31جنوری تک استعفیٰ دو:پی ڈی ایم

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت کو 31جنوری تک مستعفی ہونے کی مہلت دے دی۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہاہے کہ اگر حکومت 31جنوری تک مستعفی نہ ہوئی تو یکم فروری کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا‘ ہم ان سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہیں، اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے الیکشن کے اعلان کے بعد کوئی تجویز آئی تو پی ڈی ایم بات چیت کا فیصلہ کرے گی۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہناہے کہ حکومت سے مذاکرات کا وقت گزر چکا ‘ اب عمران خان کے استعفے کا وقت ہے جبکہ مسلم لیگ (ن)کی نائب صدرمریم نوازکا کہناتھاکہ ہم نے اسٹیبلشمنٹ ‘حکومت ‘کورونا اور موسم کی مخالف کے باوجود لاہورمیں تاریخی جلسہ کیا‘ہم عوام کی عدالت میں جاچکے ہیں۔

سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو پیچھے جانا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکو جاتی امراءمیں پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 31 دسمبر تک ارکان قومی و صوبائی اسمبلی استعفے اپنی جماعت کے قائدین کو دے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ واضح کردیناچا ہتےہیں کہ اگر حکومت 31 جنوری تک مستعفی نہ ہوئی تو یکم فروری کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا۔

ہم ان سے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہیں، اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے الیکشن کے اعلان کے بعد کوئی تجویز آئی تو پی ڈی ایم بات چیت کا فیصلہ کرے گی۔

اسٹیرنگ کمیٹی نے صوبوں کو لانگ مارچ کیلئے جو شیڈول دیے ہیں وہ برقرار رہیں گے لہٰذا عوام آج سے ہی لانگ مارچ کی تیاری شروع کردیں ۔جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچائیں گے، اس حکومت میں پاکستان کے دفاع کی صلاحیت نہیں۔

اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے پی ڈی ایم پلیٹ فارم سے کریں گے‘اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے، عمران کے استعفے کا وقت ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹیوکمیٹی کے فیصلے کا میں بھی پابند ہوں اور اعتزاز احسن بھی پابند ہیں۔

اس موقع پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ پوری زندگی میں ایسا جلسہ میں نے نہیں دیکھا‘ اسٹیبلشمنٹ ‘حکومت ‘کورونا اور موسم کی مخالف کے باوجود لاہورمیں تاریخی جلسہ کیا ‘ مجھے کوئی کرسی نظر نہیں آئی، لوگ کھڑے رہے، جلسہ سنتے رہے، میں نے ارکان صوبائی اسمبلی سے گلہ کیاکہ جلسہ گاہ چھوٹی رکھی گئی، لوگوں کو جلسہ گاہ سے باہر سڑک پر کھڑا ہو کر خطاب سننا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ بہت افسوس کی بات ہے جس بات کا وجود ہی نہیں وہ بات چند چینلز نے چلائی، میں نے اپنی لاہور کی پارٹی اور ایم این ایز کی کاوش کو سراہا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھاکہ شاہد خاقان عباسی ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچے کیونکہ ان کو رش کی وجہ سے رستہ نہیں ملا، میں نے اتنا جذبہ اپنی زندگی میں کسی جلسے میں نہیں دیکھا، میں حیران ہوں، اتنی سردی میں لوگ کھڑے رہے۔

لیگی نائب صدر کا کہنا تھاکہ حکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود لاہوریوں نے کسی بات کی پرواہ نہیں کی، ہم ابھی گھر سے نہیں نکلے تھے، پروپیگنڈاشروع کردیا گیا تھا، مجھے پکا پتاہے ادھر صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی عدالت میں جاچکے ہیں، سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو پیچھے جانا ہوگا، سلیکٹڈ حکومت نے مخالفین کو دشمنوں کی طرح ٹریٹ کرنے کا طریقہ بنایا ہے، ہم ایک دوسرے کے انتخابی حریف ضرور ہیں لیکن دشمن نہیں، ملک کے سیاسی معاشی اوربہت سے پہلو پرمشترکہ نظریہ پر دستخط کرچکے ہیں۔

اسرائیل کی آئندہ ماہ تک یو اے ای میں سفارت خانہ کھولنے کی تیاریاں

ابو ظہبی: اسرائیل نے آئندہ ماہ تک عرب امارات میں سفارت خانہ اور قونصل خانہ کھولنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے آئندہ سال جنوری تک متحدہ عرب امارات میں سفارت خانہ اور قونصل خانے کھولنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امید کرتے ہیں کہ سفارتخانہ کا افتتاح رواں ماہ دسمبر کے آخر میں کردیا جائے گا جب کہ اس حوالے سے ایک اسرائیلی وفد گزشتہ ہفتے عرب امارات کے دورہ پر تھا جہاں سفارت خانہ کے لیے جگہ کا معائنہ کیا گیا تاہم ابھی جگہ کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ سفارتی مشن پوری دنیا میں سب سے بڑا ہوگا تاہم سفارت خانہ اور قونصل خانہ واقعی میں بہت بڑے ہوں گے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرب امارات میں اسرائیلی سفارت خانہ واشنگٹن، لندن اور ماسکو میں قائم اسرائیلی سفارت خانوں کی طرح بڑا ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال اگست میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک امن معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت دونوں فریقین کے درمیان نہ صرف سفارتی تعلقات قائم کیے جانے تھے بلکہ اسرائیل نے جواب میں کہا ہے تھا کہ وہ مغربی کنارے کے بہت بڑے رقبے پر اسرائیل کے توسیعی عمل کو بھی روک دے گا۔

وزیراعلیٰ کو محمود اچکزئی کی پنجاب داخلے پر پابندی عائد کرنی چاہیے، فواد چوہدری

وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو پارلیمان میں مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کہیں نہیں جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں معاون خصوصی شہباز گل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ لاہور نے پی ڈی ایم کے جلسے کو ناکام بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن سے کہنا چاہتے ہیں کہ اپنی ٹکراؤ کی پالیسی پر نظر ثانی کریں، عمران خان اور حکومت کہیں نہیں جارہی ہے اور نہ ہی آپ بھیج سکتے ہیں، اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات اور رابطوں کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں، آئیے بات کرتے ہیں اور اگلے چلتے ہیں۔

ایک سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ ‘میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ جس طرح محسن داوڑ کی بلوچستان میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے، وزیراعلیٰ کو اچکزئی کی پنجاب میں پابندی عائد کردینی چاہیے، کسی جگہ کسی نے بدتمیزی کردی تو مسئلہ ہوگا، بہتر ہے اس پر قانونی اقدام ہو’۔

حکومت کے اپوزیشن کے رابطے سے متعلق انہوں نے کہا کہ ‘اسپیکر صاحب نے سب کے سامنے دعوت دیا تھا، وزیراعظم نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ بہترین مقام ہے تو اسپیکر مذاکرات کے لیے اہم ترین شخصیت بن جاتے ہیں’۔

چین پاکستان کو سعودی قرض کی واپسی کیلیے ڈیڑھ ارب ڈالر دینے پر رضامند

چین پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے دیا گیا قرض واپس کرنے کے لیے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر  فوری طور پر دینے پر رضامند ہو گیا۔

یہ دوسری مرتبہ ہے کہ چین پاکستان کی مدد کے لیے سامنے آیا ہے، اس معاشی سال کے پہلے سہہ ماہی میں بھی پاکستان نے چین کی مدد سے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر کا قرض واپس کیا تھا۔

اس طرح پاکستان سعودی عرب سے لیے گئے 3 ارب ڈالر قرض میں سے دو ارب ڈالر تین فیصد سود کے ساتھ واپس کر دے گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان کل تک سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر کی رقم ادا کر دے گی جبکہ باقی رہ جانے والے ایک ارب ڈالر بھی پاکستان آئندہ ماہ ادا کر دے گا۔

وزارت خزانہ کے حکام سے اس حوالے سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ دو ممالک کے درمیان خفیہ معاملہ ہے۔

اس پیشرفت سے جڑے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ رقم جمع کرنا آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے اور قرض دینے والی اتھارٹی نے معاہدے کے وقت زبانی اور تحریری گارنٹی لی تھی کہ پیکج کے دورانیے کے دوران معاہدے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن چیف ارنسٹو ریمیریز رگو مالی ادائیگیوں کے معاہدے کے وقت توثیق کے لیے چین بھی گئے تھے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اکاؤنٹ میں 15 دسمبر 2018 کو تین سالہ مدت کے لیے رقم ڈالی گئی تھی اور پاکستان یہ رقم متعلقہ شیڈول سے پہلے واپس کر رہا ہے۔

مودی حکومت کی موجودگی میں پاک بھارت سیریز کا انعقاد مشکل ہے، وسیم خان

کراچی: چیف ایگزیکٹیو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کہ بھارت سے کھیلنے کو تیار ہیں لیکن مودی حکومت کی موجودگی میں دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ سیریز مشکل ہے کیوں کہ بھارتی بورڈ کو سیریز کیلیے اپنی حکومت سے اجازت درکار ہوتی ہے۔ 

کراچی پریس کلب  کے دورے کے موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم خان کا کہنا تھا کہ ٹور سلیکشن کمیٹی با اختیار ہے، بابراعظم کے ان فٹ ہونے پر نئے کپتان کا فیصلہ ٹور سلیکشن کمیٹی خود کرے گی، پی سی بی پانچ سالہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

وسیم خان نے کہا پالیسی کے تسلسل کیلیے خواہش ہے کہ اگلی مدت کے لیے بھی بورڈ میں زمہ داریاں ادا کرتا رہوں، چیف ایگزیکٹیو نے مزید کہا کہ مسائل ضرورہیں لیکن اس کے باوجود ڈومیسٹک کرکٹ جاری رکھے ہوئے ہیں، آئندہ برس ایک نہیں چار ٹیمیں دورہ پاکستان کریں گی۔

فیوچر ٹور پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وسیم خان نے کہا بھارت سے کھیلنے کو تیار ہیں،جب تک مودی کی حکومت ہے دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ سیریز مشکل ہے، بھارتی بورڈ کو سیریز کیلیے اپنی حکومت سے اجازت درکار ہوتی ہے، ملک میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بتدریج بحالی ہورہی ہے، گزشتہ دو برس میں بہتری کے لیے اقدام کیے ہیں، جنوبی افریقہ کے پاکستان آنے سے بہت فائدہ ہوگا، انگلینڈ جاکر کھیلنا کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں تھا، مقصد انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی تھی۔

وسیم خان کا کہنا تھا کہ 2015 سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی جاری ہے،  پی سی بی نے نیا ڈومیسٹک اسٹرکچر تشکیل دیا، سسٹم کو تبدیل کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا، نئے نظام کے نتائج دنوں میں نہیں آئیں گے، بہترین سابق کرکٹرز کی خدمات حاصل کیں جب کہ بنی گالا سے ہدایات آنے کی بات درست نہیں، سابق کرکٹر ہونے کے ناطے وزیر اعظم سے مشاورت ضرور ہوتی ہے تاہم وہ بورڈ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔

پی ڈی ایم احتجاج:وزیراعلیٰ سندھ نےاستعفیٰ بلاؤل ہاؤس بھیج دیا

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے استعفوں کے فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی اپنا استعفیٰ پارٹی قیادت کو ارسال کر دیا۔

مراد علی شاہ نے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ بلاؤل ہاؤس بھیجا۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بیرون ملک روانگی سے قبل استعفی بلاول ہاؤس میں جمع کرایا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وزارت اعلیٰ اور اسمبلی رکنیت پارٹی کی امانت ہے۔ پارٹی کے فیصلوں کے تحت اسمبلی رکنیت چھوڑنے کو تیار ہوں۔

وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے استعفی ہاتھ سے تحریر کیا جو اسپیکر صوبائی اسمبلی کے نام لکھا گیا ہے۔

دوسری جانب ترجمان سندھ حکومت نے صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے کا عندیہ دے دیا۔ ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اسمبلی تحلیل بھی ہوسکتی ہے۔ امر اکبر انتھونی کے خواب پورے نہیں ہوسکتے۔ آئینی اعتبار سے اسمبلی کو تحلیل کرنا بھی وزیراعلیٰ کا اختیار ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ کی جانب سے حکومت مخالف تحریک کے اگلے لائحہ عمل کے طور پر عہدوں اور رکنیت سے استعفوں کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے اب پورا ملک اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرے گا۔

قبل ازیں سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے استعفوں کے فیصلے کے تحت حکومت کو 2 روز قبل اپنا استعفیٰ ارسال کیا۔ ناصر حسین شاہ صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے سکھر پی ایس 25 سکھر/ روہڑی سے منتخب ہوئے۔

میڈیا سے گفتگو میں سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات پر استعفی اسپیکر سندھ اسمبلی کو جمع کرا دیا ہے۔ پارٹی قائدین کے ہر فیصلے کے پابند ہیں۔

اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج پر حملے کا منصوبہ ناکام، 3 ’دہشتگرد‘ گرفتار

راولپنڈی: محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے خفیہ اطلاع پر کیے گیے آپریشن کے دوران پیرودہائی دھماکے سمیت مختلف بم حملوں میں ملوث 3 دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کردیا۔

ترجمان سی ٹی ڈی کی جانب سے بتایا گیا کہ خفیہ اطلاع پر راولپنڈی میں سواں پل کے قریب آپریشن کیا گیا جہاں اڈیالہ روڈ سے ان تینوں افراد کو گرفتار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ تینوں افراد 4 مختلف بم دھماکوں میں ملوث تھے جس میں پیرودہائی میں ہونے والا بم دھماکا بھی شامل تھا۔

ترجمان نے بتایا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے بارودی مواد، ڈیٹونیٹرز، موبائل فونز برآمد کیا گیا جبکہ ان ملزمان کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود ہے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج پر دھماکا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں عمل میں آئی ہیں جب گزشتہ دنوں راولپنڈی میں تھانہ گنج منڈی کے قریب دستی بم دھماکے میں 25 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

سی ٹی ڈی ترجمان نے بتایا تھا کہ گنج منڈی تھانہ کے سامنے جوتے فروخت کرنے والوں کے درمیان پھینکا گیا تھا۔

اس سے قبل 4 دسمبر کو راولپنڈی کے علاقے پیرودہائی میں ایک بس اسٹینڈ کے قریب رکشے میں دھماکا ہوا تھا جس میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا تھا۔

ریسکیو اور پولیس حکام نے دھماکے میں 45 سالہ محمد افضل خان کے جاں بحق ہونے اور 7 افراد زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

پولیس حکام نے بتایا تھا کہ دھماکا دیسی ساختہ آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا جس میں بارود کے ساتھ بال بیرنگ استعمال کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سیکیورٹی ایجنسیز نے انیٹلی جنس پر مبنی ایک مشترکہ آپریشن میں بھارتی خفیہ ایجنسی کی مبینہ طور پر سرپرستی میں چلنے والے مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک کو پکڑا تھا۔

پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی اور ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کے انسداد دہشت گردی ونگ نے مذکورہ گرفتاری اس وقت کی تھی جب کچھ گھنٹے بعد ان مشتبہ دہشت گردوں نے سول سیکریٹریٹ کے بند ہونے کے وقت اس کے پیپلزہاؤس گیٹ کے سامنے دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد (آئی ای ڈی) سے دھماکا کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔

مشتبہ افراد کے موبائل فونز کے فرانزک جائزے میں ان کے افغانستان میں موجود بھارتی ریسرچ اینڈ اینالیسز ونگس (را) کے ان حکام سے مبینہ طور پر رابطوں کا انکشاف بھی ہوا ھتا، جو منصوبے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ تھے۔

اپوزیشن کیلئے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتے، شیخ رشید

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ عمران خان سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے تو اس کا نام تا دیں جس سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، ہم اس سے کروا دیتے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفگو وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ ہم ایک منتخب جمہوری حکومت ہیں اور عمران خان کی قیادت میں اس ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آپ جس جمہوریت کی بات کررہے ہیں ہمیں خوشی ہو گی، ہم مذاکرات کے دروازے نہیں بند کرنا چاہتے، آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم آپ سے، عمران خان سے بات نہیں کرنا چاہتے، تو پھر آپ بتائیں کس سے بات کرنا چاہتے ہیں، اس سے کروا دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امن کا، خلوص کا، معیشت کے مضوبط ہونے کا راستہ نکلے، اہل لاہور نے کل جس ذمے داری کا ثبوت دیا ہے اگر مولانا فضل الرحمٰن کے دینی مدارس کے لوگ نہ آتے تو میرا خیال ہے کہ انہیں بہت ہی مایوسی ہوتی۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ انہیں اسی لاہور میں سیاسی حزیمت اٹھا پڑی ہے جس میں وہ بڑے بلند و بانگ دعوے کرتے تھے، کل وہاں ان کی سیاست کا جنازہ نکلا ہے، میں نے کہا تھا کہ بیچ منجدھار میں آپ کی کشتی ڈوبے گی اور کل یہ ڈوبی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے دو رکنی ایجنڈا دیا ہے جس میں پہلا استعفیٰ ہے تو ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں، جتنا جلدی ہو ایسا کریں اور دوسرا ایجنڈا آپ نے دیا ہے کہ اسلام آباد مارچ کرنا چاہتے ہیں جو آپ فروری میں لے گئے، آپ اسلام آباد آئیں کیونکہ یہ آپ کا بھی ہے یکن ہم وہ کریں گے جو آئین اور قانون ہمیں اجازت دیتا ہے۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ میری آج بطور وزیر داخلہ پہلا دن ہے اور میری وزیر اعظم سے تفصیلی ملاقات بھی ہوئی ہے، یہ میری 15ویں وزارت ہے لیکن میں نے وزارت داخلہ پہلے کبھی نہیں کی۔

اداکارہ صنم جنگ بھی کورونا سے متاثر

اداکارہ ومیزبان صنم جنگ کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئیں جس کے بعد بعد انہوں نے 4 سالہ بیٹی کے ہمراہ خود کو قرنطینہ کرلیا۔

پاکستان شوبز انڈسٹری کی 32 سالہ اداکارہ صنم جنگ نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے کی۔

اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوری  میں لکھا کہ میں اپنے تمام خیر خواہوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میرا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں اور میری بیٹی مکمل طور پر قرنطینہ ہوگئے ہیں اور شکر گزار ہوں کہ کوئی شدید علامات موجود نہیں ہیں‘۔

اداکارہ نےاپنی پوسٹ میں مداحوں سے درخواست کی کہ اس وبا کو سنجیدگی سے لیں،کورونا ایک حقیقت ہے، برائے مہربانی ضروری احتیاطی تدابیر اپنائیں، ماسک پہنیں اور عوامی جگہوں پر جانے سے گریز کریں گھر میں رہیں اور خود کومحفوظ رکھیں۔

اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے مداحوں سے اپنی اور بیٹی کے لیے دعاؤں کی اپیل بھی کی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل شوبز انڈسٹری کی مقبول اداکارہ ماہرہ خان بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق کرچکی ہیں۔

سعودی عرب نے کورونا کیخلاف جنگ جیتنے کا اعلان کردیا

ریاض: سعودی حکومت نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے کا اعلان کردیا۔

عرب خبر رساں ادارےکے مطابق سعودی حکومت کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہےکہ حکومت نے کامیابی سےکورونا وائرس پر قابو لیا ہے۔

عرب میڈیا کا کہنا ہےکہ سعودی عرب میں اتوار کے روز کورونا کے صرف 139 کیسز رپورٹ ہوئے جو ملک میں مارچ سے شروع ہونے والی کورونا لہر کےبعد اب تک سب سے کم کیسز ہیں۔

سعودی وزارت صحت نے اس بات کی تصدیق کی ہےکہ ملک میں کووڈ کی صورتحال یہ ظاہر کررہی ہےکہ ملک کے زیادہ تر علاقے کورونا سے محفوظ ہیں جب کہ گزشتہ چند ہفتوں میں کیسز 50 سے نیچے آئے ہیں۔

سعودی وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم ان ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے وائرس پر تیزی سے قابو پایا جس سے کیسز میں کمی آئی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سعودیہ نے اب کورونا پر مزید بہتر قابو پالیا ہے اور یہ کامیابی عوام کی جانب سے حکومتی اقدامات پر عمل پیرا ہونے سے حاصل ہوئی کیونکہ یہ عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوتا کہ حکام ان کی صحت کا تحفظ یقینی بنائیں۔

ترجمان کا ویکسین کے حوالے سے کہنا تھا کہ ڈیٹا اس بات کو ظاہر کرتا ہےکہ دنیا بھر میں ویکسین کے اچھے اثرات ہیں اور ویکسین عوام کی صحت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بہت اہم ہے۔

واضح رہےکہ سعودی عرب نے فائزر اور بائیو این ٹیک کی کورونا ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔