آسان قرضے، چھوٹا کاروبار‘ نیا ٹارگٹ معیشت مستحکم ،روزگار بڑھائیں گے، عمران خان

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار معیشت کا اہم جزو ہیں، ان کو فروغ دے کر معیشت مستحکم ہو گی، روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کا اجلاس ہوا، بریفنگ میں بتایا گیا کہ چھوٹے اور درمیانے کاروباری طبقے کی سہولت کے لیے ٹیکس فارم کو آسان بنایا جا رہا ہے، رجسٹریشن پورٹل پر کام بھی جاری ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تمام معاشی اعشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں،عمران خان نے ایس ایم ایز کے فروغ کے لیے مقرر کردہ اہداف کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

وزیرخارجہ کی متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم و نائب صدر سے ملاقات

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دو روزہ دورے کے پہلے روز متحدہ عرب امارات نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے فرمان روا شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ملاقات کی۔

ترجمان دفترخارجہ زاہدحفیظ چوہدری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرخارجہ نے شیخ محمد بن راشد کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم نے بھی اس کا خیر مقدم کرلیا۔

دفترخارجہ کے مطابق وزیرخارجہ نے متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم سے باہمی دلچسپی کے مختلف امور تبادلہ خیال کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنے، باہمی تجارت کو توسیع دینے، زراعت سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ دینے کے لیے امکانات پر گفتگو کی۔

دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات میں موجود پاکستان کے شہریوں کی فلاح وبہبود سے متعلق امور پر بھی بات کی۔

وزیرخارجہ نے شیخ محمد بن راشد المکتوم سے درخواست کی کہ متحدہ عرب امارات کی کاروباری برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے پر زور دیں۔

دبئی ایکسپو 2020 کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایونٹ میں پاکستان کی شمولیت کو ممکن بنانے پر متحدہ عرب امارات کی حکومت کے شکر گزار ہیں۔

دفترخارجہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

قبل ازیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی دو روزہ دورے پر دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تو دبئی میں پاکستان کے قونصل جنرل احمد امجد علی، سفارت خانے کے سنیئر افسران اور اماراتی وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے ان کا استقبال کیا۔

دفتر خارجہ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وزیر خارجہ اپنے 2 روزہ دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جہاں دو طرفہ تعلقات، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دورے کے دوران وزیر خارجہ دبئی میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے اراکین سے ملاقاتیں اور مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے بات چیت کریں گے۔

اینگن التان المعروف ارطغرل غازی کو پاکستان لانے والا ٹک ٹاکر گرفتار

ترک اداکار اینگن التان دزیاتن المعروف ارطغرل غازی کو پاکستان لانے والے ٹاک ٹاکر اور بزنس مین کاشف ضمیر کو گرفتار کرلیا گیا۔

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس نے ترک اداکار اینگن التان کو پاکستان لانے والے بزنس مین کاشف ضمیر جو ٹک ٹاکر بھی ہے کو گرفتار کرلیا۔ کاشف ضمیر کو ایک نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر کو دھمکیاں دینے کے الزام میں جمعرات کی صبح چھاپہ مار کر گرفتار کیا گیا ہے جب کہ اس کا سیکیورٹی گارڈ بھی پولیس کی تحویل میں ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کی گرفتاری سے قبل لاہور کی غالب مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا تھا۔

اینگن التان کے دورہ پاکستان کے دوران وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں کاشف ضمیر کو ہر جگہ ان کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کاشف ضمیر نے ترک اداکار کے ساتھ ایک ملین ڈالر کا پروجیکٹ سائن کیا تھا۔ تاہم اس رقم میں سے ترک اداکار کو صرف آدھی رقم ہی ادا کی گئی۔ ایک انٹرویو کے دوران کاشف ضمیر کا کہنا تھا کہ آدھی رقم اینگن التان کو اس وقت ادا کی جائے گی جب وہ پاکستان آکر شوٹنگ کریں گے۔

ارطغرل آیا اور پیسے لے کر چلا گیا اس کیلئے پاکستان بس یہی ہے، فہد مصطفیٰ

فہد مصطفیٰ نے حال ہی میں دئیے گئے انٹرویو کے دوران ترک اداکار اینگن التان المعروف ارطغرل غازی کی پاکستان آمد سے متعلق کہا ہے کہ ارطغرل آیا اور پیسے لے کر چلا گیا لیکن ہم ہمیشہ یہیں رہیں گے۔

فہد مصطفیٰ کی پروڈکشن میں بننے والے ڈرامے ’’نند‘‘اور ’’جلن‘‘ جہاں رواں سال پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ڈرامے ہیں وہیں ان دونوں ڈراموں پر بے حد تنقید بھی ہوئی۔ ڈراما سیریل’’جلن‘‘ کی کہانی، اس میں دکھائے جانے والے بولڈ سینز اور ڈائیلاگز کے باعث پیمرا نے اس ڈرامے پر پابندی بھی لگادی تھی۔

حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران فہد مصطفیٰ نے اپنے ڈراموں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامے ’’جلن‘‘کی ابتدا میں ہی اس پر تنقید ہونا شروع ہوگئی تھی۔ لوگوں کو کیسے پتہ کہ ڈرامے کی کہانی کیا ہے ابھی ڈرامے کو آگے تو بڑھنے دو اختتام تو آنے دو ۔

انہوں نے کہا ’’جلن‘‘ کی کہانی پر ان لوگوں نے اعتراض کیا جن کے دل میں چور تھا باقی کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ رکشے والے سے چوکیدار تک سب نے ’’جلن‘‘ اور ’’نند‘‘ ڈراما دیکھا اور پسند کیا۔

فہد مصطفیٰ نے ترک ڈرامے ’’عشق ممنوع‘‘کی مثال دیتے ہوئے کہا جب پاکستان میں ’’عشق ممنوع‘‘ چلتا تھا اس کی کہانی کیا تھی۔ چچی اور بھتیجے کے درمیان عشق کی کہانی دکھائی گئی تھی۔ لیکن اسے دیکھنے کے لیے سڑکیں خالی ہوجاتی تھیں ۔ اور جب میں اس طرح کی کہانی پر ڈراما بناؤں گا تو اس کانام ’’جلن‘‘ہی ہوگا نا پھر اتنی تنقید کیوں؟ہمارے یہاں صرف 10 سے 15 فیصد لوگ ہوں گے جنہیں ڈراموں پر اعتراض ہے باقی تو سب لوگ بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔

فہد مصطفیٰ نے کہا ہماری شوبز انڈسٹری اس وقت بحران کا شکار ہے اور یہاں جو کام ہورہا ہے اس میں لوگوں کا خون پسینہ شامل ہے۔ یہاں کام کرنے والے لوگوں میں فنکار سمیت پورا عملہ شامل ہے اور سب کا اس بات پر زور ہے کہ کسی طرح اس انڈسٹری کو چلانا ہے آگے بڑھانا ہے ۔ اسلیے جو چیز چل رہی ہے اسے چلنے دینا چاہیئے کیونکہ ہم ترکی نہیں ہیں، بھارتی نہیں ہیں آخر میں ہم پاکستانی ہیں۔ ارطغرل بھی آیا شیر کے ساتھ بیٹھا اورپیسے لے کر چلاگیا ان کے لیے آپ یہی تھے۔ پاکستانیوں کے لیے اصل فنکار ہمایوں سعید ہے اور میں ہوں۔

فہد مصطفیٰ نے کہا میرے ڈرامے اداکار کرنا بھی چاہتے ہیں ، لوگ دیکھنا بھی چاہتے ہیں اور چینل چلانا بھی چاہتے ہیں تو میں کیا غلط کررہاہوں ۔’’نند‘‘اور’’جلن‘‘میرے ڈرامے ہیں اور مجھے اپنے ان دونوں پراجیکٹس پر بہت فخر ہے۔

ایف آئی اے کی تفتیش میں ’نقائص‘ ہیں، میشا شفیع کی قانونی ٹیم

گلوکارہ میشا شفیع کی قانونی ٹیم نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے علی ظفر کی درخواست پر مکمل کی گئی تفتیش سے متعلق کہا ہے کہ اس میں ’نقائص‘ موجود ہیں۔

کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے گزشتہ روز ٹرائل کورٹ میں پیش کیے گئے عبوری چالان پر رد عمل دیتے ہوئے میشا شفیع کی قانونی ٹیم نے کہا کہ ان کی نظر میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ میں گہرے قانونی ’نقائص‘ موجود ہیں۔

میشا شفیع کی قانونی ٹیم کے مطابق تاحال کسی بھی قانونی عدالت نے علی ظفر کی شکایت پر دائر کردہ مقدمے میں میشا شفیع کے خلاف فیصلہ نہیں سنایا۔

گلوکارہ کی قانونی ٹیم کی جانب سے کہا گیا کہ ایف آئی اے کا بنیادی قانونی نقطہ یہ ہے کہ وہ یہ بات ثابت کرے کہ میشا شفیع کیسے مجرم ہے اور تاحال اس کا تعین نہیں ہوسکا۔

ساتھ ہی میشا شفیع کی ٹیم نے اُمید ظاہر کی کہ انہیں یقین ہے کہ گلوکارہ سمیت مقدمے میں نامزد کیے گئے مزید 8 افراد کو متعلقہ عدالتوں میں مجرم قرار نہیں دیا جائے گا۔

میشا شفیع کی ٹیم نے ایف آئی اے کی جانب سے 15 دسمبر کو لاہور کی ٹرائل کورٹ میں پیش کردہ عبوری چالان پر رد عمل دیا۔

ایف آئی اے نے عدالت میں جمع کرائے گئے عبوری چالان میں کہا تھا کہ ایف آئی اے کی تفتیش و کیس کے زبانی اور دستاویزی شواہد کے مطابق میرا شفیع المعروف میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، ماہم جاوید، لینا غنی، حسیمس زمان، فریحہ ایوب، سید فیضان رضا، حمنہ رضا اور علی گل پیر مجرم قرار پائے۔

ایف آئی اے کی جانب سے عبوری چالان میں کہا گیا تھا کہ میشا شفیع نے 9 اپریل 2018 کو علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات سوشل میڈیا پر لگائے تاہم وہ ان سے متعلق شواہد پیش کرنے میں ناکام رہیں۔

عبوری چالان میں بتایا گیا تھا کہ دیگر ملزمان بھی اپنے دعوؤں سے متعلق شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے، جس بنیاد پر رواں برس ستمبر میں عدالتی حکم پر تمام افراد کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن (1) 20 کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

عبوری چالان میں عدالت سے میشا شفیع سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی تھی۔

علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف ‘توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد’ پوسٹ کررہے ہیں۔

ایف آئی اے نے مذکورہ کیس کی تفتیس تقریبا 2 سال تک کی اور اسی کیس میں پہلے ہی ٹرائل کورٹ نے میشا شفیع سمیت مذکورہ دیگر 9 افراد کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

تمام افراد کے خلاف مقدمہ دائر ہونے کے بعد اداکارہ عفت عمر، علی گل پیر اور دیگر 5 افراد نے عبوری ضمانت حاصل کی تھی۔

میشا شفیع کے خلاف مذکورہ کیس کے علاوہ علی ظفر نے لاہور سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ بھی دائر کر رکھا ہے، جس کی تاحال سماعتیں جاری ہیں۔

علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف یہ کیس اس وقت دائر کیے تھے جب گلوکارہ نے علی ظفر پر اپریل 2018 میں جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تھے، جنہیں علی ظفر نے مسترد کردیا تھا۔

‘سینیٹ انتخابات ایک ماہ پہلے کروانے سے جاتی ہوئی حکومت کو نہیں بچایا جاسکتا’

حکومت کی جانب سے سینیٹ کے انتخابات فروری میں کروانے کے اعلان پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ چونکہ ان کی جماعت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا حصہ ہے اس لیے اس حوالے سے حکمت عملی پی ڈی ایم میں مرتب کی جائے گی۔

‘لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ جب کوئی نالائق، ناکام حکومت عوام کے گھیرے میں آجاتی ہے تو وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں پر اتر آتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ کے انتخابات ایک ماہ پہلے کروالیں یا بعد میں اس سے آپ کی جاتی ہوئی حکومت کو کوئی دوام نہیں ملے گا آپ اپنی جاتی ہوئی حکومت کو نہیں بچا سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب عوامی قہر جاگ اٹھتا ہے تو اس طرح کے انتطامات کارگر ثابت نہیں ہوسکتے، اگر آپ کو پی ڈی ایم کی تحریک یا جلسوں سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تو ایسی کیا ایمرجنسی آگئی کہ حکومت کو ایک ماہ قبل انتخابات کروانے کا اعلان کرنا پڑا جو پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جن اراکین نے 11 مارچ کے بعد حلف اٹھانا تھا انہیں پہلے منتخب کرنے کی منطق سمجھ نہیں آرہی لیکن یہ بات واضح ہے کہ حکومت کے پاس اب کم دن رہ گئے ہیں اس لیے جو بھی ہتھکنڈے استعمال کرلیں گھر تو آپ کو جانا پڑے گا اور جلدی جانا پڑے گا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ جس طرح آپ افواج پاکستان کو اپنے لیے استعمال کرتے رہے اس سے ان اداروں کو نقصان پہنچا ہے، پہلے آپ ایف آئی اے کے سربراہ خود بن بیٹھے پھر ایف بی آر کے سربراہ بنے، اس کے بعد خفیہ اداروں کا کام بھی خود کرنے لگے اور اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے بھی چیئرمین بھی بن بیٹھے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام انتخابات کا اعلان کرنے کے لیے آئین کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان نام کا ادارہ بنایا گیا ہے، یہ سارے فیصلے اور اعلانات ای سی پی کو کرنے ہیں کوئی وزیراعظم یہ کام نہیں کرسکتا۔

وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ کس حیثیت سے ایک ماہ قبل انتخابات کروانے کا اعلان کیا، کیا آپ نے آئین پاکستان کو نہیں دیکھا، کیا وزرا اور مشیروں کی فوج نے آپ کو نہیں بتایا کہ آئین پاکستان کی رو سے آپ یہ اعلانات نہیں کرسکتے یہ ای سی پی کا کام ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پھر آپ یہ چاہتے ہیں کہ انتخابات کا آپ کا من پسند طریقہ کار ہے اس کی سپریم کورٹ سے منظوری لے لیں، آپ سپریم کورٹ کو کیوں متنازع بنا رہے ہیں اور کیوں اس مقدمے میں گھسیٹ رہے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ میں سینیٹ انتخابات میں شو آف ہینڈز کے خلاف نہیں ہوں لیکن اس اعلان کے پیچھے شفافیت مقصود نہیں، بات یہ ہے کہ جب چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت آپ کو شو آف ہینڈز یاد نہیں آیا اس وقت آپ نے اپوزیشن اراکین کو توڑنے، دباؤ میں لانے کے لیے اداروں، ریاستی طاقت کا استعمال کیا اور نہ صرف خفیہ رائے شماری کی حمایت کی بلکہ اس کا پورا فائدہ اٹھایا اور آج جب آپ کو لگتا ہے کہ کمزور ہوگئے، اپنے اراکین اسمبلی پر اعتماد نہیں رہا تو شو آف ہینڈز یاد آگیا۔

جیل انتظامیہ کی بے قاعدگیاں موذی امراض کا باعث بن گئیں ایڈز جیسے مہلک مرض پھیلنے میں 50 مریضوں کے ساتھ لاہور جیل سرفہرست

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب بھر میں بتالیس جیلیں انتظامیہ کی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے باعث ایڈیز جیسی موذی بیماری کا گڑھ بن گئی ہیں۔ تین سو آٹھ ایڈز کے مریضوں سمیت ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں نے بھی جیلوں کا رخ کرلیا۔ بتایا گیا ہے کہ جیل حکام کی ملی بھگت سے ایک ایک بیرک میں بدنام زمانہ مجرمان کے ساتھ ایسے مجرمان کو بھی بند کردیا جاتا ہے جو پہلی بار کسی جرم میں جیل آتے ہیں۔ ان نومولود مجرمان کو عادی مجرم اپنے دیگر مکروہ دھندے کے ساتھ ساتھ ان نومولود مجرمان کو زبردستی غلط کاری کا نشانہ بناتے ہیں۔ محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق جن مجرمان کے ایڈیز ٹیسٹ مثبت آئے اور ان کا علاج معالہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ان میں لاہور جیل ٹاپ پر ہے۔ جس میں سب سے زیادہ پچاس ایڈز کے مریض ہیں جبکہ دوسرے نمبر پرڈسٹرکٹ جیل گوجرانوالہ میں 39 اور تیسرے نمبر پر راولپنڈی میں 24 مریض ہیں محکمہ داخلہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔ جہاں روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ جب ک۔ بہاولپور جیل میں وکٹوریہ ہسپتال کے تعاون سے سکریننگ کی جارہی ہے اور ہر آنے والے اسیرکا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ سنٹرل جیل لاہور 08 سینٹرل جیل گوجرانوالہ 39 ڈسٹرکٹ جیل قصور 07 ڈسٹرکٹ جیل لاہور 50 ڈسٹرکٹ جیل نارووال 02 سینٹرل جیل ساہیوال 02 ڈسٹرکٹ جیل اوکاڑہ 02 ڈسٹرکٹ جیل خانیوال 11 ڈسٹرکٹ جیل اٹک 04 ڈسٹرکٹ جیل گجرات 16 ڈسٹرکٹ جیل جہلم 07 ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاﺅالدین 03 ہیں۔

نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی کیلیے 15 رکنی قومی ٹیم کا اعلان

نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کے لیے پاکستان کی 15 رکنی قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کا پہلا میچ کل ایڈن پارک آکلینڈ میں کھیلا جائے گا۔

قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کا اعلان کپتان شاداب خان نے کیا جو کہ مکمل فٹ ہو گئے ہیں اور بابر اعظم کی غیر موجودگی میں ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستان ٹیم کی قیادت کریں گے۔

شاداب خان کی ٹانگ میں کھچاؤ کی شکایت تھی جو اب دور ہو گئی ہے اور انہوں نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچز سے قبل ایڈن پارک آکلینڈ میں دونوں ٹریننگ سیشنز میں بھرپور حصہ لیا۔

‏قومی اسکواڈ میں کپتان شاداب خان، عبداللہ شفیق، حیدر علی، سرفراز احمد، محمد حفیظ، فہیم اشرف، حارث رؤف، افتخار احمد، عماد وسیم، خوشدل شاہ، محمد حسنین، شاہین شاہ آفریدی، حسین طلعت، وہاب ریاض اور محمد رضوان شامل ہیں۔

‏پہلے ٹی ٹوئنٹی سے قبل پاکستان ٹیم نے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ تین گھنٹے کے ٹریننگ سیشن میں تمام کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

فزیکل اور فیلڈنگ ٹریننگ کے بعد نیٹ پر بولنگ اور بیٹنگ کی پریکٹس کی۔ بابر اعظم اور امام الحق جو انجرڈ ہیں انہوں نے بھی اپنی فزیکل ٹریننگ جاری رکھی ہوئی ہے۔

عمران خا ن استعفیٰ ورنہ دما دم مست قلندر، سندھ اسمبلی بھی توڑ سکتے ہیں، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ31 جنوری تک عمران خان خود مستعفی ہو جائیں ورنہ دما دم مست قلندر ہو گا ، ہم جمہوریت کے لیے سندھ حکومت اور نیشنل اسمبلی کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مزاحمت اور تحریکیں چلانے کی ایک تاریخ ہے اور اگر اس لانگ مارچ کو کامیاب ہونا ہے تو وہی لوگ جو ضیا کی آمریت کا مقابلہ کرتے تھے، جو مشرف کی آمریت کا مقابلہ کرتے تھے ان کو مل کر اس  نظام کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں میں جو جوش ہے وہ آپ کے سامنے ہے اور یہ حکومت اور اس کے نمائندے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام کو متحرک رکھنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے اور ہمارا مطالبہ بھی آپ کے سامنے ہے کہ 31جنوری تک عمران خان کو مستعفی ہونا پڑے گا۔بلاول نے کہا کہ 16دسمبر ہماری تاریخ میں بہت بھاری دن ہے، مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوا اور 16دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردی کا حملہ کیا گیا اور وہ اب بھی ہماری یادوں میں تازہ ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی صورت میں جس مشکلات کا سامنا اس ملک کے عوام کررہے ہیں، حکومت اس میں کمی کے لیے کوئی کوشش نہیں کررہی۔ان کا کہنا تھا کہ چینی، آٹے اور پیٹرول کا بحران کے بعد اب سردیوں کے مہینے میں ہم گیس کے بحران کی بھی توقع کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام ضرورت سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں .بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ یہ اگر پاکستان کی تبدیلی ہے اور عوام نے اس حکومت کی نااہلی کے بوجھ کو اٹھانا ہے تو پورے پاکستان کی آواز ہے کہ عمران خان کو جانا پڑے گا۔شہباز شریف سے ملاقات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے ان سے ملنے کا مقصد تعزیت کرنا تھا، یقینا دو سیاستدان ملتے ہیں تو سیاست پر بات تو ہوتی ہی ہے تو ہمارا زور اتحاد اور ساتھ مل کر چلنے پر تھا اور پی ڈی ایم میں تمام طاقتوں کا یہ مطالبہ ہے کہ 31جنوری تک عمران خان مستعفی ہو۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا ملتان کا جلسہ کچھ وزیروں کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے اور جہاں تک سینیٹ الیکشن کی تاریخ میں تبدیلی کی بات ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ شو آف ہینڈز اور وقت میں تبدیلی کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے اور حکومت جانتی ہے کہ ان کے اراکین صوبائی اسمبلی ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں، حکومت جانتی ہے کہ ان کو سینیٹ میں اکثریت نہیں ملنے والی اور وہ ہر وہ ہتھکنڈا استعمال کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ سینیٹ میں دھاندلی کر کے زبردستی اپنی اکثریت حاصل کر سکیں۔استعفوں کے نتیجے میں سندھ حکومت بھی گرنے کے سوال پر بلاول نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے 31دسمبر تک تمام جماعتوں کی قیادت کے پاس استعفے جمع ہوں گے، اگر اس ملک میں جمہوریت کے لیے سندھ حکومت اور نیشنل اسمبلی قربانی دینا پڑی تو ہم وہ قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔تیسری قوت کی جانب سے ان احتجاجوں کا فائدہ اٹھانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ ہماری تاریخ میں ایسا ہوا ہے اور ہماری پارٹی کو اس بات کا احساس ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم جو بھی قدم اٹھائیں گے اس کو اس حکمت عملی سے استعمال کرنا چاہیں گے کہ ملک کو اس مشکل صورتحال میں نہیں ڈالا جائے جس سے ہمیں مل کر 20سال جدوجہد چلانی پڑے اور اس سے ملک اور اداروں کو نقصان پہنچے گا لہذا ہم ملک اور اداروں کو اس نقصان سے بچانا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ڈیڈ لائن انتہائی موزوں ہے اور ہم پورے پاکستان کے لیے خود کو ایک ذمے دار قوت کے طور پر خود کو پیش کررہے ہیں، ہم ان کو موقع دے رہے ہیں کہ جو بحران سب کو نظر آ رہا ہے اس کا واحد حل یہ ہے کہ 31 جنوری تک یہ صاحب خود مستعفی ہو جائیں ورنہ دما دم مست قلندر ہو گا جس سے اپوزیشن کو فائدہ اور حکومت کو نقصان ہی نقصان ہو گا۔ایک اور سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ مزاحمت کی سیاست کی لیکن کامیابی اور جمہوریت نظام میں ترقی لانے کے لیے مذاکرات کے ذریعے جمہوریت کے لیے کامیابیاں بھی حاصل کی تھیں، ہم دونوں طریقوں سے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس لیے کہتے ہیں کہ بات چیت کا وقت گزر گیا ہے کیونکہ ہم استعفی لے رہے ہیں، تحریک چلا رہے ہیں، اس وقت ہم کسی سے بات چیت نہیں کر سکتے، ہاں عمران خان چلے جائیں اور اپنا عہدہ چھوڑیں پھر خلا پیدا ہو گا اور ہم حل نکال سکتے ہیں لیکن اس نطام میں کوئی گنجائش نہیں کہ پی ڈی ایم کی کوئی بھی جماعت ان قوتوں سے بات چیت کر سکے۔

عمران خا ن استعفیٰ ورنہ دما دم مست قلندر، سندھ اسمبلی بھی توڑ سکتے ہیں، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ31 جنوری تک عمران خان خود مستعفی ہو جائیں ورنہ دما دم مست قلندر ہو گا ، ہم جمہوریت کے لیے سندھ حکومت اور نیشنل اسمبلی کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مزاحمت اور تحریکیں چلانے کی ایک تاریخ ہے اور اگر اس لانگ مارچ کو کامیاب ہونا ہے تو وہی لوگ جو ضیا کی آمریت کا مقابلہ کرتے تھے، جو مشرف کی آمریت کا مقابلہ کرتے تھے ان کو مل کر اس  نظام کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں میں جو جوش ہے وہ آپ کے سامنے ہے اور یہ حکومت اور اس کے نمائندے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام کو متحرک رکھنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے اور ہمارا مطالبہ بھی آپ کے سامنے ہے کہ 31جنوری تک عمران خان کو مستعفی ہونا پڑے گا۔بلاول نے کہا کہ 16دسمبر ہماری تاریخ میں بہت بھاری دن ہے، مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوا اور 16دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردی کا حملہ کیا گیا اور وہ اب بھی ہماری یادوں میں تازہ ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی صورت میں جس مشکلات کا سامنا اس ملک کے عوام کررہے ہیں، حکومت اس میں کمی کے لیے کوئی کوشش نہیں کررہی۔ان کا کہنا تھا کہ چینی، آٹے اور پیٹرول کا بحران کے بعد اب سردیوں کے مہینے میں ہم گیس کے بحران کی بھی توقع کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام ضرورت سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں .بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ یہ اگر پاکستان کی تبدیلی ہے اور عوام نے اس حکومت کی نااہلی کے بوجھ کو اٹھانا ہے تو پورے پاکستان کی آواز ہے کہ عمران خان کو جانا پڑے گا۔شہباز شریف سے ملاقات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے ان سے ملنے کا مقصد تعزیت کرنا تھا، یقینا دو سیاستدان ملتے ہیں تو سیاست پر بات تو ہوتی ہی ہے تو ہمارا زور اتحاد اور ساتھ مل کر چلنے پر تھا اور پی ڈی ایم میں تمام طاقتوں کا یہ مطالبہ ہے کہ 31جنوری تک عمران خان مستعفی ہو۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا ملتان کا جلسہ کچھ وزیروں کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے اور جہاں تک سینیٹ الیکشن کی تاریخ میں تبدیلی کی بات ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ شو آف ہینڈز اور وقت میں تبدیلی کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے اور حکومت جانتی ہے کہ ان کے اراکین صوبائی اسمبلی ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں، حکومت جانتی ہے کہ ان کو سینیٹ میں اکثریت نہیں ملنے والی اور وہ ہر وہ ہتھکنڈا استعمال کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ سینیٹ میں دھاندلی کر کے زبردستی اپنی اکثریت حاصل کر سکیں۔استعفوں کے نتیجے میں سندھ حکومت بھی گرنے کے سوال پر بلاول نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے 31دسمبر تک تمام جماعتوں کی قیادت کے پاس استعفے جمع ہوں گے، اگر اس ملک میں جمہوریت کے لیے سندھ حکومت اور نیشنل اسمبلی قربانی دینا پڑی تو ہم وہ قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔تیسری قوت کی جانب سے ان احتجاجوں کا فائدہ اٹھانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ ہماری تاریخ میں ایسا ہوا ہے اور ہماری پارٹی کو اس بات کا احساس ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم جو بھی قدم اٹھائیں گے اس کو اس حکمت عملی سے استعمال کرنا چاہیں گے کہ ملک کو اس مشکل صورتحال میں نہیں ڈالا جائے جس سے ہمیں مل کر 20سال جدوجہد چلانی پڑے اور اس سے ملک اور اداروں کو نقصان پہنچے گا لہذا ہم ملک اور اداروں کو اس نقصان سے بچانا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ڈیڈ لائن انتہائی موزوں ہے اور ہم پورے پاکستان کے لیے خود کو ایک ذمے دار قوت کے طور پر خود کو پیش کررہے ہیں، ہم ان کو موقع دے رہے ہیں کہ جو بحران سب کو نظر آ رہا ہے اس کا واحد حل یہ ہے کہ 31 جنوری تک یہ صاحب خود مستعفی ہو جائیں ورنہ دما دم مست قلندر ہو گا جس سے اپوزیشن کو فائدہ اور حکومت کو نقصان ہی نقصان ہو گا۔ایک اور سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ مزاحمت کی سیاست کی لیکن کامیابی اور جمہوریت نظام میں ترقی لانے کے لیے مذاکرات کے ذریعے جمہوریت کے لیے کامیابیاں بھی حاصل کی تھیں، ہم دونوں طریقوں سے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس لیے کہتے ہیں کہ بات چیت کا وقت گزر گیا ہے کیونکہ ہم استعفی لے رہے ہیں، تحریک چلا رہے ہیں، اس وقت ہم کسی سے بات چیت نہیں کر سکتے، ہاں عمران خان چلے جائیں اور اپنا عہدہ چھوڑیں پھر خلا پیدا ہو گا اور ہم حل نکال سکتے ہیں لیکن اس نطام میں کوئی گنجائش نہیں کہ پی ڈی ایم کی کوئی بھی جماعت ان قوتوں سے بات چیت کر سکے۔