کراچی: بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا 145 واں یوم پیدائش عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے۔
برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن کی شکل میں عظیم تحفہ دینے والے قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔
قوم آج عقیدت و احترام سے ان کا یوم پیدائش منا رہی ہے اور اس سلسلے میں ملک بھر میں آج عام تعطیل ہے جبکہ قومی اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے جارہے ہیں۔
آج کے دن کا آغاز مملکت پاکستان کی سلامتی، ترقی و خوشحالی کی دعاؤں کے ساتھ ہوا اور کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جہاں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹس نے گارڈز کے فرائض سنبھالے۔
کراچی کے مقامی ہوٹل میں کرسمس ٹری، اسنومین، برف سے ڈھکےگھر اور ماسک پہنے سانتا کلاز وہاں آنے والوں کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔
لاہور کے گرجا گھروں میں رات گئے دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا گیا اور ملک و قوم کی ترقی و سلامتی کی دعائیں مانگی گئیں، اس موقع پرکیتھڈرل چرچ کو خوبصورتی سے سجایا گیا۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی مسیحی برادری کرسمس مذہبی جوش و جذبے سے منا رہی ہے اور مختلف آبادیوں اور گرجا گھروں کو خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔
حیدرآباد میں بھی گرجا گھروں کو خوبصورتی سے سجایا گیا ہے اور سانتا کلاز بچوں میں تحائف تقسیم کر رہے ہیں۔
سخت سردی کے باوجود کوئٹہ کے گرجا گھروں میں کرسمس کی روایتی تقریب منعقد ہوئیں اور خواتین و حضرات نے بھی اس میں بھرپور شرکت کی۔
علاوہ ازیں کرسمس پر ملتان میں 1500 پاؤنڈ وزنی کیک کاٹا گیا جبکہ سرگودھا میں بھی کرسمس کا تہوار بھرپور طریقے سے منایا جارہا ہے، بچیاں چوڑیاں پہن رہی ہیں اور مہندی لگوا رہی ہیں جبکہ گرجا گھروں کو بھی برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے۔
راولپنڈی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز(پی آئی اے) نے سعودی عرب کے لیے کارگو پروازیں چلانے کا اعلان کیا ہے تا کہ ملکی برآمدات کو فروغ دیا جاسکے۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے کہا کہ سعودی عرب کو گوشت، سبزیاں اور پھل برآمد کیے جاتے ہیں اور فضائی راستے سے ان کی ڈلیوری کے وقت کی بچت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے لیے کارگو پروازیں چلانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ ریاض کی جانب سے بین الاقوامی پروازوں پر پابندی کے فیصلے سے پاکستانی برآمدات متاثر ہونے کا امکان تھا۔
عبداللہ حفیظ کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر ارشد ملک کے احکامات پر کارگو کے اخراجات مناسب اور پُرکشش رکھے گئے ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان سے 42 ٹن اشیا لے کر پہلی مال بردار پرواز منگل کو سعودی عرب روانہ ہوئی تھی جبکہ پی آئی اے نے چین کے لیے بھی کارگو پروازوں کا آغاز کردیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کی جانب سے بین الاقوامی پروازوں پر ایک ہفتے کی پابندی عائد کرنے کے لیے مملکت میں آپریٹ کرنے والی تمام ایئرلائنز کو سرکلر بھیجا گیا تھا۔
سرکلر کے موصول ہوتے ہی پی آئی اے نے پیر کو سعودی عرب کے لیے اڑان بھرنے والی پروازوں کو روکتے ہوئے فوری طور پر پروازیں معطل کردی تھیں۔
دوسری جانب اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی انتظامیہ نے صحت حکام کی مدد سے کورونا وائرس کی نئی لہر کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں جس میں برطانیہ سے آنے والے ہر مسافر کا چیک اپ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ برطانیہ سے آنے والے ہر مسافر کا نمونہ حاصل کیا گیا ہے حتیٰ کہ برطانیہ سے بلواسطہ پرواز کے ذریعے آنے والے مسافروں کو بھی ایک ہفتہ قرنطینہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان مسافروں کو اس وقت ہی جانے کی اجازت دی گئی جب انہوں نے اپنے پتے فراہم کیے۔
یاد رہے کہ حکومت، پاکستانی پاسپورٹس رکھنے والے اور کاروبار، وزیٹر اور ٹرانزٹ ویزا کے حامل مسافروں کو پاکستان آنے کی اجازت دے چکی ہے تاہم ان کے پاس پولیمر چین ری ایکشن کے ٹیسٹ کی منفی رپورٹ ہو اور یہ سفر سے 72 گھنٹوں سے زائد پرانی نہ ہو۔
وزیراعظم عمران خان نےکہا ہےکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اتحاد اپنی موت آپ مرگیا، استعفے دینے والے اب استعفوں سے بھاگ رہے ہیں۔
اسلام آباد میں حکومتی و پارٹی ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم خود اختلافات کا شکار ہے، اپوزیشن احتساب سے بھی بھاگ رہی ہے، مولانا فضل الرحمان پیسوں اور جائیدادوں کا حساب دیں۔
اجلاس کے شرکاء نےکہا کہ مریم نواز نے پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کی ساکھ ختم کردی ہے، آج بھی 2 ایم این ایز نے استعفیٰ دیا پھر غائب ہوگئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کا دھاندلی سے متعلق بیانیہ جھوٹا ہے، اپوزیشن انتخابی اصلاحات میں سنجیدہ ہوتی تو سینیٹ میں اوپن ووٹنگ کی مخالفت نہ کرتی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میثاق جمہوریت کی شق 23 سے بھی مکر رہی ہیں، اس میں سینیٹ الیکشن اوپن ووٹنگ سےکرانےکاکہا گیا ہے۔
وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو ہدایت کی کہ اپوزیشن کی انتخابی اصلاحات پر دہری پالیسی کو بے نقاب کیا جائے، ان کے کارنامے عوام کو بتائے جائیں۔
وزیراعظم نے لینڈ مافیا کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئےکہا مسلم لیگ ن میں بڑے قبضہ مافیا موجود ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے تمام اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسبلی نے انہیں استعفے پہنچا دیے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج ملیر ایکسپریس وے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔
ملیر ندی کے بائیں کنارے تعمیر ہونے والا 39 کلومیٹر پر محیط ملیر ایکسپریس وے کا 6 لین روڈ ہو گا.
ملیر ایکسپریس وے کورنگی روڈ ڈی ایچ اے سے شروع ہوگا اور اس کا اختتام کاٹھور پر ہوگا جبکہ اس پر پیدل چلنے والوں کے لیے نو مقامات ہوں گے۔
سنگ بنیاد کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت سندھ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے فلسفے اور نظریے کو آگے لے کر چل رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے پیپلز پارٹی کے 1993 کے منشور میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی سوچ کو متعارف کرایا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اسی نظریے کو آگے لے کر چلی ہے اور اس سلسلے میں جو کام کیے ہیں وہ سارے صوبوں اور وفاق سے بھی بہتر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تھر کول مائننگ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پراٹنرشپ کا کامیاب منصوبہ ہے جو تھر میں انقلاب لے کر آیا، تھر کی عورتیں آج اس منصوبے کی وجہ سے انجینئرز سے لے کر ٹرک ڈرائیور بھی بن گئی ہیں، وہاں کے عوام کو اس کی بدولت روزگار کے مواقع ملے، پورے علاقے میں معاشی ترقی ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے کوئلے سے نہ صرف بجلی پیدا کررہے ہیں بلکہ سندھ تھر کول سے پورے پاکستان کو بجلی دے رہے ہیں۔
بلاول نے کہا کہ ملیر ایکسپریس وے کا منصوبہ کراچی کے عوام، مزدوروں، کاروبار اور کاروباری افراد، سفید پوش طبقے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا، اس منصوبے سے کراچی کے عوام کو فائدہ پہنچائیں گے اور کراچی کی کاروباری برادری سے بات کر کے کام کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت سے اعتراضات ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ سندھ سمیت سارے صوبوں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا، آپ نے تو این ایف سی ایوارڈ 18ویں ترمیم سے پہلے دیا تھا، ترمیم کے بعد آپ نے صوبوں کو زیادہ ذمے داری دی ہے لیکن اس کے لیے نئے این ایف سی ایوارڈ کا بندوبست نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جو صوبوں کا اپنا پیسہ ہے وہ انہیں نہیں دیا جاتا، اس میں سالہا سال کٹوتی ہوتی ہے جس سے پاکستان کے تمام صوبے متاثر ہوتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ وفاق میں ایک ایسی حکومت مسلط کی گئی ہے جو نہ صرف ناجائز بلکہ نالائق اور نااہل بھی ہے اور ان کی نالائقی کا بوجھ پاکستان کے عوام اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تین سال ہونے کو ہیں اور سنا ہے کہ وزیر اعظم صاحب اب بھی ٹریننگ پر ہیں، نجانے یہ ٹریننگ کب مکمل ہو گی اور اس ٹریننگ کی تکمیل کے دوران عوام کو جو بوجھ اٹھانا پڑے گا، وہ کس سے پوچھیں گے کہ اگر وہ تیاری نہیں کررہے تھے تو 7سال سے خیبر پختونخوا میں کیا کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جو 22سال کی جدوجہد ہم سنتے آ رہے ہیں، اگر تیاری نہیں کررہے تھے تو پھر اس وقت کیا کررہے تھے، آپ نے تو 90دن میں کرپشن ختم کرنا تھی، آپ نے اپنے پہلے 100دن میں پاکستان کی مشکلات کو ختم کرنا تھا اور 3سال بعد آپ کہہ رہے ہیں کہ ٹریننگ چل رہی تھی، یہ پاکستان کے عوام کے ساتھ مذاق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم زیادہ کی درخواست نہیں کررہے لیکن اگر ہمارا وزیر اعظم تھوڑا بہت اہل ہوتا تو حالات آج ایسے نہیں ہوتے، انتہائی افسوس کی بات ہے کہ پاکستان آج جی ڈی پی اور ترقی میں افغانستان اور بنگلہ دیش سے پیچھے ہے، مہنگائی کی شرح میں ہم افغانستان اور بنگلہ دیش سے آگے ہیں اور یہ صرف اس لیے ہے کہ ہمارے وزیر اعظم میں وہ استعداد نہیں ہے کہ وہ پاکستان جیسے ملک کو چلا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جب کشمیر پر تاریخی حملہ ہوا تھا تو وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ میں کیا کروں اور آج جب پاکستان کے غریب عوام تاریخی غربت، تاریخی بیروزگاری اور تاریخی مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں تو ان کا وہی جواب ہے کہ میں کیا کروں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم صاحب اگر آپ کے پاس عوام کے مسائل کا حل نہیں ہے تو آپ یہی کر سکتے ہیں کہ استعفیٰ دیں اور گھر چلے جائیں، ہمارے پاس حل ہے، ہم جانتے ہیں کہ عوام کو ان مشکل حالات سے کیسے نکالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بدترین عالمی معاشی کساد بازاری اور دو سیلابوں کا سامنا کرنے کے باوجود یہ نہیں کہا تھا کہ ہم کیا کریں، ہم نے درآمدات کو برآمدات میں تبدیل کر دیا تھا تاکہ کسان خوشحال ہو سکے، یہی وجہ تھی کہ ہم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ان مشکل معاشی صورتحال میں شروع کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت ریونیو اور وسائل پیدا کرنے میں دیگر صوبوں سے آگے بھی ہے اور سروسز پر سیلز ٹیکس باقی صوبوں سے کم ہونے کے باوجود پیداوار زیادہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم وفاق کی طرح نیب، بلیک میل، تشدد اور ظلم سے وسائل پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ کاروباری برادری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جن کا سالوں سال کا نااہلی کا ریکارڈ ہے وہ ہمیں لیکچر دے رہے ہیں کہ ہم نالائق صوبائی لوگ ہیں جو ریونیو پیدا نہیں کر سکتے، وہ غیر آئینی قدم اٹھا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صوبے کی نگرانی کریں گے، جس دن صوبے حساب مانگنا شروع کردیں گے، آپ کے پاس کچھ نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم صوبے کی ضرورت سے زیادہ گیس پیدا کرتے ہیں، ہمارا آئینی حق ہے، آئین کے مطابق آپ کا سب سے پہلے اور پھر باقی پاکستان کا حق ہے لیکن جہاں سے گیس نکلتی ہے وہاں کے عوام کے گیس کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہاں کے عوام کے لیے گیس نہیں ہے، کراچی جیسے شہر میں عوام اپنا چولہا نہیں جلا سکتے، جب تک ہم ایسے بنیادی مسائل حل نہیں کریں گے اس وقت تک پاکستان کی معیشت کیسے چلے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ایک کام رہتا ہے، ہم نے اس نالائق، نااہل کو بھگانا ہے، ہم نے وہ حالات پیدا کرنے ہیں جس سے ایک عوامی حکومت آ سکتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مجھے اپنے تمام اراکین پارلیمنٹ اور پیپلز پارٹی کے تمام اسمبلی اراکین پر فخر ہے کہ انہوں نے مجھ تک اپنے استعفے پہنچائیں ہیں، مجھے معلوم ہے کہ میرے ہر رکن کے گرد کافی قوتیں کام کررہیں، دباؤ ڈال رہے ہیں، جعلی کیسز بنا رہے ہیں مگر آپ سب حوصلے اور ہمت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب آپ سچ کے راتے میں کھڑے ہوتے ہیں تو ایسی کوئی قوت آپ کو ڈرا نہیں سکتی مگر میں ان قوتوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ میرے لوگوں کے ساتھ یہ سلوک بند کرو، میں جانتا ہوں کہ کون یہ کررہا ہے، کیوں کر رہا ہے، مجھے مجبور نہ کریں کہ میں ان سب کو ایک ایک کر کے قوم کے سامنے بے نقاب کروں۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) پاکستان نے وفاقی حکومت سے علیحدگی کا عندیہ دے دیا۔
ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے ایم کیوایم سے کیے ایک وعدے پرعمل نہیں کیا، ایک مطالبہ پورا نہیں کیا، وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم کے خدشات کے باوجود مردم شماری کو منظور کر لیا،ہمیں بتایا جائے ہم حکومت میں کیوں ہوں؟
انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا،حکومت میں رہ کر احتجاج کا آپشن استعمال نہیں ہوسکتا،حکومت سے علیحدہ ہونے کا بھی آپشن ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے اس حوالے سے اختلافی نوٹ جمع کرایا اور ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیرامین الحق نے نئی مردم شماری فوری طور پر کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔[
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پاسپورٹ کی مدت 5 سال سے بڑھا کر 10سال کرنے کا اعلان کردیا جو آئندہ سال یکم جنوری سے جاری ہوں گے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ غریب کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا ورک ویزا ختم ہوجاتا ہے، پاسپورٹ کی مدت 5 سال ہوتی ہے لیکن پہلی تاریخ سے 10 سال کا پاسپورٹ جاری ہوگا لیکن ہم تین ہزار سے زیادہ فیس نہیں بڑھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سارے مشرق وسطیٰ کے مزدوروں کو 5 سال کے بجائے دس سال کا ویزا ملے گا اور یہ عمران خان کی طرف سے آپ کے لیے نیا تحفہ ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ 28اپریل سے ہم نیا ای پاسپورٹ جاری کرنے جارہے ہیں، 120 دن کا ہمارا ہدف ہے، نیا ای پاسپورٹ لانچ کریں گے تاکہ اس میں سارا ڈیٹا آئے اور ملک کی عزت ہو۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ آج سے ہی پاسپورٹ ایس ایم ایس سروس سارے پاکستان میں شروع ی جا رہی ہے، جس کا کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جس کا پاسپورٹ ختم ہونے والا ہو گا، اس کو چھ ماہ پہلے اطلاع دے دیں گے کہ آپ اپنا پاسپورٹ بنوا لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم یکم جنوری سے دنیا کے 191 ملکوں کے لیے ای سروس شروع کررہے ہیں۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے مجھے آن لائن پاسپورٹ سروس شروع کرنے کی ہدایت کی ہے لیکن اس میں 120 دن سے زیادہ وقت لگے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ اسمگل شدہ تیل اور پیٹرول بیچنے والوں کو 7 دن کے اندر خرید و فروخت بند کرنے کا حکم دیا جائے، یہ 2 سے 3 ارب ڈالر کا بنتا ہے اور اگر انہوں نے بند نہ کیا تو وزارت داخلہ ان کے پیٹرول پمپ بند کردے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ 120 دن کے اندر ہم ایکسپریس پاسپورٹ بھی جاری کردیں گے جس کی بدولت آپ صبح پاسپورٹ دے کر شام میں حاصل کر سکیں گے جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پاسپورٹ کی ہوم ڈیلیوری بھی کی جارہی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہم چین کے معاملات دیکھ رہے ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ سی پیک میں موجود چینیوں کو وزارت داخلہ نہ آنا پڑے۔
دوران گفتگو شیخ رشید احمد نے کہا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ کی بلیک لسٹ کو کم کرنے کی ہدایت دی ہے، 66ہزار لوگ ایف آئی اے میں بلیک لسٹ ہیں اور 34ہزار لوگ پاسپورٹ میں بلیک لسٹ ہیں، میں نے انہیں کہا ہے کہ جن لوگوں کا مجرمانہ ریکارڈ ہے یا ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، ان کو بلیک لسٹ میں رکھیں، تاہم اس فہرست کو 25 ہزار کریں، باقی 75ہزار کم کریں۔
تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ والوں کی معاشی صورتحال بہت بری ہے، انہوں نے 7 ارب کا بجٹ مانگا جبکہ انہیں 2ارب روپے ملے ہیں، حفیظ شیخ سے ملاقات کر کے مالی صورتحال بہتر کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ پاسپورٹ کی مدت 10سال کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، وہ کہہ رہے تھے کہ فیس بڑھائیں کیونکہ ہمیں پاسپورٹ امیگریشن میں بڑی فنڈنگ کی ضرورت ہے۔
گفتگو کے دوران ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کسی کی سیکیورٹی واپس نہیں لی، مولانا فضل الرحمٰن اس فساد کی اصل جڑ ہیں، میرا کام بتا دینا تھا، کل ایسا نہ ہو کہ وہ مجھ ہی پر مقدمہ کر دیں، جیسے بینظیر بھٹو شہید کا بھی بتایا گیا تھا اور جن لوگوں نے بتایا تھا کہ آپ کی سیکیورٹی کو خطرہ ہے انہی پر مقدمے کروا دیے گئے، لہٰذا میرا کام تھا کہ بحیثیت وزیر انہیں بتا دوں گا کہ 20 افراد کی فہرست میں ان کا نام سب سے اوپر ہے‘۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2021 کے لیے کھلاڑیوں کی ڈرافٹنگ کے حوالے سے ٹیموں کی ترتیب کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
پی سی بی کے اعلامیے کے مطابق دو دفعہ کی چمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم پی ایس ایل2021 کی ڈرافٹنگ میں سب سے پہلے کھلاڑیوں کا انتخاب کرے گی۔
ملتان سلطانز اور پی ایس ایل 2020 کی فائنلسٹ ٹیم لاہور قلندرز بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر اپنے کھلاڑیوں کو منتخب کرے گی۔
پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر دستیاب کھلاڑیوں سے چناؤ کریں گی، دونوں ٹیمیں 2017 اور 2019 کے ایڈیشنز میں چمپیئن رہ چکی ہیں۔
رواں برس پہلی مرتبہ پی ایس ایل چمپیئن کا اعزاز حاصل کرنے والی کراچی کنگز کو سب سے آخر میں چھٹے نمبر پر کھلاڑیوں کے انتخاب کا موقع ملے گا۔
پی سی بی نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ ٹیموں کے نمبرز کا فیصلہ لاہور میں پی سی بی ہیڈ کوارٹرز میں تمام 6 ٹیموں کے نمائندوں کی موجودگی میں کیا گیا۔
بیان کے مطابق اگلے 17 راؤنڈز کا فیصلہ اعداد و شمارکے ذریعے کیا گیا۔
پی سی بی نے کہا کہ پی ایس ایل 2021 کے لیے کھلاڑیوں کی ڈرافٹنگ کے حوالے سے مکمل تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
اعلامیے میں کیٹیگریز اور کھلاڑیوں کے ناموں کے حوالے سے تفصیلات نہیں دی گئی ہیں تاہم پی ایس ایل 2020 میں سرفہرست کھلاڑیوں کو پلاٹینم، ڈائمنڈ، گولڈ، سلور اور ایمرجنگ کیٹیگریز میں شامل کیا گیا تھا۔
پی سی بی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ کھلاڑیوں کی تجدید کے عمل میں کھلاڑیوں کی گزشتہ ایڈیشنز سمیت قومی اور بین الاقوامی کرکٹ میں کارکردگی اور کرکٹرز کی ٹی20 فارمیٹ میں مقبولیت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کی بنیادی کیٹیگری گولڈ مقرر کی گئی ہے اور نئے قوانین کے مطابق ہر ٹیم گزشتہ ایڈیشن میں شامل زیادہ سے زیادہ 8 کھلاڑیوں کو آئندہ ایڈیشن کے لیے برقرار رکھ سکے گی۔
پی سی بی نے کہا تھا کہ کیٹیگری مرحلے کے مکمل ہونے سے قبل قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بننے والے 24 سال سے کم عمر کھلاڑی ایمرجنگ کیٹیگری کا حصہ نہیں ہوں گے جبکہ 24 سال سے کم عمر کھلاڑی 2 سال سے زائد عرصہ ایمرجنگ کیٹیگری کا حصہ نہیں رہ سکتے، تاہم 2 سالوں میں 4 یا اس سے کم میچ کھیلنے والے کھلاڑی ایمرجنگ کیٹیگری میں برقرار رہ سکتے ہیں۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ 4 جنوری کے اجلاس میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کریں گے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ 4 جنوری کو بین الصوبائی وزراء کی میٹنگ میں حالات کا جائز ہ لیا جائے گا اور تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق فیصلہ ہوگا۔
پی ٹی ایم کی تحریک پر ان کا کہنا تھاکہ کہ پی ڈی ایم کے اندرونی اختلافات ختم نہیں ہورہے اور جی یو آئی کے اندرونی مسائل شروع ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب جیونیوز کے پروگرام ’ جیوپاکستان‘ میں گفتگو کرتےہوئے سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نےکہا کہ کورونا وائرس میں کمی ابھی نہیں آرہی اور مجھے نہیں لگتا 11 جنوری سے اسکول کھل سکیں گے۔
انہوں نےکہا کہ این سی او سی میں تجویز دی تھی کہ اسکولوں کو قرض دیا جائے تاکہ وہ چلتے رہیں ، وفاقی حکومت کو نجی اسکولوں سے بات کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر کے آغاز کے بعد حکومت نے ملک بھر میں 26 نومبر سے تعلیمی ادارے بند کردیے تھے جنہیں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد 11 جنوری سےکھولنے کا اعلان کیا گیاہے۔