں نجات دلائےگا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ خاص طورپر بزرگ لوگوں کو یہ وائرس بہت جلدی متاثر کرتا ہے، باہر جانیوالے نوجوان گھر کے اندر جانے سے پہلے خود کو سینی ٹائز کریں، آپ نے ایک زندگی بچائی تو سب گناہ دھل جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس صاحب کوہم اپناموقف صحیح نہیں سمجھاسکے ، کوشش کریں گے اعلی عدالت کو اپنے اقدامات سے آگاہ کریں، ہم سے بھی غلطیاں ہوئیں لیکن کچھ بھی نہ کرناسب سے بڑی غلطی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہماری غلطیوں کوکبھی معاف بھی کردیں ،کام نیک نیتی سے ہورہا ہے، افسوس ہے سپریم کورٹ میں
سندھ کی صورتحال نہ سمجھا سکے، جب چیزیں متنازع ہوجاتی ہیں تو ان کو سنبھالنامشکل ہوجاتا ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہاکہ ہمارے پاس اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کٹس بھی آگئی ہیں، ہمیں سیکٹرز اورجغرافائی کی طرف دھیان دینا چاہیے ، 12 ارب میں سے3ارب روپے کوروناایمرجنسی فنڈمیں دیئےہیں، 28 ملین ایکسپو سینٹر آئیسولیشن پر خرچ کئے گئے ہیں اور انڈس اسپتال کو 300ملین روپے دیئے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یونین کونسل کو بند کرنے کافیصلہ غلط نہیں تھا ،یونین کونسل کی پرانی سرحدوں کا معاملہ بیچ میں آیا ، ہیلتھ سیکٹر کے پاس یوسی سے متعلق فہرستیں اپ ڈیٹ نہیں تھیں ، میرا مذاق اڑایا گیا مگر مجھے جو پتہ ہے وہ میں آپ کو نہیں بتاسکتا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ڈسڑکٹ ایسٹ کی 11یوسیز میں زیادہ کیسز سامنے آئے، ان یوسیزمیں کورونا کے کل 234 کیسز سامنے آئے تھے ، جمشید ٹاﺅن میں کورونا کے72کیسز تھے، ان یوسیز سے تعلق رکھنے والے 5مریض وینٹی لیٹرز پر بھی تھے، سب سے زیادہ اموات بھی انھی یوسیز سے ہورہی تھی۔راشن کی تقسیم کے حوالے سے مرادی علی شاہ نے کہا کہ ابھی تک سندھ حکومت نے ڈھائی لاکھ راشن بیگز تقسیم کئے، جن کو راشن تقسیم کئے، ان کے شناختی کارڈنمبر موجود ہیں آڈٹ کرالیں، میں اپنی گاڑی میں بھی ایس او پی پر عمل کرتاہوں ،جن لوگوں کو اپنا نام کہیں نہیں نظرآرہا ان کا تو کوئی علاج نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری صرف ایک ترجیح ہے کہ لوگوں کی جانیں بچائیں،حکومت کی ہدایت پر عمل کریں اور سماجی فاصلے رکھیں، ہاتھ جوڑ کر کہتاہوں لوگوں کی زندگی کا سوچیں۔ مراد علی شاہ نے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی ہے کہ یہ وقت سیاست کا نہیں، اس وقت صرف عوام کی زندگی کے بارے میں سوچا جائے،صرف مخصوص شعبوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی ہے،چاروں صوبوں میں ٹرانسپورٹ اور اندرونی فضائی آپریشن بند رہے گا،، سندھ حکومت نے اب تک ڈھائی لاکھ راشن بیگ تقسیم کیے، جو 8 ارب کا کہہ رہے ہیں ان سے پوچھیں کہ 8 ارب روپے کا لفظ آیا کہاں سے۔کراچی میں صوبائی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں نے اتفاق کیا کہ لاک ڈاو¿ن میں 14روز کی توسیع ہونی چاہیے، سب لوگوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ لاک ڈاو¿ن مزید سخت ہو نا چاہیے، وزیراعظم کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میری تجاویز مانیں۔ لاک ڈاو¿ن کے دوران کچھ محکموں میں نرمی کے حوالے سے بتاتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ صرف مخصوص شعبوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی ہے، چاروں صوبوں میں ٹرانسپورٹ اور اندرونی فضائی آپریشن بند رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے آنے کا وقت الگ الگ ہو گا، فیکٹری یا عمارت میں ڈاکٹر اور طبی سامان موجود ہو گا، فیکٹری لائے جانے ملازمین کی فہرست حکومت کو دینا ہو گی، بلڈنگ کی تعمیر کے لیے بھی مزدور اور سامان کی فہرست فراہم کرنا ہو گی۔ صوبے میں ڈبل سواری پر پابندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ خواتین کے سوا ڈبل سواری کی اجازت نہیں دیں گے، موٹر سائیکل پر تین چار بچوں کی جازت نہیں دیں گے۔
وفاقی وزرائکی جانب سے سندھ حکومت پر کورونا فنڈنگ میں خردبرد کے الزام پر مراد علی شاہ نے کہا کہ میں نے50 کروڑ 80 لاکھ روپے سب کے سامنے جاری کیے۔انہوں نے کہا کہ ایک لسٹ ہاتھ آ گئی جسے لہرا کر کہا گیا کہ 12 ارب روپے کھا گئے، سندھ حکومت نے اب تک ڈھائی لاکھ راشن بیگ تقسیم کیے، جو 8 ارب کا کہہ رہے ہیں ان سے پوچھیں کہ 8 ارب روپے کا لفظ آیا کہاں سے۔گورنر سندھ عمران اسماعیل کی وی آئی پی پروٹوکول کے ہمراہ ٹھٹھہ کے دورے اور سماجی فاصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کے حوالے سے وائرل ویڈیو پر جواب دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ایک فوج لیکر کورونا سے لڑنے نکل پڑے، ہمیں یہ نہیں آتا۔ان کا کہنا تھا میں خود گاڑی چلاتا ہوں اور کورونا کے حوالے سے جو ایس او بنائے ہیں ان پر عمل کرتا ہوں، ایک بندہ آگے ہوتا ہے اور ایک پیچھے ہوتا ہے، وزیراعظم سے بھی درخواست ہے کہ سندھ آئیں تو گائیڈ لائنز پر خود بھی عمل کریں۔علمائے کرام کی جانب سے رمضان میں لاک ڈاو¿ن پر عمل نہ کرنے اور اعتکاف کے حوالے سے بیان سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج حکومتی وفد علمائے کرام سے ملاقات کرے گا، نمازیوں کی تعداد کی بات ہے تو اس معاملے کو حل کر لیں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ مستقبل میں کورونا کا کوئی علاج نظر نہیں آ رہا، ہمیں بہت زیادہ احتیاط کرنی ہو گی، لاک ڈاو¿ن میں شام بجے کے بعد مزید سختی کی جائے گی، عوام سے اپیل ہے کہ مزید دو ہفتے اور اتوار گھروں پر رہیں۔
اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ بااختیار ہیں،لاک ڈاو¿ن کریں یا کرفیو لگائیں، وزیراعلیٰ سندھ نے نیوز کانفرنس میں امید کی بجائے عوام کو ڈرایا، مشاورتی فیصلوں پر ترجمان سندھ حکومت کا ٹویٹ تقسیم کی کوشش تھی،قوم کو توقع ہوتی ہے کہ لیڈر مشکل وقت میں مسیحا بنے گا،،اختیارات کے ساتھ مراد علی شاہ کو ذمہ داریاں بھی ادا کرنا ہونگی،عوام کو راشن اور ضروری اشیاء کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔تحریک انصاف سندھ کے رہنما حلیم عادل شیخ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی اور صوبائی سطح پر اقدامات کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں اقدامات کو مزید موثر بنانے پر حکمت عملی پر غورہوا،کورونا وائرس سے بچنے کیلئے احتیاط بہت ضروری ہے،حکومتی کوششوں کی کامیابی کیلئے عوامی تعاون ضروری ہے،قومی رابطہ کمیٹی نے مشاورت سے فیصلے کیے،لاک ڈاو¿ن اور تعمیراتی شعبے کے حوالے سے سندھ حکومت کے کچھ تحفظات تھے،صوبوں کو اختیار ہے کہ وہ جو بہتر سمجھیں فیصلے کریں۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مشاورتی فیصلوں پر ترجمان سندھ حکومت کا ٹویٹ تقسیم کی کوشش تھی،قوم کو توقع ہوتی ہے کہ لیڈر مشکل وقت میں مسیحا بنے گا،وزیراعلیٰ سندھ نے نیوز کانفرنس میں امید کی بجائے عوام کو ڈرایا،وزیراعلیٰ سندھ بااختیار ہیں، لاک ڈاو¿ن کریں یا کرفیو لگائیں،اختیارات کے ساتھ مراد علی شاہ کو ذمہ داریاں بھی ادا کرنا ہونگی،عوام کو راشن اور
ضروری اشیاء کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے،احساس کیش ایمرجنسی پروگرام کا مقصد کمزور طبقوں کی بحالی ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ میٹھا ، میٹھا ہپ اور کڑوا، کڑوا تھو یہ وہ پالیسی ہے جو سندھ کی قیادت نے پہلے دن سے اختیار کی ہوئی ہے۔ یہ جو وزیر اعظم پاکستان کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتے ہیں ، ان سے صرف ایک سوال کر لیں کہ جب انہوں نے لاک ڈاﺅن کیا تھا اور اعلان کیا تھا کیا اس وقت انہوں نے وزیر اعظم سے پوچھ کر کیا تھا، اس وقت انہوں نے خود فیصلہ کیا اور گذشتہ روز وزیر اعظم نے ان کو اختیار دیا ہے کہ اگر آپ نے لاک ڈاﺅن کرتے ہوئے ہماری رائے نہیں لی تھی تو آج بھی آپ آزاد ہیں اور اپنی مرضی سے چاہتے ہیں کہ اس کو جاری رکھنا ہے تو جاری رکھیں اور ا گر اس کو مزید سختی سے نافذکرنا چاہتے ہیں تو کریں اور اگر آپ ریلیف دینا چاہتے ہیں تو ریلیف دے دیں لیکن جو باقی صوبے ہیں ان کو تو یرغمال نہ بنائیں۔ بیوروکریسی ، اسٹیبلشمنٹ اور صوبوں کی انتظامیہ کے لئے سب سے آسان ترین کام ہے کہ وہ لاک ڈاﺅن کرکے لوگوں کو گھروں میں بند کردیں تاکہ ان کو کوئی کام نہ کرنا پڑے۔مساجد کو کبھی بھی کسی نے لاک ڈاﺅن نہیں کیا، مساجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے گھر میں کوئی تالا نہیں لگا سکتا۔ مساجد کے حوالہ سے کچھ ایس او پیز اور ترجیحات علماءکی مشاورت سے طے کی گئی تھیں، ہم علماءکے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ تمام صوبوں کے وزراءاعلیٰ کی مشاورت کے بعد وزیر اعظم نے لاک ڈاﺅن میں توسیع کے حوالہ سے اعلان کیا اس کے بعد سندھ حکومت کا کوئی ردعمل آنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان نے سندھ کی قیادت ، ایگزیکٹو یا وزیر اعلیٰ کو ان کی سپیس دے دی ہے اگر وہ نہیں کرنا چاہتے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے صوبے کے لئے مفید نہیں ہے یا وہاں کے عوام کے لئے کوئی بہتر چیز نہیں ہے تو پھر 18ویں ترمیم کے بعد صوبے انتظامی طور پر آزاد ہیں توو ہ اپنے صوبے پر اس کو نہ لاگو کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان نے کہا ہے ہم دو محاذوں پر جنگ لڑ ررہے ہیں ،ایک محاذ کوروناکا ہے اور اس کو روکنا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں اور عوام کو اس وبا کے منفی اثرات سے بچانا ہے اور دوسرا محاذ غربت، افلاس اور بیروزگاری کا ہے، اس محاذ کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ دونوں محاذوں پر متوازی طور پر مناسب اور مﺅ ثر حکمت عملی اور یکجہتی سے دونوں محاذوں کا مقابلہ کریں اور ان پر قابو ہائیںاور جو چیلنج درپیش ہیں ان کو مواقع میں تبدیل کریں۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ہر اقدام کے ساتھ کچھ صحت کے حوالہ سے ایس او پیز وضع کئے گئے ہیں اور طریقہ کار واضح کیا گیا ہے ۔ان کا کہناتھا کہ آگے رمضان المبارک آرہا ہے اس میں لوگ سستے بازار لگاتے ہیں ، رمضان بازار لگاتے ہیں اور آگے عید آرہی ہے، لوگ اپنے فیملی اسٹرکچر کے ساتھ کورونا کو سے بھی بچنا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنی خوشیوں کو بھی ماند نہیں پڑنے دینا چاہتے ، ہمارا کام یہ ہے کہ بجائے اپنی ذمہ داریوں سے فرار لیں اور آنکھیں بند کر لیں ۔ان کا کہنا
تھا کہ وزیر اعظم نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے درخواست کی تھی کہ آپ ایک بات چیت کا سلسلہ شروع کریں اور علماءحضرات کو بلائیں اور ایک مشاورتی عمل کا آغاز کریں مسجدیں ہمیں بھی اتنی ہی عزیز ہیں جتنی علماءحضرات کو ہیں وہ ہم سب کے لئے مقدس جگہیں ہیں جہاں ہماری مذہبی رسومات اور خصوصاً رمضان کے دنوں میں بہت اہم ہوتی ہیں اور ضروری ہیں اور ہمارے مذہب میں لازم و ملزوم ہیں ، اب احسن طریقہ سے کس طرح ہم آے بڑھیں کہ وبا سے بھی ان کو بچائیں اور مذہبی فریضہ بھی انجام دیں اس کے لئے وزیر اعظم علماءسے مشاورت کرنے جارہے ہیں اور وزیر اعظم کی موجودگی میں ایک لائحہ عمل وضع ہو گا اور وہ لائحہ عمل حکومت کا نہیں ہو گا بلکہ ہمارے علماءحضرات کا ہو گا اور مذہبی کمیونٹی کا ہو گا اور وہ جو رہنمائی ہمیں دستیاب کریں گے اس کی روشنی میں ہم لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔ حکومتی لائحہ عمل وزارت مذہبی امور طے کرتی ہے اور جب تک وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری اس میں شامل نہیں ہوں گے اور اس مشاورتی عمل میں کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوتا تو اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ روز مفتی منیب الرحمان اور مفتی تقی عثمانی کی جانب سے کیا گیا اعلان ایک شخصی اور ذاتی عمل ہے اور حکومت چاہے گی کہ علماءحضرات کے ساتھ بیٹھے اور ان کی رہنمائی سے نیا لائحہ عمل ترتیب دے۔ جبکہ بدھ کے روز ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کی حفاظت ہم سب کی اولین ترجیح ہے۔وفاق صوبوں کی جانب سے کوروناسے بچا کے تمام اقدامات کو مزید موثر بنانے اورتقویت دینے میں اپنا کرداراور ذمہ داری ادا کرتا رہے گا۔عمران خان پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تمام اکائیوں کے عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بناناان کا نصب العین ہے۔تمام صوبے اپنے فیصلے کرنے میں آزاد اور خودمختار ہیں۔اٹھارویں ترمیم انکے آئینی اختیارات کی ضامن ہے۔سندھ حکومت اپنے صوبے کے حالات کے مطابق جو بہتر سمجھے وہ فیصلے لے۔لاک ڈان کو کتنا بڑھانا یا کم کرنا ہے، وفاق کی جانب سے کوئی پابندی نہیں۔
لا ک ڈ ا و ن نر م ےا سخت ،و فا ق ا و ر سند ھ ا ٓ منے سا منے ،ز ند گی ہر چیز سے ا ہم مر ا د علی شا ہ خو ف نہ پھیلا ئیں ،فر د و س عا شق ا عو ا ن

