کائیلی جینر سال 2020 میں سب سے زیادہ کمانے والی سیلیبریٹی قرار

معروف امریکی کاروباری جریدے ’فوربز‘ نے دنیا میں 2020 میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والے سیلیبریٹز کی فہرست جاری کردی ہے جن میں ماڈل، بزنس وومن اور سوشل میڈیا اسٹار کائیلی جینر سرفہرست ہیں۔

اداکارہ و سوشل میڈیا اسٹار کائیلی جینر نے رواں برس 2020 میں مجموعی طور پر 59 کروڑ ڈالر کی کمائی کی۔

ان کی اس کمائی کی وجہ رواں برس اپنی کاسمیٹکس فرم، کائیلی کاسمیٹکس کے 51 فیصد حصص فروخت کرنا ہے۔

امریکی کاروباری جریدے نے کہا کہ اداکارہ نے سالوں سے اپنے کاروبار کے حجم کے حوالے کافی مبالغہ آرائی کی تھی اور انہوں نے معاہدے سے جو رقم واپس نکالی وہ اتنی تھی کہ کائیلی جینر سب سے زیادہ کمائی کرنے والی سیلیبریٹی بن گئیں۔

ان کے بعد اس فہرست میں دوسرے نمبر پر اداکار کانیے ویسٹ ہیں جنہوں نے رواں برس مجموعی طور پر 17 کروڑ ڈالر کمائی کی۔

رواں برس کانیے ویسٹ کی زیادہ تر کمائی ایڈیڈاز کے ساتھ کی گئی ییزی اسنیکر ڈیل سے ہوئی۔

ان کے علاوہ ٹینس اسٹار روجر فیڈرر 10 کروڑ 63 لاکھ ڈالر دولت کے ساتھ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر رہے۔

وہ زیادہ کمائی کرنے والے پہلے ٹینس کھلاڑی ہیں جو فوربز کی اس فہرست کا حصہ بنے۔

3 اسٹریمنگ جائنٹس بھی اس فہرست کا حصہ بنے جن میں ریان رینالڈز 7 کروڑ 15 لاکھ ڈالر کمائی کے ساتھ 18ویں، بیلی ایلیسش 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے ساتھ 43ویں اور جیری سین فیلڈ 5 کروڑ 10 لاکھ کمائی کے ساتھ 46ویں نمبر پر ہیں۔

ان تینوں افراد کی کمائی کا دو تہائی حصہ ویب اسٹریمنگ سروس نیٹ فلیکس سے ہونے والی آمدن پر مبنی ہے۔

فٹ بال اسٹار کرسٹینا رونالڈو 10کروڑ ڈالر کمائی کے ساتھ اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہیں جو اپنے کیرئیر کے دوران ایک ارب ڈالر کمانے والے پہلے ٹیم پلیئر بن گئے ہیں۔

ان کے علاوہ ارجنٹائن کے فٹ بالر لائینول میسی فوربز کی اس فہرست میں پانچویں نمبر پر ہیں۔

ہدایت کار ٹیلر پیری 9 کروڑ 70 لاکھ ڈاکر، نیمار 9 کروڑ 55 لاکھ ڈالر، دنیا میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والے ریڈیو میزبان ہووراڈ اسٹرن 9 کروڑ ڈالر اور چار مرتبہ این بی اے ایم وی پی بننے والے لیبرون جیمز 8 کروڑ 82 ڈالر کے ساتھ بالترتیب چھٹے، ساتویں، آٹھویں اور نویں نمبر پر ہیں۔

پی ڈی ایم کا الٹی میٹم مسترد، وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیں گے، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے الٹی میٹم کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ نہیں دیں گے اور اسمبلیاں تحلیل نہیں کی جائیں گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف نظر میں یہ ایک بے معنی سی سرگرمی تھی، ایک حجت تمام کی گئی کیونکہ وہ اعلان کر چکے تھے کہ 13 تاریخ کو ہم لاہور میں ایک تاریخ ساز جلسہ منعقد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ پی ڈی ایم کی صفوں میں استعفوں پر اتفاق نہیں ہے اور یہ میں آپ کو سنی سنائی بات نہیں بلکہ اندر کی بات کہہ رہا ہوں، ان کے اندر آج بھی یہ واضح نہیں ہے کہ استعفے دینے ہیں یا نہیں دینے ہیں یا کب دینے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو ابہام ہے، ان کی حکمت عملی بھی واضح نہیں ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی میں جو فیصلہ کن قوت ہے وہ نہ جلسے میں تھی، نہ پی ڈی ایم کے اجلاسوں میں تھی اور وہ فیصلہ کن قوت آصف علی زرداری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک مثال ہے کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور، کھانے کے اور تو بلاول تو دکھانے کے لیے ہے، فیصلہ بلاول نہیں کرتا، پیپلز پارٹی کے فیصلے آج بھی آصف علی زرداری کرتے ہیں، ان کا اندرونی حلقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ بااختیار کون ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ پیپلز پارٹی نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ہو سکتا ہے کہ سوچ رہے ہوں، فیصلہ کوئی نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ(ن) ہے، وہ استعفوں کے ایشو پر تقسیم ہے اور اس مسئلے پر ان میں واضح دو دھڑے دکھائی دے رہے ہیں، ایک سوچ شہباز شریف کی ہے اور دوسری مریم نواز کی ہے اور دونوں سوچوں میں ایک خلا ہے اور وہ ابھی تک یکجا نہیں ہو پائے۔

کراچی میں چینی باشندوں پر بم حملہ ناکام

کراچی: کلفٹن بلاک 2 میں چینی باشندوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائی ناکام بنادی گئی۔

کراچی میں بلاول ہاؤس چورنگی کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان نے چینی شہریوں کی گاڑی پر مقناطیسی بم چسپاں کیا، تاہم گاڑی میں موجود غیر ملکی شہریوں نے خطرے کو بھانپتے ہوئے فورا گاڑی ایک طرف کھڑی کرکے پولس کو اطلاع دی۔

پولیس نے فوری پہنچ کر چینی عملے کو محفوظ کیا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا۔ بی ڈی یو نے موقع پر پہنچ کر بم ڈیوائس کو مہارت کے ساتھ ناکارہ بنادیا۔

ایس ایس پی ساؤتھ زبیر نذیرشیخ کے مطابق گاڑی چینی ریسٹورینٹ کی ملکیت ہے، کار میں ریسٹورینٹ کا چینی عملہ سوار تھا جس کے بروقت اطلاع دینے سے دہشت گردی کی بڑی کارروائی ناکام بنا دی گئی۔

پولیس نے بم کے بارے میں بتایا کہ ریموٹ کنٹرول میگنیٹک ڈیوائس تھی جسے چلتی ہوئی گاڑی پر چپکایا گیا تھا اور ڈیوائس میں ایک کلو سے زائد سیاہ رنگ کا بارودی مواد موجود تھا۔

بی ڈی یو حکام نے بم کی جانچ پڑتال کے بعد واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا کہ ملزمان نے گاڑی سے دور جاکر سسٹم ایکٹیویٹ کردیا تھا، ڈیوائس میں موجود ڈیٹونیٹر معمول دھماکے سے پھٹا لیکن تکنیکی خرابی کی وجہ سے ڈیوائس مکمل طور پر نہ پھٹ سکی تھی۔

افغانستان: بم دھماکے میں کابل کے ڈپٹی گورنر ہلاک

کابل: افغانستان کے دارالحکومت میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے نتیجے میں دارالحکومت کے ڈپٹی گورنر ہلاک ہوگئے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں سیکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ نامعلوم حملہ آوروں نے بم ان کی کار کے ساتھ منسلک کردیا تھا۔

افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق دھماکے میں کابل کے ڈپٹی گورنر محبوب اللہ محبی کے ساتھ ان کے سیکریٹری بھی مارے گئے۔

دھماکا کابل کے پی ڈی 9 علاقے مکروریاں چہارم میں مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 40 منٹ پر ہوا، تاہم کسی عسکری گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

خیال رہے کہ ایک جانب جہاں طالبان اور افغان حکومت کے مابین بین الافغان مذاکرات کی کوششیں آگے بڑھ رہی وہیں افغانستان میں مسلسل شورش کے واقعات بھی رونما ہورہے ہیں۔

قبل ازیں گزشتہ ہفتے کابل میں افغان حکومت کے ایک پراسیکیوٹر کو اس وقت گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا جب وہ اپنے کام پر جارہے تھے۔

30 نومبر کو افغانستان میں فوجی اڈے پرہونے والے ایک خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں 30 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے قبل 21 نومبر کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں کے گنجان آباد علاقوں پر متعدد راکٹ حملے ہوئے تھے جن میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے۔

نجی کمپنیاں پٹرول بحران کا سبب ،جان بو جھ کر سپلائی روکی،وزیراعظم کو رپورٹ پیش:ذرائع

مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ پٹرولیم کمیشن کی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو موصول ہو گئی، ایف آئی اے کی رپورٹ میں بحران کا ذمہ دار پٹرولیم ڈویژن کے ذیلی اداروں کو قرار دیا گیا ہے۔

مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ پٹرولیم کمیشن کی رپورٹ کل کابینہ اجلاس میں پیش ہو گی، منظوری کے بعد پبلک کی جائے گی۔ دنیا نیوز کو موصول تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کی رپورٹ میں بحران کا ذمہ دار پٹرولیم ڈویژن کے ذیلی اداروں کو قرار دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے کہاکہ نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پٹرولیم بحران کا باعث بنیں، پیٹرول پمپس کو جان بوجھ کر پٹرولیم کی سپلائی روکی گئی اورکمپنیوں کے پاس ذخیرہ ہونے کے باوجود مصنوعی بحران پیدا کیا گیا۔ وزارت پیٹرولیم اور ڈی جی آئل پیٹرول دستیابی یقینی بنانے میں ناکام رہے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بحران کے دوران حکومتی اداروں نے کمپنیوں کے ذخیرے کی جانچ پڑتال نہیں کی، ویٹرنری ڈاکٹر شفیع آفریدی کو وزارت میں ڈی جی آئل لگا دیا گیا جن کے پاس آئل سیکٹر میں کام کا کوئی تجربہ نہیں جبکہ متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا کوئی میکنزم ہی موجود نہیں۔

ایف آئی اے کے وزارت پیٹرولیم سے پوچھے گئے سوالات کےجوابات کوبھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ رپورٹ میں بحران کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

بھارتی کسانوں کے مودی کیخلاف برمنگھم واشنگٹن میں بھی مظاہرے

بھارت میں کسانوں کا احتجاج 19 ویں روز میں داخل ہو گیا۔ آج سارے ملک میں بھوک ہڑتال کی جا رہی ہے۔ مودی سرکار سے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہیں۔ دلی سے امرتسر آنے والی بارات میں بھی مودی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

بھارت میں کسانوں نے مودی کو آگے لگا لیا، کسان سارے ملک میں بھوک ہڑتال کر رہے ہیں، متعدد ریاستوں میں اہم شاہراہوں کو بھی بند کر دیا گیا۔ دلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجری وال نے بھی کاشتکاروں سے اظہار یکجہتی کے لئے بھوک ہڑتال پر ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا، دلی سے امرتسر آنے والی بارات کے باراتیوں نے بھی کسانوں کے حق میں اور مودی کے خلاف پوسٹر اور پلے اٹھا لیے۔ دلہے کا کہنا تھا وہ بھی کسان فیملی سے ہیں اور اس مظاہرے کا ساتھ دینا فرض سمجھتے ہیں۔برمنگھم میں ہزاروں افراد نے بھارتی قونصل خانے کے باہر مظاہرہ کیا، مودی سرکار کے خلاف نعرے لگائے، خالصتان کے جھنڈے بھی لہرائے۔ واشنگٹن میں بھی سکھ کمیونٹی نے احتجاج کیا۔

مظاہرین سینکڑوں گاڑیوں میں ریلی کی صورت میں بھارتی سفارتخانے کے باہر پہنچے اور مودی سرکار کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری انسانی حقوق کا احترام کروانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالے۔

پی ڈی ایم کی حکومت مخالف مہم لاہور میں دفن ہوگئی، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے مینار پاکستان پر جلسے کو ایک ’ناکام پاور شو‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کی تین ماہ کی حکومت مخالف مہم لاہور میں دفن ہوگئی۔

 رپورٹ کے مطابق انہوں نے کورونا وائرس کی مزید مہلک دوسری لہر کے دوران جلسے کرنے اور لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے پر اپوزیشن پر سخت تنقید کی۔

ان کی جانب سے یہ بیان وزیراعظم ہاؤس میں ترجمانوں کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آیا۔

یہ اجلاس لاہور کے جلسے کے بعد منعقد ہوا جس میں اپوزیشن کے احتجاجی پروگرام کا جائزہ لیا گیا۔

اس حوالے سے اجلاس میں شریک ایک فرد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وزیراعظم نے لاہور کے جلسے کو ایک ناکام شو قرار دیا کیونکہ عوام اس سے دور رہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا یہ نکتہ تھا کہ لاہور کے لوگ شہریوں کے باشعور اور سمجھدار گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا وہ بغیر سوچے سمجھے کسی سیاسی سرگرمی میں شامل نہیں ہوئے۔

عمران خان نے کہا کہ لاہور سے شروع ہونے والی کئی ’غیرمؤثر‘ تحریکیں اسی شہر میں ناکام رہیں اور ’پی ڈی ایم کی قسمت بھی یہی رہے گی‘۔

وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے پی ڈی ایم جلسوں میں جوشیلی تقاریر اور ریاستی اداروں کے خلاف بیان بازی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’مریم نواز ریاستی اداروں کو بدنام کررہی ہیں‘، مزید یہ لاہور میں پی ڈی ایم کے ناکام جلسے کے لیے میڈیا کو ذمہ دار قرار دے رہی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ اپوزیشن کے بیانیے سے متاثر نہیں ہوئے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے ایک اور ترجمان نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپوزیشن کو کہا تھا کہ جلسے نہ کرے کیونکہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا لیکن انہوں (اپوزیشن) نے ان کے مشورے پر کوئی توجہ نہیں دی اور لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ لاہور کے لوگوں نے پی ڈی ایم رہنماؤں کو ان کے بیانیے کے ساتھ مسترد کردیا۔

مختلف ٹوئٹس میں انہوں نے کہا کہ جن کی سمتیں مختلف ہوں ان کی منزل ایک نہیں ہوسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنے دعوے ’آر یا پار‘ برعکس پی ڈی ایم لاہور میں خوار ہوئے چونکہ یہ لاہور اور پنجاب کے شہریوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

جوبائیڈن کی فتح کا باقاعدہ اعلان، ریپبلکنز نے بھی جیت تسلیم کرلی

واشنگٹن: امریکی الیکٹورل کالج نے بالآخر جو بائیڈن کو 2020 کے انتخابات میں فاتح قرار دے دیا جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل شکست تسلیم کرنے سے انکار کے باعث 40 دن تک جاری رہنے والے تناؤ کا خاتمہ ہوگیا۔

تمام 538 رائے دہندگان نے 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ان کے ووٹروں کی جانب سے انہیں دیئے گئے مینڈیٹ کی پیروی کی، ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو 306 ووٹ ملے جبکہ ان حریف ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو 232 ووٹ ڈالے گئے۔

20 جنوری کو صدر منتخب ہونے والے جو بائیڈن اور نائب صدر کمالا حارث کے عہدہ سنبھالنے سے قبل 6 جنوری کو کانگریس کے خصوصی مشترکہ اجلاس میں انتخابی ووٹوں کی سیل اتاری جائے گی۔

جو بائیڈن جنہیں انتخاب کے روز رات کو اپنی قوم کو فاتح کی حیثیت سے خطاب کرنا تھا، نے الیکٹورل کالج میں اپنی فتح کی تصدیق کے چند منٹ بعد ہی تقریر کی اور اپنے حریف پر زور دیا کہ وہ ‘جمہوریت پر بے مثال حملے’ کو ختم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکا میں سیاستدان اقتدار میں نہیں آتے بالکہ عوام انہیں اقتدار میں لاتی ہے، جمہوریت کی شمع اس قوم میں بہت عرصے پہلے جل چکی تھی اور اب کچھ نہیں ہوسکتا، نہ ہی وبا اور نہ ہی اختیارات کا ناجائز استعمال اس شمع کو بجھا سکتا ہے’۔

مسٹر ٹرمپ نے یہ اعلان کرتے ہوئے جواب دیا کہ وہ اپنے اٹارنی جنرل بل بار کو برطرف کر رہے ہیں جنہوں نے 2020 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ان کے دعووں کی توثیق نہیں کی تھی۔

صدر نے اپنے آفیشل ٹویٹر پیج پر بل بار کے استعفے کی ایک کاپی پوسٹ کی اور لکھا کہ ‘خط کے مطابق کرسمس سے قبل بل بار اپنے اہلخانہ کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے لیے روانہ ہو جائیں گے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘ڈپٹی اٹارنی جنرل جیف روزن، ایک ممتاز شخصیت، قائم مقام اٹارنی جنرل بن جائیں گے اور انتہائی قابل احترام رچرڈ ڈونوگو ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے’۔

ڈونلڈ ٹرمپ جو عام طور پر سیاسی پیشرفتوں پر رد عمل دینے میں کوئی وقت ضائع نہیں کرتے تھے، نے الیکٹورل کالج کے فیصلے پر کوئی رائے پیش نہیں کی۔

جو بائیڈن نے اپنی قوم کو یہ یقین دلاتے ہوئے اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کی کہ وہ ‘تمام امریکیوں کے لیے صدر’ ہوں گے اور انہوں نے ‘گرما گرمی کم کرنے’ اور ساتھ مل کر کام کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے الیکٹورل کالج کے نتائج ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی فتح کے برابر تھے۔

انہوں نے کہا ‘ان کے اپنے معیار کے مطابق ان نمبروں نے اس وقت ایک واضح فتح کی نمائندگی کی تھی اور میں احترام کے ساتھ تجویز کرتا ہوں کہ اب وہ ایسا کریں’۔

عوام نے اپوزیشن کی انتشار کی سیاست رد کردی لوٹی دولت واپس کرنا ہوگی:عثمان بزدار

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ آٹھ دسمبر کے بعد تیرہ دسمبر بھی گزر گیا، آر ہوا نا پار مگر لاہور کے عوام نے ٹھکرائے عناصر کو آرپار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اپنے بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ زندہ دلان لاہور پی ڈی ایم کی فسادی سیاست سے لاتعلق رہے، عوام خصوصا ًزندہ دلان لاہور کا شکریہ ادا کرتا ہوں، مینار پاکستان پر حسرتوں کا جنازہ دھوم سےنکلا اورپوری قوم نےدیکھا، گذشتہ روز سوا کروڑ شہر کے جھوٹے دعویدار بری طرح ناکام رہے۔

سردار عثمان بزدار نے کہا کہ عوام نے اپوزیشن کی انتشار کی سیاست کو یکسر رد کر دیا، اور ٹھکرائے عناصر کو آر اور پار کر دیا، ناکام جلسی پرافراتفری پھیلانے والہ ٹولہ خود انتشار کا شکار ہوچکا ہے، ان لوگوں نے ملک کو بحرانوں کا شکار کیا، خود بیرون ملک بیٹھے ہیں، پی ڈی ایم ملکی ترقی کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے بیان میں کہا کہ کرپشن پر اپنےگرد گھیرا دیکھ کر اپوزیشن تباہی کے راستےپر گامزن ہے، کرپشن سےتجوریاں بھرنےوالوں کی عوام میں کوئی حیثیت نہیں، عوام اپوزیشن قیادت کا منفی چہرہ پہچان چکی ہے، جان لیں کہ ملک کی لوٹی دولت واپس کرنا ہی پڑے گی، احتساب سےگھبرا کرتماشہ لگانے والی پی ڈی ایم کا احتساب ہو کر رہے گا۔

امریکہ کے دو محکموں کا کمپیوٹر سسٹم ہیک ،روس پر سائبر حملوں کا الزام

امریکہ کے دو اہم سرکاری محکمے انتہائی طاقتور سائبر حملوں کی زد میں آنے کے بعد حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، محکمہ خزانہ و کامرس کے کمپیوٹر سسٹمز کو غیر ملکی حکومتوں کی پشت پناہی سے ہیک کیا گیا، غیر ملکی نشریاتی ادارے نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ کے متعدد سرکاری محکموں بشمول محکمہ خزانہ اور کامرس کے کمپیوٹر سسٹمز کو غیر ملکی حکومتوں کی پشت پناہی سے ہیک کیا گیا، ماہرین کا خیال ہے کہ حملوں کے پیچھے ممکنہ طور پر روس کا ہاتھ ہے، امریکی میڈیا ان حملوں کو گزشتہ کئی برسوں میں امریکی حکومتی نظام پر سب سے زیادہ مہارت سے کیے گئے حملے قرار دے رہا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارہ اور اور ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کا سائبر کرائم کا شعبہ سسٹم میں اس دراڑ کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں ، امریکہ کی قومی سلامتی سے متعلق اداروں کے عہدیداروں نے ہفتے کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور اس ماہر ہیکنگ گروپ کے حملے پر تبادلہ خیال کیا ۔