علی ظفر کیخلاف مہم: میشا اور عفت عمر سمیت دیگر قصور وار قرار

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع اور اداکارہ عفت عمر سمیت دیگر کو قصور وار قراردے دیا۔

ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ نے علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کی تحقیقات مکمل کر لی ہیں جس میں گلوکارہ میشا شفیع اور اداکارہ عفت عمر سمیت دیگر کو قصور وار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف عبوری چالان عدالت میں جمع کرا دیا

ایف آئی اےسائبر کرائمز ونگ لاہور کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے عبوری چالان میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے حکم پر علی ظفر کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات کی گئیں۔

ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات میں میشا شفیع اور عفت عمر سمیت 8 افراد علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم میں ملوث پائے گئے۔

چالان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزمان نے علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے مگر تحقیقات میں وہ کوئی شواہد پیش نہیں کر سکے۔

ایف آئی اے نے استدعا کی ہے کہ عدالت عبوری چالان پر کارروائی کا آغاز کرے۔

جوبائیڈن کے آنے سے زیادہ دہشتگرد ٹرمپ کے جانے کی خوشی ہے: ایرانی صدر

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ انہیں جوبائیڈن کے آنے سے زیادہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جانے کی خوشی ہے۔

ایران کی کابینہ سے خطاب میں صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دہشتگرد قرار دیتے ہوئے کہا انہیں خوشی ہے کہ ایک لاقانونیت والا امریکی صدر جا رہا ہے۔

حسن روحانی کا کہنا تھا خوشی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اقتدار چھوڑ رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے سب سے زیادہ لاقانونیت والے صدر اور دہشت گرد تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صدر جوبائیڈن کے آنے کی بہت زیادہ خوشی تو نہیں لیکن ٹرمپ کے جانے کی خوشی ضرور ہے۔

خیال رہے کہ امریکی الیکشن کمیشن نے 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں جوبائیڈن کی فتح کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

سانحہ اے پی ایس کے بعد پوری قوم نے متحد ہو کر دہشتگردی کو شکست دی: وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس تو پیسے نہیں کہ سارے پاکستان میں ہسپتال بناتی پھرے نہ ہی وسائل ہیں، بدقسمتی سے ہمارے پاس قرضوں کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ ٹیکس کی مد میں ہونے والی آمدن کا نصف حصہ تو قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔

پشاور میں ادارہ برائے امراض قلب کے افتتاح کے موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس اتنے فنڈز نہیں کہ 22 کروڑ افراد کو ہیلتھ کوریج دیں لیکن ہیلتھ کارڈ کی وجہ سے نجی سیکٹر آئے گا اور وہ آگے آرہا ہے ہسپتال بنانے کے لیے، کیوں کہ جس کے پاس ہیلتھ کارڈ ہوگا وہ سرکاری یا نجی کسی بھی ہسپتال سے اپنا علاج کرواسکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کا مطلب کہ وہ علاقے جہاں نجی شعبہ ہسپتال بنانے کے لیے نہیں جاتا تھا کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ لوگوں کے پاس وسائل ہی نہیں، لیکن اب نجی شعبہ ان غریب علاقوں میں ہسپتال قائم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جن دو صوبوں میں ہے ادھر میں نے ہدایت دے رکھی ہے کہ نجی شعبے کو ہسپتالوں کے لیے سستے داموں زمین فراہم کی جائے اور پنجاب میں تو اوقاف کی زمینوں پر سستے داموں ہسپتالوں کی تعمیر کی ہدایت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زمین سستی کرنے کے ساتھ ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے وہ تمام آلات جو ملک کے اندر نہیں بنتے انہیں ڈیوٹی فری کردیا گیا ہے اور پھر ہیلتھ کارڈ کی وجہ سے لوگوں کے پاس خرچ کرنے کی صلاحیت آجائے گہ تو آپ دیکھیں گے کہ پورے پاکستان میں انقلاب آجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی سب سے اہم ذمہ داری عوام کی صحت کا دھیان رکھنا ہے تو یہ بہت بڑا اقدام ہے، ساتھ ہی انہوں نے پشاور کارڈیک انسٹیٹیوٹ کا معیار برقرار رکھنے کی خصوصی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کا معیار آہستہ آہستہ گرتا چلا جاتا ہے جسے برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شوکت خانم آج سے 25 سال پہلے تعمیر ہوا تھا لیکن اس کے معیار میں کمی نہیں بلکہ صرف اضافہ ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ سرکاری ہسپتال معیاری ہوں تا کہ وہ نجی ہسپتالوں کا مقابلہ کرسکیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ لوگوں کی اموات امراض قلب اور کینسر کی بیماریوں سے ہوتی ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کو پشاور کارڈیک انسٹیٹیوٹ کی تکمیل پر مبارکباد دی اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت میں امراض قلب کے ادارے کا نہ ہونا بہت بڑا ظلم تھا۔

انہوں نے بتایا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں امراض قلب کے شعبے کی صورتحال بہت بری تھی اور وہاں شرح اموات خاصی بلند تھی جس کی وجہ سے اسے بند کرنا پڑا اس وجہ سے ایک خصوصی کاڑدیک انسٹیٹیوٹ کی بہت ضرورت تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس ادارے کی تعمیر کا منصوبہ کافی پہلے بنایا گیا تھا لیکن فنڈز اور وسائل کی کمی تھی اور اب جب کہ کورونا وبا پھیلی ہوئی ہے اس دوران ان فنڈز کو تلاش کر کے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر میں صوبائی حکومت کو مبارکباد دیتا ہوں۔

عمران خان نے کہا یہ ہسپتال نہ صرف سارے صوبے کے لیے مفید ہوگا بلکہ ایسی کوئی سہولت اس علاقے میں نہ ہونے کی وجہ سے افغانستان سے بھی مریض یہاں علاج کروانے آئیں گے۔

ہیلتھ کارڈ سے ملک کے نظام صحت میں انقلاب لے آئے

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے پورے صوبے کے عوام کو ہیلتھ انشورنش فراہم کرنے کے فیصلے پر انہیں سب سے زیادہ خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اس سے بڑی نعمت کسی قوم بالخصوص غریب طبقے کے لیے نہیں ہوسکتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسی غریب گھر میں کسی کو کوئی بیماری ہو تو وہ پورا گھرانہ غربت کی لکیر سے نیچے چلاجاتا ہے جس پر آج تک کسی حکومت نے نہیں سوچا تھا، ایک ایسا ملک جہاں اشرافیہ، وزیراعظم، وزرا علاج کے لیے باہر چلے جاتے ہیں وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اگر کسی عام آدمی کے گھر میں مشکل وقت یا بیماری ہو تو وہ کیا کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ بار بار کہتے ہیں کہ ریاست مدینہ کہاں ہے تو یہ قدم ریاست مدینہ کی جانب ہے، اُس ریاست میں دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریاست نے کمزور طبقے کی ذمہ داری لی تھی جس کے لیے انہوں نے صرف اپنی ذہنیت تبدیل کی تھی باقی تو اللہ کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست نبی ﷺ نے بنائی تھی، ان کے پاس بھی وسائل نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج صوبائی حکومت نے صوبے کے تمام شہریوں کو ہیلتھ انشورنس دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ہم سے کہیں زیادہ امیر ممالک تک میں عوام کو یونیورسل ہیلتھ کوریج نہیں دی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے ہر غریب گھرانے کو یہ اعتماد حاصل ہوگا کہ کسی بیماری کی صورت میں ان کے پاس ہیلتھ کارڈ ہے دوسرا شاید آپ کو بھی اندازہ نہیں کہ آپ صحت کے معاملے میں پاکستان میں انقلاب لے آئے ہیں اس سے آپ کا پوا نظام صحت اٹھ کھڑا ہوگا۔

ہسپتال اصلاحات کا مطلب نجکاری نہیں

پمز ملازمین کی ہڑتال کے اعلان پر انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی اصلاحات کا صرف یہ مقصد ہے کہ سرکاری ہسپتال بھی نجی ہسپتالوں کی طرح کام کریں جہاں سزا اور جزا ہوتی اسی لیے وہ کامیاب بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہسپتال اصلاحات کا مقصد ایک بورڈ تشکیل دینا ہے جو اسے نجی ہسپتال کی طرح چلائے اس کا مطلب نجکاری نہیں ہے۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول نے پوری قوم کو متحد کیا

سانحہ آرمی پبلک کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس سانحے نے دکھ میں قوم کو متحد کیا جس کے بعد قوم نے فیصلہ کیا کہ سب مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے۔

اور اس کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کو شکست دی گئی اور اب ملک کے حالات ان حالات سے بالکل مختلف ہیں جو 16 دسمبر 2014 سے پہلے تھے۔

آرمی چیف سے سعودی سفیر ،سری لنکن ہائی کمشنر کی ملاقاتیں ،علاقائی سلامتی،باہمی تعاون پر اتفاق

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی سفیر اور سری لنکن ہائی کمشنر نے ملاقاتیں کیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید سے سعودی سفیر نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی، علاقائی سیکیورٹی صورت حال، دفاعی تعاون پر گفتگو کی گئی۔

سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے ہر معاملے میں پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

دوسری جانب آرمی چیف سے سری لنکن ہائی کمشنر نے ملاقات کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی، علاقائی سیکیورٹی اور باہمی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سری لنکن ہائی کمشنر نے علاقائی امن و استحکام ، انسداد دہشت گردی میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔

قبل ازیں ترجمان پاک بحریہ کے مطابق سعودی سفیر کی چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی سے ملاقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

نیول چیف اور معزز مہمان نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ بحری تعاون پر بات چیت کی۔

معزز مہمان نے امیرالبحر کو پاک بحریہ کی کمان سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

سینٹ الیکشن 1ماہ قبل شو آف ہینڈ سے کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد وفاقی کابینہ نے لیفٹیننٹ جنرل اختر نوازکو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے ) کا چیئر مین ‘عمران مانیار کوتین سال کے لئے کنٹریکٹ پر بطور مینیجنگ ڈائریکٹرسوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ ‘ علی جاوید ہمدانی کوتین سال کے لئے کنٹریکٹ پر بطور مینیجنگ ڈائریکٹرسوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ تعینات کرنے ‘ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیویشن ( ای اوبی آئی)کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی تنظیم نو کرنے کی منظوری دی جبکہ وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن مارچ یا اس سے قبل ہوسکتے ہیں ‘ اگر سندھ اسمبلی نہ بھی ہو تو سینیٹ کے الیکشن ہوجائیں گے‘ سینٹ الیکشن شو آف ہینڈ سے کرانے کے لئے آئینی ترامیم یا کسی متبادل حل کے لئے سپریم کورٹ سے رہنمائی حاصل کی جائے گی‘ وفاقی کابینہ نے این ایف سی اور وفاق سے ملنے والے فنڈزکے استعمال کا میکنزم بنانے کی تجویزدی ہے‘ مریم نواز اور فضل الرحمان غیر منتخب لوگ ہیں ‘وہ کیسے منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کرسکتے ہیں کہ وہ استعفیٰ دیں ‘استعفی بنتا ہے نہ دیں گے ‘ انکا مطالبہ مذاق ہے ۔ وہ منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات مارچ کی بجائے فروری میں کرانے کا فیصلہ کر لیا ہےجبکہ عمران خان کا کہنا تھاکہ انتخابی اصلاحات کیلئے اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات پر تیار ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب ان سے بات کروتو کہتے ہیں ہمارے کیسز ختم کریں‘ذرائع کے مطابق پٹرولیم بحران سے متعلق انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر کابینہ میں گرما گرم بحث ہوئی ‘وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور علی زیدی سمیت متعدد وزراء نے سوالات کیے جس پر ندیم بابر وضاحتیں پیش کرتے رہے‘ عمران خان نے پٹرولیم بحران میں ملوث آئل کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہاہے کہ بحران میں ملوث افراد، اداروں اور کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘ کابینہ نے وفاقی وزراء اسد عمر،شفقت محمود،ڈاکٹر شیریں مزاری اور محمد اعظم خان سواتی پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی۔یہ کمیٹی انکوائری کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرے گی اور ایک ہفتے میں کابینہ کو رپورٹ پیش کرے گی۔کابینہ کو اٹارنی جنرل نے سینیٹانتخابات کے قانون پرتفصیلی بریفنگ دی۔ سیکرٹ بیلٹ کی بجائے اوپن ووٹنگ پر غور کیا گیا۔ کابینہ کو آگاہ کیاگیاکہ آئین پاکستان میں اوپن بیلٹ کی بظاہر کوئی ممانعت نہیں‘کابینہ نے فیصلہ کیاکہ اس ضمن میں آئین کے آرٹیکل 186کے تحت اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات کے لئے قانونی اصلاحات کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ پورے عمل کو شفاف بنانا ہے۔عمران خان نے کہا کہ احساس پروگرام حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے جس کی تائید بین الاقوامی ادارے کرتے ہیں۔ملک سے غربت کا خاتمہ ان کا مشن ہے۔کابینہ نے عاصم شہریار حسین کی بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ تین سال کنٹریکٹ پر تعیناتی کی منظوری دی۔کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز پر ممبران تعینات کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے مختلف ممالک (05) میں موجود پاکستانی سفارتخانوں میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)کے سی ای اوز(CEOs) تعینات کرنے کے لئے اشتہارات شائع کرنے کی منظور ی دی۔کابینہ نے نیپرا کی طرف سے مالی سال 20-2019.کی دوسری اور تیسری سہ ماہی کے لئے بجلی کے نرخوں میں بقایا ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دی۔اس منظوری سے صارفین پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ماضی میں سینیٹ الیکشن پر انگلی اٹھتی رہیں اور ہارس ٹریڈنگ بھی ہوتی رہی۔ہم 18ویں ترمیم کے خلاف نہیں ہیں لیکن اب 18ویں ترمیم کو 10سال ہوگئے ہیں ‘دیکھنا چاہے کہ کن چیزوں کو بہتر کرنا ناگزیر ہے ۔شبلی فراز نے کہا کہ میڈیا کو دھمکیاں دینے کی مذمت کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہر جگہ ان کی مرضی چلنی چاہیے ‘عدالتوں میں انکے حق میں فیصلے ‘ نتائج انکے حق میں ہو انھیں وہ ہی پسند ہے ‘ مریم آمرانہ اور غیر جمہوری سوچ رکھنے والی خاتون ہیں ‘ اپنے والد کے ذہن کی عکاسی کر رہی ہیں‘پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے پاس ہائوس کوچلانے کے لئے کورم اور سینیٹ الیکشن کے لئے تعداد پوری ہے ۔این ایف سی ایوارڈ پر کابینہ بحث کرسکتی ہے اس میں کوئی قدغن نہیں ہے ‘ ہم تو کہتے ہیں کہ صوبائی فنانس کمیشن بھی ہونا چاہیے جو ترقی کی ڈور میں پیچھے رہ جانے والے اضلاع کی ترقی کو یقینی بنائیں۔

عام کرونا سے جان نہیں چھوٹی ،برطانیہ میں نئی قسم آ گئی،سخت ترین لاک ڈاﺅن

لندن: برطانیہ میں کویڈ 19 کی نئی قسم سامنے آگئی ہے۔

برطانوی وزیرصحت میٹ ہینکاک نے کہا ہے کہ لندن میں ایک ہفتے کے دوران نئی طرزکے کورونا کیسز سامنے آئے جس سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم سے آگاہ ہیں، نئے وائرس سے برطانیہ میں ایک ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ 

ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسی ایکسپرٹ مائیک ریان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لندن میں نئے وائرس کے موجودہ  کورونا سے مختلف ہونے کا ابھی تک ثبوت نہیں ملا، یہ وائرس وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔

کورونا کے بڑھتے پھیلاؤ کے سبب لندن میں کورونا کی پابندیاں مزید سخت کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ 

دوسری جانب امریکا اور کینیڈا میں  پہلی کورونا ویکسین لگا دی گئی ہے۔ دونوں ممالک میں کورونا کی پہلی ویکسین طبی عملے کے ایک رکن کو دی گئی۔

امریکہ میں پہلی ویکسین نیویارک میں کوئنز اسپتال کی نرس کو لگائی گئی، مجموعی طورپر اب تک  طبی عملے کے پانچ ارکان کو کورونا ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ 

لاہور جلسے پرمریم نواز سمیت لیگی رہنماؤں کيخلاف مقدمہ درج

لاہور : پی ڈی ایم کے مینار پاکستان میں جلسے پر کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی اورسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پرنائب صدر مسلم لیگ ن مریم نوازسمیت لیگی رہنماؤں کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

 تفصیلات کے مطابق مقدمہ سکیورٹی آفیسر پی ایچ اے کی مدعیت میں تھانہ لاری اڈہ میں درج کیا گیا ہے، مقدمے میں نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نوازسمیت  درجنوں رہنماؤں کو نامزد کیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ پی ڈی ایم انتظامیہ پارک کا گیٹ، جنگلے توڑ کر پارک میں داخل ہوئی، ملک وسیم کھوکھر 125 افراد کے ہمراہ مزاحمت کر کے پارک میں داخل ہوئے، فلیکسز، سرچ لائٹس لگانے کیلئے فرش اور ٹریک کی ٹائلیں توڑی گئیں، قومی ورثے کی حرمت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔
لیگی رہنما رانا تنویر، خواجہ آصف، احسن اقبال، طلال چودھری، ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، پرویز ملک، رانا مبشر کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ شاہد خاقان عباسی، شیخ روحیل اصغر، سمیع اللہ، ملک افضل کھوکھر، سیف الملوک کھوکھر، بلال یاسین، خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر کیخلاف بھی ایف آئی آر کاٹی گئی۔
غزالی سلیم بٹ، مجتبیٰ شجاع الرحمان، میاں مرغوب احمد، چودھری شہباز، رانا مشہود، چودھری اختر علی، ملک غلام حبیب اعوان، ملک وحید، شائستہ پرویز ملک، مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری کیخلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ رانا ارشد، میاں طارق، توصیف شاہ، عطاء اللہ تارڑ، رانا ارشد، فیصل کھوکھر، مخدوم جاوید ہاشمی، کرنل (ر) مبشر سمیت 100 افراد کیخلاف ایف آئی آر کاٹی گئی۔
دوسری جانب گزشتہ روز پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کےسربراہی اجلاس کے بعد سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے ہمراہ جاتی امرا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ 31 دسمبر تک پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کے منتخب اراکین اسمبلی اپنے اپنے استعفے اپنی اپنی قیادت کو جمع کروادیں گے، حکومت 31 جنوری تک مستعفی ہو جائے،اگر حکومت نے دی گئی مہلت تک استعفی نہیں دیا تو یکم فروری کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوگا جو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردے گا،عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ لانگ مارچ کی تیاریاں شروع کردیں۔

اپوزیشن کے استعفے، حکومت کا سینیٹ انتخابات مارچ کی بجائے فروری میں کرانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے پاکستان کی ایوان بالا (سینیٹ) کے انتخابات مارچ کی بجائے فروری میں کرانے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی، معاشی صورتحال پر غور کیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں سینیٹ انتخابات مارچ کی بجائے فروری میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن ووٹ سے کرانے کا فیصلہ بھی کیا جبکہ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کابینہ میں تجاویز پیش کیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سینیٹ انتخابات مارچ کی بجائے فروری میں کروانے کی تجویز پیش کی تاہم انہوں نے سینیٹ انتخابات اوپن ووٹ کرانے کے معاملے پر سپریم کورٹ جانے کی تجویز کی مخالفت کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری نے تجویز پیش کی کہ انتخابی اصلاحات کیلئے اپوزیشن سے بات کی جائے۔

اس پر وزیراعظم نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کیلئے اپوزیشن سے بات چیت کو تیار ہیں، اپوزیشن سے بات چیت کرتےہیں تو وہ کہتے ہیں کیسز ختم کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے بھی آئینی اور سیاسی پہلوؤں پر بریفنگ دی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت کو مستعفی ہونے کیلئے 31 جنوری تک کی مہلت دی رکھی ہے جبکہ اپنے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو 31 دسمبر تک استعفے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اعلان کرچکے ہیں کہ 31 جنوری تک استعفے نہیں دیے تو یکم فروری کو مارچ کا اعلان کریں گے اور استفعے ساتھ لیکر جائیں گے۔

وہیں ملک میں سینیٹ انتخابات مارچ میں ہونے ہیں تاہم اپوزیشن  کے 400 سے زائد ارکان کے ممکنہ طور پر مستعفی ہوجانے کے بعد الیکشن کا وقت پر انعقاد مشکل لگ رہا ہے۔

صدر عارف علوی نے انسدادِ ریپ آرڈیننس 2020ء کی منظوری دیدی

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انسدادِ ریپ آرڈیننس 2020 ء کی منظوری دیدی۔

آرڈیننس سے عورتوں اور بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے معاملات کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔ جنسی زیادتی کے ملزمان کے تیز ٹرائل اور کیسز جلد از جلد نمٹانے کیلئے ملک بھر میں اسپیشل کورٹس کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور خصوصی عدالتیں 4 ماہ کے اندر جنسی زیادتی کے کیسز کو نمٹائیں گی۔

آرڈیننس کے تحت وزیرِاعظم عمران خان انسدادِ جنسی زیادتی کرائسس سیلز کا قیام عمل میں لائیں گے، یہ سیل 06 گھنٹے کے اندر اندر متاثرہ افراد کا میڈیکو لیگل معائنہ کرانے کا مجاز ہوگا جبکہ قومی شناختی کارڈ بنانے والے ادارے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی مدد سے قومی سطح پر جنسی زیادتی کے مجرمان کا رجسٹر تیار کیا جائے گا۔

آرڈیننس کے تحت جنسی زیادتی کے متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے اس عمل کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا۔

وزیراعظم کا پٹرولیم بحران میں ملوث کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا عندیہ

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم بحران میں ملوث آئل کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں پٹرولیم بحران سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی، وفاقی کابینہ میں انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر طویل بحث کے بعد وزیراعظم عمران خان نے انکوائری رپورٹ کی سفارشات کا جائزہ لینے کے لیے 3 رکنی کمیٹی قائم کردی ہے جس میں شفقت محمود، شیریں مزاری اور اسد عمر شامل ہیں، انکوائری رپورٹ پر کیا ایکشن لیا جائے، اس پر  3 رکنی کمیٹی سفارشات تیار کرے گی۔

ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بحران میں ملوث افراد، اداروں اور کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

وفاقی کابینہ اجلاس میں بعض وفاقی وزراء کی جانب سے انکوائری رپورٹ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ جس قانون کے ذریعے کمپنیوں نے ناجائز پیسہ بنایا اسے بدلہ جائے۔

وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور علی زیدی سمیت متعدد وزراء نے سوالات کیے جس پر ندیم بابر وضاحت پیش کرتے رہے، فیصل واوڈا کی جانب سے سوال کیا گیا کہ تیل سستا ہوا تو پورٹ پر کیوں رکا رہا جب کہ جو کمپنیاں ملوث تھیں ان کے لائسنس منسوخ کیوں نہیں کیے گئے۔ علی زیدی کی جانب سے بھی سخت سوالات کیے گئے اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ ملک میں پیٹرول کی مہنگی داموں فروخت کے بحران پر وزیراعظم کی ہدایت پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے اپنا کام مکمل کرکے رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی، کمیٹی نے رپورٹ میں اوگرا کو پارلیمنٹ کے ذریعے ختم کرنے اور سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔