جے یو آئی (ف) نے مولانا شیرانی، حافظ حسین احمد کو پارٹی سے نکال دیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پارٹی فیصلوں سے انحراف کرنے پر مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمد سمیت 4 رہنماؤں کی پارٹی رکنیت ختم کردی۔

پارٹی کے مرکزی ترجمان محمد اسلم غوری نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمد خان شیرانی، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب خان اور مولانا شجاع الملک کو پارٹی سے خارج کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی مجلس شوریٰ کی انضباطی کمیٹی نے مولانا عبدالقیوم ہالیجوی کی صدارت میں یہ متفقہ فیصلہ کیا، جبکہ قائمقام امیر مولانا محمد یوسف کی صدارت میں مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی امرا و نظما نے اجلاس میں فیصلے کی توثیق کردی۔

اسلم غوری نے کہا کہ جماعت سے خارج کیے گئے افراد کو فیصلے کی کاپیاں بھجوا دی گئی ہیں اور ان کے بیانات اور رائے کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ 21 دسمبر کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن سے اختلاف سے متعلق واضح جواب دیے بغیر کہا تھا کہ ‘ہماری قسمت ایسی ہے کہ علما اور قومی زعما جب ان پر صاف ستھرا جھوٹ ثابت ہوجائے نہ وہ شرماتے ہیں نہ ان کے چہرے پر نہ آنکھوں میں کوئی تغیر آتا ہے، بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ یہ تو حکمت عملی ہے اور جب وعدہ خلافی ان پر ثابت ہوجائے تو کھل کھلا کر کہتے ہیں کہ یہ تو سیاست ہے، رات گئی بات گئی’۔

ان کا کہنا تھا کہ جب دھوکا ثابت ہوجائے تو پھر بڑے آرام سے تکیہ لگا کر کہتے ہیں کہ یہ تو مصلحت ہے، جب خود غرضی ثابت ہوجائے تو کہتے ہیں کہ یہ تو دانائی ہے۔

مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے میرے ساتھ تو دھوکا نہیں کیا۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تحریک مخاصمت برائے مفاہمت ہے تاکہ ان کو بھی حصہ ملے۔

دوسری جانب پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما حافظ حسین احمد نے نجی چینل ‘اے آر وائی’ کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن جس اسمبلی کو جعلی کہتے تھے وہاں سے صدارتی الیکشن لڑا اور ان کے بیٹے بھی وہیں موجود ہیں۔

قبل ازیں نومبر میں نواز شریف کے بیانیے سے اختلاف کرنے پر جے یو آئی (ف) نے حافظ حسین احمد کو مرکزی ترجمان کے عہدے سے ہٹادیا تھا اور انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

حافظ حسین احمد نے نواز شریف کے کوئٹہ میں بیان سے اختلاف کیا تھا۔

‘ایم کیو ایم ہماری اتحادی ہے اور رہے گی’

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ کھڑی ہونے والی جماعت دراصل پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، ایم کیو ایم پاکستان ہماری اتحادی تھی اور رہے گی، شہباز شریف اسمبلیوں سے استعفے دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے تحفظات جائز ہیں مگر وہ حکومت سے اتحاد ختم نہیں کرے گی، ایم کیوایم ہماری اتحادی ہےاوررہےگی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہروہ جماعت جوپاکستان کیساتھ کھڑی ہےوہ حکومت کے ساتھ ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ ’محمدعلی درانی پیر پگارا کا اہم پیغام لیکر شہباز شریف کے پاس گئےتھے، اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے تابوت میں اپنے گھر سے ہی کیل ٹھکا ہے‘۔

معاونِ خصوصی نے دعویٰ کیا کہ ’شہبازشریف اسمبلیوں سے استعفوں کےحق میں نہیں ہیں‘۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ، استعفوں کے دعوے زمین میں دفن ہوگئے ہیں، اسپیکر صاحب کے پاس  2 استعفے پہنچے تو ن لیگ میں ہلچل مچ گئی، انہوں نے ایوان چھوڑنا نہیں ہے اس لیے اب استعفے لطیفے بن گئے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’نوازشریف کی سالگرہ کےدن حکومت کےخاتمےکا تحفہ دینے نکلے تھے مگر آپ میاں صاحب اپنی سالگرہ کے دن پاکستان میں موجود نہیں ہیں، انہیں چاہیے کہ آج ہی اپنی واپسی کی تاریخ کا اعلان کریں اور پاکستان آکر قانون کا سامنا کریں‘۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ’اپنےبچوں کوشاہی محل میں رکھ کر آپ نے قوم کے پیسوں سے روزگار،کاروبار کیے، قائداعظم ڈے پر آپ نے اپنی سالگرہ تو رکھ لی مگرقائدکے افقارسے روح گردانی کی‘۔

شاہدخاقان عباسی کا نام ای سی ایل سے نکالنےکا نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے شاہدخاقان عباسی کا نام ای سی ایل سے نکالنےکی منظوری دےدی،سابق وزیر اعظم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

 نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی کابینہ نے شاہدخاقان عباسی کا نام 15 دنوں کیلئے ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دی ہے۔اس قبل رہنما مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسی نے امریکہ جانے کیلئے ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست کی تھی، درخواست میں ان کی جانب سے کہا تھا کہ ہمشیرہ اور بہنوئی کو کورونا ہے اور وہ علیل ہیں، ان کی عیادت کیلئے امریکہ جانا ہے۔ درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے کابینہ کی ای سی ایل کمیٹی نے نام نکالنے کی سفارش کی تھی۔ وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے شاہد خاقان عباسی کو جانے کی اجازت دی۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے ایل این جی کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب ) کی سفارش پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نام ای سی ایل میں شامل کیا تھا ۔نیب کے مطابق شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر ملزمان پر من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا 15 سال کے لئے ٹھیکے دینےاور مبینہ طور پر ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

‘کراچی کے بارے میں کوئی اتفاق رائے ہوا ہے تو حکومت مقامی لوگوں کو آگاہ کرے’

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ کراچی والوں کو زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے رکھا گیا، ان کو کم گنا گیا اور ان کی نمائندگی کو صرف 25 فیصد کردیا گیا مگر پھر بھی یہ شہر پاکستان کو 65 فیصد اور سندھ کو 95 فیصد ریونیو دیتا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ شہر تمام تر زیادتیوں، ناانصافیوں، نظر انداز کیے جانے اور بغیر کسی وجہ کے بڑے آپریشن کیے جانے کے باوجود پاکستان کو ریونیو کما کر دیتا ہے’۔

مردم شماری کو منظور کرنے کے وفاقی کابینہ کے فیصلے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کوئی قومی اتفاق رائے موجود ہے، بات سنی جارہی ہوتی ہے مگر عمل در آمد نہیں ہورہا ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ریاست اور حکومت سے سوال ہے کہ ایسا کوئی اتفاق رائے ہوگیا ہے تو کراچی کے عوام کو ضرور بتائیں’۔

اردو کے معروف شاعر اور مصنف شمس الرحمن فاروقی انتقال کر گئے

نئی دہلی: اردو کے معروف شاعر اور مصنف شمس الرحمن فاروقی 85 سال کی عمر میں انتقال کر گئے،وہ گذشتہ کچھ عرصہ سے کورونا وائرس کا شکار ہونے کے باعث شدید علیل تھے۔

تفصیلات کے مطابق اردو کے معروف شاعر اور مصنف شمس الرحمن فاروقی  نومبر میں کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے تاہم انہوں نے کورونا وائرس کو شکست دے دی تھی لیکن کورونا وائرس کے بعد ہونے والے کچھ مسائل کے باعث شدید علیل ہوگئے تھے جس کے دوران  بیماری سے انہیں ایک آنکھ بھی گنوانا پڑی تھی۔
اردو کے معروف شاعر اور مصنف شمس الرحمن فاروقی آج صبح ہی دہلی سے پرواز کے ذریعے الہ آباد پہنچے تھےتاہم وہ آج ہی شدید علالت کے باعث انتقال کر گئے،ان کی عمر 85 سال تھی۔

شمس الرحمن 30 ستمبر 1935 کو پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 1960 میں ادبی دنیا میں قدم رکھا۔ 1960 سے 1968 تک وہ انڈین پوسٹل سروسز میں پوسٹ ماسٹر رہے اور اس کے بعد چیف پوسٹ ماسٹر جنرل اور 1994 تک پوسٹل سروسز بورڈ، نئی دہلی کے رکن بھی رہے۔وہ الہ آباد میں ’شب خوں‘ میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ ان کی تصنیف ’کئی چاند اور تھے سرِ آسماں‘، ’افسانے کی حمایت میں‘ اور ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ کو اردو ادب میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔انہیں ’سرسوتی ایوارڈ‘ کے علاوہ 1986 میں اردو کے لئے ’ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ‘ سے بھی نوازا گیا تھا۔ سال 2009 میں انہیں پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

اپوزیشن کا اداروں سے جمہوری حکومت ختم کرنے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے، شبلی فراز

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا اداروں سے ایک جمہوری حکومت کو ختم کرکے انہیں حکومت دینے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے۔

شبلی فراز نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ان جماعتوں کا اداروں سے مطالبہ ہے کہ ایک جمہوری حکومت کو ہٹا کر ان کو حکومت میں لے آئیں اور اس کے بعد نیوٹرل ہوجائیں جو ایک مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس چیز پر جمہوری حکومت کو ہٹانےکامطالبہ کرتے ہیں وہ ایک شفاف انتخابات کے ذریعے وجودمیں آئی ہے، جس کی گواہی عالمی اداروں اور فافین نے تصدیق کی۔

شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 2013 کے انتخابات کے حوالے سے ایک تحریک چلائی تھی جوقانونی اور جمہوری طریقے پر منتج ہوئی، جس میں تمام مراحل کو طے کیا گیا، یعنی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس گئے، سپریم کورٹ کے پاس گئے، ایک جوڈیشل کمیشن بنا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ تھا 4 حلقوں کو کھولا جائے اور اسی کی بنیاد پر وہ 4 حلقے کھولے گئے، جہاں دھاندلی ثابت ہوئی، ہم نے پارلیمنٹ میں بھی یہ سوال اٹھایا تھا لیکن کیا ان سیاسی جماعتوں نے ان میں سے کسی ایک ادارے سے رجوع کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس دھاندلی کے ثبوت کیا ہیں، اگر ثبوت ہیں تو پیش کریں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آج ایک اہم سیاسی پیش رفت ہوئی ہے کیونکہ جو شخص اس تحریک کی سربراہی کر رہا ہے اور اس کی پارٹی کے اندر اس کے خلاف تحریک شروع ہوئی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کو حساب دینا ہوگا، علی امین گنڈا پور

اس موقع پر علی امین گنڈا پور نے کہا کہ میں نے کچھ دن پہلے مولانا فضل الرحمٰن سے چند سوالات پوچھے تھے لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا تاہم اداروں کی جانب سے بھیجے گئے سوال نامے پر انہوں نے دھمکیاں دی ہیں کہ پوری جماعت جا کر اداروں کا گھیراؤ کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ سمجھ بالاتر ہے، یہ کیا طریقہ ہے کہ ایک شخص قانون سے بالاتر ہوچکا ہے لیکن میں پیغام دیتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمٰن قانون سے بالاتر نہیں ہوئے اور آپ کو حساب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین اور جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے بھی سوالات اٹھائے ہیں، قوم ان کا جواب بھی چاہتی ہے۔

علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ چند دنوں میں ان کی اربوں روپے کی مزید جائیدادوں کے ثبوت پیش کروں گا، ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی بے نامی جائیدادوں کے ثبوت مل رہے ہیں جو اربوں روپے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ان کو چھوڑیں گے نہیں، اداروں کو دھمکی اور گھیراؤ کرنے کی باتیں قابل قبول نہیں ہیں، قوم کو اپنی پارٹی کے سوالوں کا جواب دینا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپنی پارٹی کے لوگوں کو ان کی حق اور سچ کی بات پر پارٹی سے نکالنا کوئی جمہوریت نہیں ہے کیونکہ یہ جمہوری تحریک تو ہے ہی نہیں کیونکہ فوج سے ایک منتخب حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہم پہلے کہتے تھے کہ پی ڈی ایم ایک پاکستان ڈکیت موومنٹ ہے تو میری درخواست ہے کہ اس کو آئندہ اسی نام سے لکھا اور پکارا جائے۔

شبلی فراز نے صحافیوں کو مولانا فضل الرحمٰن پر ان کی جانب سے عائد کیے الزامات سے متعلق سوالات کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جس تحریک کی رہنمائی مولانا فضل الرحمٰن کر رہے ہیں وہ اپنے خلاف کیسز کے جواب دینے کے بجائے دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپنی ہی پارٹی کی طرف سے عدم اعمتاد کیا گیا جس سے ہم سمجھیں گے کہ وہ اپنی جماعت میں غیر متعلقہ ہوگئے ہیں اور پی ڈی ایم خود دم توڑ رہی ہے کیونکہ ان کے تضادات سامنے آگئے ہیں، ایک استعفیٰ دینا چاہتا ہے لیکن دوسرا نہیں دینا چاہتے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کو کمزور کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کے تاثر سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ہم نے کچھ کیا ہے، جن شخصیات کی بات کر رہے ہیں وہ پارٹی کے ورکر نہیں تھے کہ ان کے اندر نفاق ڈال رہے ہیں بلکہ یہ چیزیں بڑے عرصے سے چلی آرہی تھی کہ کس طرح وہ اپنے گھروالوں کو نوازتے ہیں اور پارٹی میں عدم تحفظ ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ ہم عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کی صدارت ایک ایسا شخص کر رہا ہے جس کی اپنی گھر میں عزت نہیں ہے، اس کو بتانا ہمارا فرض ہے اور اسی وجہ سے ہم بتا رہے ہیں۔

پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس 2 جنوری کو اسلام آباد میں ہوگا

اسلام آباد: حکومت مخالف اتحاد(پی ڈی ایم) کا سربراہی اجلاس طلب کرلیا گیا،پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس 2 جنوری کو اسلام آباد میں ہوگا۔

ترجمان کے مطابق 2 جنوری کو اسلام آباد میں طلب کیے گئے حکومت مخالف اتحاد(پی ڈی ایم) کےسربراہی اجلاس کی صدارت جمیعت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کریں گے۔اجلاس میں استعفوں،لانگ مارچ،سینٹ الیکشن اور ضمنی انتخابات سمیت دیگر امور زیر بحث ہوں گے جبکہ اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال اورپی ڈی ایم کی اب تک کی کارکردگی کے حوالے سے بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے پی ڈی ایم قیادت کی کردار کشی مہم کی مذمت کی جائے گی اور اجلاس میں حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر مشاورت کی جائے گی۔

قوم زندگی کے ہر شعبے میں قائد اعظم کے نقش قدم پر چلے، صدر و وزیراعظم

وزیر اعظم اور صدر مملکت نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو ان کے 145ویں یوم پیدائش پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قوم سے زندگی کے ہر شعبے میں ان کے نقش قدم پر چلنے کی اپیل کی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے قیام پاکستان میں کردار پر قائد اعظم محمد علی جناح کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ ہمارے عظیم قائد کی پیروی کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کرے اور زندگی کے ہر شعبے میں اس کے نقش قدم پر چلے۔

انہوں نے بانی پاکستان کے یوم پیدائش کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ آئیں ہم قائد تحریک کے اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کو ایک نئی قومی روح کے ساتھ زندہ کرتے ہیں تاکہ ہم اس ملک کو تمام نظر آنے اور نہ آنے والے چیلنجوں سے نمٹنے میں کامیابی دلائیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس اہم واقعے کے دن جب قائداعظم محمد علی جناح پیدا ہوئے تو ایک قابل فخر قوم کو وجود میں آنا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ خدا ک منتخب شخصیت کی بدولت میں نے ایک آزاد ماحول میں آنکھیں کھولیں اور وہ ہمارے محبوب قائد کے سوا کوئی اور نہیں تھی۔

نیوزی لینڈ کا ٹور ہمیشہ چیلنجنگ رہا ہے: اظہر علی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اظہر علی نے نیوزی لینڈ کے ٹور کو ہمیشہ کی طرح چیلنجنگ قرار دیاہے۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے درمیان 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ کل سے ماؤنٹ منگنوئی میں شروع ہو گا۔

ٹیسٹ میچ سے قبل پاکستان کے سینئر بیٹسمین اظہر علی نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں آکر بہت مشکل وقت گزرا ہے لیکن ٹیسٹ سیریز اچھا کرنے کے منتظر ہیں، 14 روز کے قرنطینہ کے بعد 4 روزہ میچ کھیلا جس سے بڑی مدد ملی۔

انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کا ٹور ہمیشہ چیلنجنگ رہا ہے لیکن کوشش ہے کہ جلد از جلد ایڈجسٹ ہوں کیونکہ یہاں سیٹ ہو جائیں تو پھر بہت آسانی ہوتی ہے۔

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ مختصر وقت میں تیاریوں کا موقع ملا ہے، ٹیسٹ سے قبل کوشش یہی رہی ہے کہ ٹریننگ سیشن میں ایک یونٹ بن سکیں اور اکٹھے ہو کر کھیل سکیں کیونکہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے ٹیسٹ اسکواڈ میں 10،11 تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  2 دن کے وقت کا بہترین استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سپورٹ کریں اور سب کو ساتھ لے کے چلیں، سینئر کھلاڑی ہونے کے ناطے میری کوشش ہو گی کہ اپنے تجربے کو یہاں استعمال کروں اور پرفارم کروں کیونکہ ٹیم سینئر کھلاڑیوں سے توقعات رکھتی ہے، میں جو بھی مدد کرسکتا ہوا کروں گا۔

اظہر علی کا ماننا ہے کہ ایشین سائیڈز کے لیے یہاں کنڈیشنز کی وجہ سے چیلنجنگ رہا ہے لیکن جب آپ یہاں سیٹ ہوجاتے ہیں تو آپ کے لیے بڑی اننگز کھیلنے کے لیے اچھا موقع ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو یہاں سیٹ ہوجائے اس کی یہی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ بڑی اننگز کھیلے، بولروں کا یہاں بڑا اہم کردار ہے کیونکہ بولروں کو یہاں کی کنڈیشنز سے مدد ملتی ہے۔

قومی کرکٹر کا کہنا تھا کہ ایشین ٹیمز کے لیے جیسی وکٹیں بنتی ہیں اس پر بولروں کا کردار اہم ہو گا اور ان کی بڑی ذمہ داری ہو گی کہ مخالف ٹیم کو جلد آؤٹ کریں۔

زمین پر کوئی قوت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی، آرمی چیف

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بابائے قوم کی یوم پیدائش کے موقع پر کہا ہے کہ زمین پر کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ زمین پر کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ قوم قائد اعظم کے یوم پیدائش کو عقیدت و احترام سے منا رہی ہے اور ان کے امید، ہمت اور اعتماد کے پیغام کو اپنائے ہوئے ہے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ایمان، اتحاد اور تنظیم ہمیشہ ہماری عظیم قوم کے رہنما اصول رہیں گے۔

اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قوم سے زندگی کے ہر شعبے میں ان کے نقش قدم پر چلنے کی اپیل کی تھی۔

واضح رہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن کی شکل میں عظیم تحفہ دینے والے قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔

قوم آج ان کے 145ویں یوم پیدائش کو عقیدت و احترام سے منا رہی ہے اور اس سلسلے میں ملک بھر میں آج عام تعطیل بھی ہے۔

آج کے دن کا آغاز مملکت پاکستان کی سلامتی، ترقی و خوشحالی کی دعاؤں کے ساتھ ہوا اور کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جہاں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹس نے گارڈز کے فرائض سنبھالے۔

اپنی انتھک جدوجہد سے برصغیر کے مسلمانوں کو آزاد وطن دینے والے محمد علی جناح پیشے کے اعتبار سے وکیل اور ایک سیاست دان تھے، انہوں نے 1913 سے 14 اگست 1947 تک پاکستان کی آزادی تک آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور پھر وہ 11 ستمبر 1948 کو اپنی وفات تک پاکستان کے پہلے گورنر جنرل رہے۔

محمد علی جناح کی شخصیت ایک اعلیٰ اور مثالی کِردار کی حامل تھی، انہوں نے مذہب کے جمہوری اور انصاف پر مبنی اُصولوں کو اپنا کر عزت حاصل کی، وکالت اور سیاست میں رہ کر اپنے دامن کو صاف ستھرا رکھا اور مسلمانوں کی ذِہنی تعمیرِنو میں روشنی کا مینار بنے رہے۔

انہوں نے حصول منزل کے لیے ایک ایسی بے مثل قیادت فراہم کی جس نے بے شمار رکاوٹوں کے باوجو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک علیحدہ وطن کا قیام یقینی بنادیا۔