پارکو ٹوٹل آئل، مکسنگ سیکنڈل”خبریں“ کی نشاندہی پر ازسرنو انکوائری کمیٹی تشکیل

وزارت پٹرولیم کے جواب طلب کرنے پر ایم ڈی پارکو نے 4رکنی کمیٹی بنا دی، محمود کوٹ پہنچ کر تحقیقات شروع کردیں،چیف انجینئر آئل موومنٹ صبور خان، سنیئر منیجرعقیل خان، انجینئر فاروق بلا، ٹیکنالوجسٹ سپروائزر ملک ضمیر ، دانیال، شکیل منگی، آشان معطل، انکوائر ی کا حصہ

محمود کوٹ(ویب ڈیسک)”خبریں” کا جہاد کامیاب ،پارکو (ٹوٹل) آئل ریفائنری میں کرک سے آنے والے کروڈ آئل میں ڈیڑھ ارب سے زائد پانی کی ملاوٹ کی “خبریں” نے بے نقاب کیا۔ وزارت پٹرولیم نے ایکشن لے کر پارکو انتظامیہ سے جواب طلب کر لیا۔ایم ڈی پارکو نے کرپشن میں ملوث تمام کرداروں کے خلاف ازسرنو کاروائی کرنے کیلئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دیدی۔ انکوائری کمیٹی نے پارکو محمود کوٹ پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ذمہ دار چیف آئل موومنٹ صبور خان سمیت 7افسران کو معطل کرتے ہوئے مزید 6افراد کو بھی انکوائری میں شامل کر لیا۔وعدہ معاف گواہ بننے والے طارق پرویز نامی ٹیکنالوجسٹ کو آئل مافیا کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں جبکہ ڈسکون کمپنی نے کروڑوں کا فراڈ کرنے والے ہیلپرز کو انکوائری کا حصہ ہی نہیں بنایاگیا۔تفصیل کے مطابق گزشتی ڈیڑھ سال سے آئل موومنٹ پارکو کے افسران اور ڈسکون کمپنی کے دس ہیلپرز آئل مافیا سے میل جول کرتے ہوئے کرک سے آنے والے کروڈ آئل کی جگہ ڈیڑھ ارب سے زائد مالیت کا پانی پارکو ٹینکوں میں اپنے ذاتی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ رقم کی غیر منصفانہ تقسیم پر کرپشن میں ملوث ٹیکنالوجسٹ کی اپنی ساتھیوں کے ہمراہ شدید لڑائی ہوئی تو طارق پرویز نے کرپشن بارے پارکو انتظامیہ کو بتاتے ہوئے بھانڈا پھوڑ دیا۔جس پر پارکو انتظامیہ نے وسیع پیمانے پر کرپشن منظر عام آنے پر اپنے افسران کو بچانے کے لیے انکوئری کو طوالت دیتے ہوئے آئل موومنٹ سے منسلک تمام افسران کو پائپ لائن کے شعبہ میں تبدیل کر کے بھیج دیا اور انکوئری کو سرد خانے میں ڈال دیا۔”خبریں” نے سرد خانے کی نزر کرپشن کو منظر عام پر لاتے ہوئے کرپشن میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کیا تو وزارت پٹرولیم نے نوٹس لیتے ہوئے پارکو انتظامیہ سے جواب طلب کرلیا۔ ایم ڈی پارکو نے چار رکنی کمیٹی بناکر پارکو محمود کوٹ بھیج دی ۔انکوائری ٹیم نے تمام معاملات کو دیکھتے ہوئے کرپشن میں ملوث افسران سے تفتیش شروع کردی

درمیانی راستے کا حامی ہوں، استعفوں کا اٹیم بم چلانے کی دھمکی پھلجھڑی، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ بلاول نے استعفوں کا ایٹم بم چلانے کی دھمکی دے دی ہے لیکن مجھے یقین ہے وہ پھلجھڑی ہوگی کیونکہ پیپلز پارٹی جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق وزارت داخلہ نے بہتری کی ہے اور مزید کرے گی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر بھی وزارت داخلہ تمام اپوزیشن سے مثبت گفتگو کرنا چاہتی ہے۔

سیاسی معاملات پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی کل ملاقات ہوئی ہے اور بلاول نے استعفوں کا ایٹم بم چلانے کی دھمکی دے دی ہے لیکن مجھے یقین ہے وہ پھلجھڑی ہوگی کیونکہ پیپلزپارٹی جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے اور وہ کسی گیٹ نمبر 4 کی پیداوار نہیں بنی اور اس نے ہمیشہ جمہوری عمل کو سپورٹ کیا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس گیٹ کی پیداوار بنے وہ انتہائی قدم اٹھانا چاہتے ہیں تاکہ جمہوریت بند گلی میں داخل ہوجائے اور خدانخواستہ جمہوریت کو کوئی خطرات لاحق ہوجائیں۔

اپوزیشن سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر یہ اسلام آباد آنا چاہیں تو شوق سے آئیں، انہوں نے فروری کا مہینہ دیا ہے تو بہتر ہے وہ اس سے پہلے ہی آجائیں لیکن ہم نے یہاں 126 دن پڑاؤ ڈالا لیکن کچھ نہیں بنا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے استعفے پارٹی صدر کو دینے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کا پارٹی صدر شہباز شریف ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ مثبت سوچ کے ساتھ سیاست کو آگے لے جانے کی بات کریں گے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے واضح کہہ دیا ہے کہ ہم کرپشن کے سوا تمام معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

درمیانی راستے کا حامی ہوں، استعفوں کا اٹیم بم چلانے کی دھمکی پھلجھڑی، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ بلاول نے استعفوں کا ایٹم بم چلانے کی دھمکی دے دی ہے لیکن مجھے یقین ہے وہ پھلجھڑی ہوگی کیونکہ پیپلز پارٹی جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق وزارت داخلہ نے بہتری کی ہے اور مزید کرے گی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر بھی وزارت داخلہ تمام اپوزیشن سے مثبت گفتگو کرنا چاہتی ہے۔

سیاسی معاملات پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی کل ملاقات ہوئی ہے اور بلاول نے استعفوں کا ایٹم بم چلانے کی دھمکی دے دی ہے لیکن مجھے یقین ہے وہ پھلجھڑی ہوگی کیونکہ پیپلزپارٹی جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے اور وہ کسی گیٹ نمبر 4 کی پیداوار نہیں بنی اور اس نے ہمیشہ جمہوری عمل کو سپورٹ کیا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس گیٹ کی پیداوار بنے وہ انتہائی قدم اٹھانا چاہتے ہیں تاکہ جمہوریت بند گلی میں داخل ہوجائے اور خدانخواستہ جمہوریت کو کوئی خطرات لاحق ہوجائیں۔

اپوزیشن سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر یہ اسلام آباد آنا چاہیں تو شوق سے آئیں، انہوں نے فروری کا مہینہ دیا ہے تو بہتر ہے وہ اس سے پہلے ہی آجائیں لیکن ہم نے یہاں 126 دن پڑاؤ ڈالا لیکن کچھ نہیں بنا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے استعفے پارٹی صدر کو دینے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کا پارٹی صدر شہباز شریف ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ مثبت سوچ کے ساتھ سیاست کو آگے لے جانے کی بات کریں گے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے واضح کہہ دیا ہے کہ ہم کرپشن کے سوا تمام معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

پاک فوج قوم کے تعاون کیساتھ خطرات سے نمٹنے کیلئے تیار ہے، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مسلح افواج قوم کے تعاون سےتمام خطرات سے نبردآزما ہونے کیلئے تیار ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گوجرانوالہ کے قریب فوجی مشقوں کادورہ کیا۔ اس موقعے پر پاک فضائیہ کےسربراہ ایئرچیف مارشل مجاہدانورخان بھی ان کے ہمراہ تھے۔

کمانڈ ر آرمی ایئرڈیفنس کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان خان نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔  کور کمانڈر منگلا اورکور کمانڈر گوجرانوالہ بھی اس موقعے پرموجود تھے۔

پاک فوج اورپاک فضائیہ کےسربراہان نےجاری مشقوں کامعائنہ کیا۔ مشقوں میں انٹیگریٹڈ ایئرڈیفنس اور دیگر ہتھیاروں اور زمینی اورفضائی پلیٹس فارم کی مشترکہ کاوشوں کاعملی مظاہرہ کیاگیا۔

آرمی چیف نے آرمی ایئرڈیفنس کی پیشہ ورانہ مہارتوں کوسراہا۔ انہوں نے ایئرڈیفنس کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کااظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید پیچیدہ جنگی چیلنجز میں تعاون اورانٹیگریشن کی خصوصی اہمیت ہے۔ مسلح افواج قوم کےتعاون سےتمام خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے  تیار ہیں۔

اپوزیشن سے بڑے جلسے کرسکتا ہوں، ان سے خوفزدہ نہیں ڈائیلاگ کیلئے 34صفحات کا این آر او مانگا، عمران خان

وزیراعظم نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن وقت سے پہلے کروائیں گے، شو آف ہینڈز کے ذریعے الیکشن کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے لیے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ آسان ہوتا ہے، ہم نے 20 ایم پی ایز کو پارٹی سے نکالا، ہم شفاف انتخابات پر یقین رکھتے ہیں، ڈائیلاگ کی بات کی تو اپوزیشن نے 34 صفحات کا این آر او مانگ لیا، این آر او کسی صورت نہیں دوں گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے خلاف کیسز ہماری حکومت میں نہیں بنے، اپوزیشن جن کیسز کا سامنا کر رہی وہ ماضی میں قائم ہوئے، ہماری حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں، پہلے دن کہا تھا یہ سارے چور ڈاکو اکھٹے ہو جائیں گے، آج پی ڈی ایم کے نام پر یہ سارے ایک ہو چکے ہیں، یہ کہتے ہیں ہم نے کب این آر او مانگا، انہوں نے نیب ترامیم کے معاملے پر لکھ کر این آر او مانگا، انہوں نے جو ترامیم دیں اس کا مطلب نیب کو دفن کرنے کے مترادف تھا، پوری قوم نے دیکھا جب یہ جلسہ کر رہے تھے تو میں کتنا پریشان تھا۔

جاتی امراءمیں مشاورتی اجلاس حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے لانگ مارچ تک احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ

ماڈل ٹاؤن (عمراسلم، علی اکبر) پی ڈی ایم کا حکومت مخالف تحریک کا پہلا مرحلہ ختم ، مسلم لیگ( ن) کا حکومت مخالف احتجاجی تحریک لانگ مارچ تک جاری رکھنے کا فیصلہ، مریم نواز نے لیگی رہنماؤں کو پارٹی کارکنوں کو لانگ مارچ سے پہلے فعال کرنے کا ٹاسک بھی سونپ دیا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی زیرصدارت (ن) لیگ رہنماؤں کا اہم اجلاس جاتی امرا میں ہوا، جس میں پرویز رشید، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، خواجہ سعد رفیق، ایازصادق اور خواجہ آصف بھی شریک ہوئے، اجلاس میں لانگ مارچ سے قبل عوامی رابطہ مہم شروع کرنے پر مشاورت کی گئی۔

 ذرائع کے مطابق مریم نواز پنجاب اور کے پی کے مختلف علاقوں میں عوامی رابطہ مہم شروع کریں گی، اجلاس میں عوامی رابطہ مہم کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف آپشنز پرغور کیا گیا، جس میں ریلیاں، جلسے، احتجاج اور دیگر آپشنز پر مشاورت کی گئی، مریم نواز نے لیگی رہنماؤں کو پارٹی کارکنوں کو لانگ مارچ سے پہلے فعال کرنے کا ٹاسک بھی سونپ دیا۔

 ذرائع کے مطابق مریم نواز بہاولپور، بہاولنگر، خانیوال، ملتان، لیہ، ڈیرہ غازی خاں، گوجرانوالہ، نارووال، سیالکوٹ، سرگودھا اور قصور سمیت دیگر شہروں میں عوامی رابطہ مہم شروع کریں گی۔ (ن) لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ نے پارٹی عہدیداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔

ذرائع( ن) لیگ کے مطابق پارٹی نے ہدایت کی ہے کہ لانگ مارچ تک پارٹی احتجاجی تحریک اور عوامی رابطہ مہم جاری رکھے گی، قیادت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پنجاب بھر کے ڈویژنل قائدین اپنے اپنے علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کی تیاری کریں، پارٹی عہدیداران کو احتجاجی مظاہروں کا شیڈول مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، مسلم لیگ (ن) پنجاب حکومت کو لانگ مارچ سے قبل بھی ٹف ٹائم دیتی رہے گی۔

نواز شریف کی وجہ سے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات ٹوٹنے کا خدشہ , برطانوی اخبار سن کی رپورٹ

مشہور برطانوی اخبار’دی سن‘ نے اپنے ایک سٹوری میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سفارتی صف تناو کے حوالے سے شائع ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے نواز شریف معاملہ پر برطانیہ سے 3 درجن ٖغیر قانونی تارکین وطن کو وطن واپس بھیجنے والی پرواز کو منسوخ کر دیا گیا۔دونوں اطراف کے معتبر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے لندن سے اسلام آباد ڈیپورٹ کئے جانے والے تارکین وطن میں نواز شریف کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے اور انکے بغیر پرواز منسوخ کر دی ہے۔

انگریزی اخبار دی نیوز میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے 20 اکتوبر کو اسلام آباد جانے والی پرواز کو پاکستانی حکام کی جانب سے آخری منٹ پہ کلیئرنس نہیں دی گئی تھی جس کی وجہ سے برطانوی حکومت کے پاس تمام جلا وطنوں کو واپس ان کے ڈیٹنشن سنٹرز میں بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

دی سن میں شائع خبر کے مطابق برطانوی وزارت داخلہ ذرائع سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اس پرواز کی منسوخی کے بعد پاکستان اور برطانوی سفارتی تعلقات میں شدید تناو پیدا ہو گیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس فلائٹ کے منسوخ ہونے سے برطانوی حکومت کو 300000 پاونڈز کا نقصان ہوا۔

برطانوی ذرائع کا کہنا ہے پاکستان نے معاملہ طوالت میں ڈالتے آخری منٹ میں پرواز منسوخ کر دی اور پرواز کو لینڈنگ کیلئے کلئیر قرار نہیں دیا گیا۔ تاہم برطانوی حکومت کو جلا وطنوں کو واپس ان کے ڈیٹنشن سنٹر میں بھیج دیا۔

اخبار نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ پاکستان نے برطانوی حکام کو وارننگ دی تھی کہ اگر برطانیہ نواز شریف کو واپس نہیں بھیجتا تو وہ دیگر غیر قانونی تارکین وطن کو بھی قبول نہیں کریں گے۔

برطانیہ کی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے وزیر اعظم عمران خان ،مشیر احتساب شہزاد اکبر کو لکھاہے کہ برطانوی حکومت لندن میں موجود نواز شریف کوپاکستان واپس بھیجنے کی درخواست پر بین الاقوامی قوانین کے مطابق غور کرے گی۔

ایک باوثوق ذریعے کے مطابق وزیر داخلہ پریٹی پٹیل نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگر پاکستان کی جانب سے نواز شریف کو پاکستان واپس بھیجنے کی باقاعدہ درخواست موصول ہوئی تو برطانوی حکومت اس پر برطانوی قانون کے مطابق پوری توجہ دے گی۔

اس کےساتھ ہی وزیر داخلہ نےاس بات پر بھی زور دیا ہے کہ برطانوی حکومت بین الاقوامی قانون کی پابند ہے اورمسلمہ قانونی اصولوں کے منافی کچھ نہیں کرسکتی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان نے برطانوی ہائی کمشنر کے توسط سے بھیجے گئے ایک خط میں نواز شریف کو پاکستان واپس بھیجنے کی درخواست کی ،لیکن وزیرداخلہ کی جانب سے پاکستان کو بھیجے گئے خط سے ظاہرہوتاہے کہ برطانیہ نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے پر غور نہیں کرے گا۔

, ساﺅتھ ایشیا سٹیٹ آف مینارٹیز رپورٹ کی سالانہ رپورٹبھارت مسلمانوں ‘ اقلیتوں اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے پرتشدد اور خطرناک جگہ

سوسائٹی کے ارکان، انسانی حقوق کے وکلا، سماجی کارکن، مظاہرین، دانشور، صحافی اور لبرل طبقے پر اقلیتوں کے حقوق اور پریس کی آزدیوں پر بولنے پر حملے بڑھ رہے ہیں. ساﺅتھ ایشیا سٹیٹ آف مینارٹیز رپورٹ کی سالانہ رپورٹ

ندن(ویب ڈیسک ) بھارت مسلمانوں ‘ اقلیتوں اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے ایک پرتشدد اور خطرناک جگہ بن چکا ہے جنوبی ایشیا میں شہری آزادیوں پر نظر رکھنے والی ساﺅتھ ایشیا سٹیٹ آف مینارٹیز رپورٹ کی سالانہ رپورٹ میں بھارت کی وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارتی شہریوں کے لیے قومی رجسٹر مسلمانوں کو ممکنہ طور پر سٹیٹ لیس بنا سکتا ہے.

بھارت میں گذشتہ سال پیش کیے جانے والے متنازع شہریت قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے اس قانون میں افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے تارکین وطن کے لیے بھارتی شہریت اختیار کرنے کا راستہ رکھا گیا تھا لیکن مسلمانوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا. بھارت کی سول سوسائٹی کے ارکان، انسانی حقوق کے وکلا، سماجی کارکن، مظاہرین، دانشور، صحافی اور لبرل طبقہ سب ہی حکومت کی اس اکثریت پسندی کی سوچ کے خلاف بول چکے ہیں اور رپورٹ کے مطابق یہ تمام افراد بڑھتے ہوئے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں رپورٹ میں کہا گیاہے کہ بھارت میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو ریاستی اداروں اور ان کے اتحادی نظریاتی گروہوں کی جانب سے دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.349 صفحات کی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فارن کنٹریبیوشن ایکٹ جو بیرونی عطیات کی ریگولیشن کرتا ہے کو ترقی پسند اقلیتی این جی اوز کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ٹیلی ویژن پر سینسرشپ کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں اور حکومت پر تنقید کرنے والے چینلز کو بند کیا جا چکا ہے. رپورٹ میں باقی جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی اسی قسم کے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں حکومتوں کی جانب سے آزادی اظہار کے آئینی حقوق، تعلق اور اجتماع کے حقوق کو قانون کا استعمال کر کے ان حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ان ممالک میں افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، نیپال، پاکستان اور سری لنکا شامل ہیں .ساﺅتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت سے لے کر، جمہوری نیپال، نسلی طور پر تقسیم شدہ سری لنکا، پاکستان اور جنگ زدہ افغانستان سے سیکیولرزم کی جانب بڑھتے‘ بنگلہ دیش تک، اس خطے کے زیادہ تر ممالک مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے خلاف امتازی سلوک، فاشزم کے برابر طرز حکمرانی کرنے، شہری اور انسانی حقوق کی پامالی اور آزادی اظہار کو دبانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں.2015 میں قائم ہونے والی اس تنظیم انسانی حقوق کے کارکنان اور اداروں پر مشتمل ایک کلیکٹو ہے جو خطے کی مذہنی، ذاتی، لاسانی، نسلی اور جنسی اقلیتوں کے حالات پر نظر رکھتی ہے اور جنوبی ایشیا میں اقلیتوں کے لیے شہری خلا کے حالات کا بھی جائزہ لیتی ہے.

ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں طالبان کے وفد کی وزیرخارجہ سے ملاقات

افغانستان میں قیام امن کا واحد راستہ نتیجہ خیز اور جامع مذاکرات کا انعقاد ہے، پاکستان افغانستان میں دیر پا اور مستقل قیام امن کا متمنی ہے. شاہ محمود قریشی

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) افغان طالبان سیاسی کمیشن کے وفد نے ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی وزیر خارجہ نے افغان وفد کو وزارت خارجہ آمد پر خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کے وفد کے ساتھ ہونے والی گزشتہ دو نشستیں انتہائی سود مند رہی تھیں.

انہوں نے کہاکہ دوحا میں امریکا طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے میں، پاکستان نے اپنا ممکنہ مصالحانہ کردار ادا کیا، بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے قواعد و ضوابط پر اتفاق انتہائی خوش آئند ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان شروع سے کہہ رہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کا واحد راستہ نتیجہ خیز اور جامع مذاکرات کا انعقاد ہے، پاکستان افغانستان میں دیر پا اور مستقل قیام امن کا متمنی ہے. شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے وقتاً فوقتاً مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کے دوران افغان امن عمل اور افغانستان کی تعمیر نو کے لیے عالمی برادری کے کردار کی ضرورت پر زور دیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے لازم و ملزوم ہے. انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کثیرالجہتی برادرانہ مراسم کے فروغ کا متمنی ہے، رواں سال عبداللہ عبداللہ، گلبدین حکمت یار اور افغان جرگہ کے اراکین پاکستان تشریف لائے ان کے ساتھ سود مند ملاقاتیں ہوئیں انہوں نے کہا کہ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان افغانستان گئے تھے اور وہاں بھی پاکستان نے یہی پیغام دیا کہ پاکستان افغانستان میں دیر پا اور مستقل امن کا خواہاں ہے. وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے مابین یکساں مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی اقدار ہیں ہمیں ان اقدار کو پیش نظر رکھتے ہوئے خطے میں بہتری کے لہے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے ہم ان مہاجرین کی باوقار وطن واپسی کے متمنی ہیں جس کے لیے ہم عالمی برادری سے تعاون کی درخواست کر رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ ہم نے ہنرمند افغان طلباءکیلئے پاکستانی یونیورسٹیوں میں 1000 نئے وظائف کا اعلان کیا ہے تاکہ یہ طلبا اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد افغانستان کی تعمیر و ترقی میں معاون ثابت ہو سکیں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان گہرے تجارتی مراسم ہیں گوادر پورٹ اس حوالے سے معاون ثابت ہو سکتا ہے، پاکستان، چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے یہ راہداری افغانستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تجارت کے فروغ کا اچھا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے. وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت کے فروغ کے لیے تجارتی معاہدوں کو مزید فعال بنانے کے خواہشمند ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو انہون نے بتایا کہ ہمیں علم ہے کہ بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لاتا رہتا ہے اس حوالے سے ہم نے گزشتہ دنوں ٹھوس شواہد اور ثبوتوں پر مبنی ڈوزئیر بھی عالمی برادری کے سامنے پیش کیا ہے. قبل ازیں افغان طالبان وفد کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر نے پرتپاک خیر مقدم پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی مصالحانہ کاوشوں کی تعریف کی تھی.

پیپلزپارٹی کا سندھ حکومت توڑنے کا مشروط اعلان

31جنوری تک وزیراعظم نے استعفی نہ دیا تو سندھ اسمبلی توڑنے کے آپشن پر غور کریں گے.بلاول بھٹو

لاہور(ویب ڈیسک ) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمیں مل کر اس سلیکٹڈ نظام کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور ہم جمہوریت کے لیے سندھ حکومت اور نیشنل اسمبلی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں . لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مزاحمت اور تحریکیں چلانے کی ایک تاریخ ہے اور اگر اس لانگ مارچ کو کامیاب ہونا ہے تو وہی لوگ جو ضیا کی آمریت کا مقابلہ کرتے تھے، جو مشرف کی آمریت کا مقابلہ کرتے تھے ان کو مل کر اس سلیکٹڈ نظام کا مقابلہ کرنا پڑے گا.

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں میں جو جوش ہے وہ آپ کے سامنے ہے اور یہ حکومت اور اس کے نمائندے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے انہوں نے کہاکہ ہم نے عوام کو متحرک رکھنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے اور ہمارا مطالبہ بھی آپ کے سامنے ہے کہ 31جنوری تک عمران خان کو مستعفی ہونا پڑے گا. بلاول نے کہا کہ 16دسمبر ہماری تاریخ میں بہت بھاری دن ہے، مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوا اور 16دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول پر دہشت گردی کا حملہ کیا گیا اور وہ اب بھی ہماری یادوں میں تازہ ہے انہوں نے کہا کہ خصوصاً اس حکومت نے جس طریقے سے اے پی ایس کے بچوں اور والدین کو لاواراث چھوڑا ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں.انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے ان کے دور میں اے پی ایس واقعے میں ملوث احسان اللہ احسان جیل سے بھاگا ہے، ہم سمجھتے ہیں عمران خان اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ ہم ایمنسٹی نہیں دیں گے، چھوڑیں گے نہیں کیونکہ یہ دنیا کے سامنے ہے کہ عمران خان نے دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کو چھوڑنا ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بند کرنا ہے تو جمہوری قوتوں کو بند کرنا ہے، سیاسی مخالفین کو بند کرنا ہے، بلاگرز اور میڈیا مالکان کو بند کرنا ہے مگر دہشت گردوں اور اس ملک کے دشمنوں کے خلاف ایکشن لینے کی ہمارے وزیراعظم میں ہمت نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ ہم اے پی ایس کی برسی کے دن وزیراعظم کا استعفیٰ اس لیے بھی مانگتے ہیں کہ اس نالائق، نااہل اور ناجائز وزیر اعظم کے دور میں اے پی ایس کے بچوں کے قاتل کو آزادی ملی ہے اور یہ حکومت ان بچوں کے قاتل کو جیل میں ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کررہی پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی صورت میں جس مشکلات کا سامنا اس ملک کے عوام کررہے ہیں، حکومت اس میں کمی کے لیے کوئی کوشش نہیں کررہی.انہوں نے کہا کہ چینی، آٹے اور پیٹرول کا بحران کے بعد اب سردیوں کے مہینے میں ہم گیس کے بحران کی بھی توقع کررہے ہیں، ایسا نہیں کہ ہم اس بحران سے نمٹ نہیں سکتے تھے بلکہ یہ اس حکومت کی نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے ہے. انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام ضرورت سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، آج پاکستان کے لیے انتہائی شرمندگی کی بات ہے کہ مہنگائی کی شرح میں ہم پورے خطے میں سب سے آگے ہیں، ہماری ترقی کی شرح کی بات کی جائے تو ہم پورے خطے سے پیچھے ہیں، ہماری مہنگائی کی شرح افغانستان سے زیادہ اور ترقی کی شرح افغانستان سے بھی کم ہے.بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ اگر پاکستان کی تبدیلی ہے اور عوام نے اس حکومت کی نااہلی کے بوجھ کو اٹھانا ہے تو پورے پاکستان کی آواز ہے کہ عمران خان کو جانا پڑے گا شہباز شریف سے ملاقات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے ان سے ملنے کا مقصد تعزیت کرنا تھا، یقیناً دو سیاستدان ملتے ہیں تو سیاست پر بات تو ہوتی ہی ہے تو ہمارا زور اتحاد اور ساتھ مل کر چلنے پر تھا اور پی ڈی ایم میں تمام طاقتوں کا یہ مطالبہ ہے کہ 31جنوری تک عمران خان مستعفی ہو.انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا ملتان کا جلسہ کچھ وزیروں کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے اور جہاں تک سینیٹ الیکشن کی تاریخ میں تبدیلی کی بات ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے. انہوں نے کہا کہ شو آف ہینڈز اور وقت میں تبدیلی کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے اور حکومت جانتی ہے کہ ان کے اراکین صوبائی اسمبلی ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں، حکومت جانتی ہے کہ ان کو سینیٹ میں اکثریت نہیں ملنے والی اور وہ ہر وہ ہتھکنڈا استعمال کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ سینیٹ میں دھاندلی کر کے زبردستی اپنی اکثریت حاصل کر سکیں.پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہماری عدالت وہ اس قسم کے متنازع اقدامات اٹھانے کی اجازت نہیں دے گی کیونکہ اس معاملے پر ہمارا آئین بالکل واضح ہے اور عدالت کو غیرجمہوری قدم میں گھسیٹنے کی کوشش میں حکومت ناکام رہے گی استعفوں کے نتیجے میں سندھ حکومت بھی گرنے کے سوال پر بلاول نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے 31دسمبر تک تمام جماعتوں کی قیادت کے پاس استعفے جمع ہوں گے، اگر اس ملک میں جمہوریت کے لیے سندھ حکومت اور نیشنل اسمبلی قربانی دینا پڑی تو ہم وہ قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں.تیسری قوت کی جانب سے ان احتجاجوں کا فائدہ اٹھانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ ہماری تاریخ میں ایسا ہوا ہے اور ہماری پارٹی کو اس بات کا احساس ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم جو بھی قدم اٹھائیں گے اس کو اس حکمت عملی سے استعمال کرنا چاہیں گے کہ ملک کو اس مشکل صورتحال میں نہیں ڈالا جائے جس سے ہمیں مل کر 20سال جدوجہد چلانی پڑے اور اس سے ملک اور اداروں کو نقصان پہنچے گا لہٰذا ہم ملک اور اداروں کو اس نقصان سے بچانا چاہتے ہیں.انہوں نے کہا کہ ہماری ڈیڈ لائن انتہائی موزوں ہے اور ہم پورے پاکستان کے لیے خود کو ایک ذمے دار قوت کے طور پر خود کو پیش کررہے ہیں، ہم ان کو موقع دے رہے ہیں کہ جو بحران سب کو نظر آ رہا ہے اس کا واحد حل یہ ہے کہ 31 جنوری تک یہ صاحب خود مستعفی ہو جائیں ورنہ دما دم مست قلندر ہو گا جس سے اپوزیشن کو فائدہ اور حکومت کو نقصان ہی نقصان ہو گا. ایک اور سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ مزاحمت کی سیاست کی لیکن کامیابی اور جمہوریت نظام میں ترقی لانے کے لیے مذاکرات کے ذریعے جمہوریت کے لیے کامیابیاں بھی حاصل کی تھیں، ہم دونوں طریقوں سے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں.انہوں نے کہا کہ ہم اس لیے کہتے ہیں کہ بات چیت کا وقت گزر گیا ہے کیونکہ ہم استعفیٰ لے رہے ہیں، تحریک چلا رہے ہیں، اس وقت ہم کسی سے بات چیت نہیں کر سکتے، ہاں عمران خان چلے جائیں اور اپنا عہدہ چھوڑیں پھر خلا پیدا ہو گا اور ہم حل نکال سکتے ہیں لیکن اس نطام میں کوئی گنجائش نہیں کہ پی ڈی ایم کی کوئی بھی جماعت ان قوتوں سے بات چیت کر سکے.