Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ایرانی وزیر خارجہ: جہاز پر یوکرینی حملہ بغیر جواب نہیں رہے گا
    • امریکی سیاستدان نے ٹرمپ کی امارات، سعودی عرب اور قطر سے قربت کا مبینہ راز فاش کر دیا
    • 82 کلوگرام وزن اٹھا کر میرابائی چانو نے کامن ویلتھ گیمز کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا
    • مریم محمود یوئیفا ویمنز چیمپئنز لیگ میں کھیلنے والی پہلی پاکستانی خاتون فٹبالر بن کر تاریخ رقم کر گئیں
    • تیل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا خدشہ
    • امریکا کی جانب سے حملے روکنے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی مؤخر کر دی
    • انعم عزیر نے پاکستان کی پہلی 100 کلومیٹر ماؤنٹین ٹرائل میراتھن جیت کر تاریخ رقم کر دی
    • اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے میں مزید کارروائی کا عندیہ
    • زخمی صحافی علاج کے لیے غزہ سے نکلنے کی جدوجہد میں مصروف
    • عبداللہ شفیق اور سعود شکیل ویسٹ انڈیز دورے کے لیے پاکستان اسکواڈ میں شامل
    • پرہلاد جوشی بھارت کے نئے وزیرِ تعلیم مقرر
    • پاکستان میں سونے کی قیمت بڑھ کر 4 لاکھ 27 ہزار روپے تک پہنچ گئی
    • کویت نے بھی سعودی عرب کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان کو خلیجی سلامتی کا اہم شراکت دار تسلیم کر لیا
    • شاہنواز دہانی سری لنکا کے جنگلات کی سیر میں مصروف
    • جنوب مشرقی ایران میں 4.6شدت کا زلزلہ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں
    • ہم نے ایران پر کوئی حملہ نہیں کیا: کویت
    • مودی ہار گیا GEN-Zجیت گئی
    • بھارت کی "کاکروچ” پارٹی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا
    • قازقستان وسطی ایشیا کی پہلی ایئر ٹیکسی سروس شروع کرنے کے لیے تیار
    • آسٹرین ایئرلائنز اور آئی ٹی اے ایئرویز نے اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کر دیں
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ناکام سیاست دان

    By Daily Khabrainجون 28, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email
    انتظامیہ بتاتی آپ نے فلاں جگہ تقریب میں اتنے بجے آنا ہے‘ میں اسی تقریب ہی میں جاتا
     آپ لوگوں نے ڈیسک بجانے ہیں‘ میں مسکرادیتا مگر کبھی ہال میں ڈیسک بجانے نہ گیا
    کبھی کبھی اکیلے میں بیٹھا مرزا غالب کے اشعار ذہن میں آتے ہیں
    نہ تھا کچھ تو خدا تھا
    کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
    ڈبویا مجھ کو ہونے نے
    نہ میں ہوتا تو کیا ہوتا
     اپنی پوری زندگی کے بارے میں سوچتے ہوئے بار بار مجھے یہ اشعار اپنے آپ پر موزوں لگتے ہیں۔ میں نے ایک آسودہ گھرانے میں آنکھ کھولی۔ میرے والد مرحوم اپنے علاقے کے بڑے زمینداروں میں سے ایک تھے۔ ان کی کثیر اولاد تھی یعنی سات بھائی ایک ہمشیرہ۔ میرے والد صاحب مرحوم کے نزدیک اپنے بچوں کو تعلیم کے لئے اتنا کافی تھا انہیں گاؤں کے سکول میں داخل کروادینا۔بعد میں ہم اپنی ضرورت کے مطابق ان سے کتابوں، سکول کی فیس، یونیفارم جو بھی مطالبہ کرتے وہ بلا تردد پورا کر دیتے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں میرے والد مرحوم تعلیم کے خلاف تھے۔ وہ ہمیشہ تعلیم کے فروغ کیلئے کوشاں رہے۔ اپنے علاقے میں بہت سی درسگاہوں کو اپنی ذاتی زمین بطور عطیہ دی۔ علاقے کے کافی بچوں کو تعلیم کیلئے مالی امداد بھی کرتے رہتے تھے۔ میرے نزدیک انہوں نے ہماری تعلیم کیلئے دو باتوں کو نظر انداز کیا۔ اول یہ کہ ہمیں اچھی درسگاہوں میں داخل نہیں کروایا۔ دوئم کبھی ذاتی دلچسپی لے کر یہ معلوم نہیں کیا ہم کیا پڑھ رہے ہیں؟ کونسی کلاس میں ہیں؟
    جس کی وجہ سے ہم بھائی اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ اپنے ذاتی تجربے کے باعث میں نے اپنے بچوں کو نہ صرف اچھی درسگاہوں میں داخل کیا بلکہ دن رات ان کی تعلیم پر بھرپور توجہ دی۔اپنی سیاسی، ذاتی تمام تر مصروفیات کو ترک کر کے بچوں کے یوم والدین پر میرا ایک بھی ناغہ نہیں تھا۔میں اس کے علاوہ بھی اپنے بچوں کے ٹیچرز کو گاہے بگاہے ملتا رہتا تھا۔انکا ٹیوشن ہو یا اکیڈمی میں نے ہمیشہ جاسوسی کی حد تک ان کی نگرانی کی۔اپنی اوقات سے بڑھ کر میں نے اپنے بیٹے کو بیرونِ ملک بھی تعلیم دلوائی۔ الحمدللہ اللہ نے میری محنت کو رنگ لگایا۔میرے بچے بھی میرے اعتماد پر پورا اترے۔ میرے بیٹے عثمان نے نہ صرف کینیڈا میں اچھے نمبروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ وہاں کے ایک بڑے بینک میں دس سال میں اپنا نام پیدا کیا۔آج میرے بچے اپنے خاندان میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ سیکنڈری سکول تک میرے ٹیچر مجھے God Gifted Child، اپنے سکول کا ذہین ترین سٹوڈنٹ کہتے تھے۔میں نے میٹرک کیا۔ S-Eکالج میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا۔ایف-اے میں بدیسی زبان میں کامیاب نہ ہوسکا۔ ان دنوں کالجوں میں آپ کو دو تین پیپرز میں فیل ہونے کے باوجود اگلی کلاس میں پڑھنے کی اجازت مل جاتی تھی۔ ہم تو صرف انگریزی میں فیل تھے۔
    ہم نے کالج کا تھرڈ ایئر کا امتحان بھی پاس کر لیا۔ مگر فورتھ ایئر کا داخلہ اس وقت تک نہیں جاسکتا تھاجب تک ایف-اے پاس نہ ہو۔ سو ہم نے پڑھائی سے مایوس ہو کر آوارہ گردی شروع کردی۔ 79ء میں بلدیاتی الیکشن میں حصہ لے کر اپنے گھر کی یونین کونسل کا چیئرمین منتخب ہوا۔ پورے چودہ سال یونین کونسل کا چیئرمین رہا۔ جسکی وجہ سے میرے ٹاؤن کے بزرگ لوگ آج بھی مجھے میاں چیئرمین کہتے ہیں۔ چیئرمین بننے کے بعد میں نے بہاولپور میں اپنے دوستوں کا حلقہ وسیع کر لیا۔ ان میں بیوروکریٹ، ٹیکنوکریٹ، کالج، یونیورسٹی کے پروفیسرز، ڈاکٹرز شامل تھے۔ جب ان پڑھے لکھے لوگوں میں بیٹھتا تو وہ مجھ سے تعلیم کے بارے میں پوچھتے میں شرمندگی سے میٹرک پاس کہتا۔ اس شرمندگی سے بچنے کی خاطر میں نے شادی کے بعد ایف-اے اور پھر بی-اے کیا۔
     اپنی بے پناہ محنت کے باعث 97ء میں ممبر پنجاب اسمبلی، 2001ء میں تحصیل ناظم، 2013ء، 2018ء میں ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوا۔ ایام ِ جوانی میں سوچتا تھا میں بہت بڑا آدمی (دنیاوی) بنوں گا۔ میرے آگے پیچھے پروٹوکول گاڑیاں ہوں گی۔ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کروں گا، مگر سب ادھورے خواب رہ گئے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں جس طرح نو عمری میں ذہین تھا سی ایس ایس کا امتحان دیتا تو آج بیسویں گریڈ کے آفیسر کی حیثیت سے ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہوتا۔ خیر میں سیاست میں آگیا۔مگر سوچتا ہوں میں اس کام کے لئے موزوں نہیں (miss fit)ہوں۔ بہت پہلے پرویز مشرف نے جب کہا تھا میں وردی سمیت صدر منتخب ہوں گا۔ عباس اطہر مرحوم نے کالم لکھا ”انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند“۔
     ہمارے ووٹرز کے بھی انوکھے انوکھے مطا لبات ہوتے ہیں۔ میرے ایک سپورٹر تشریف لائے فرمایا فلاں آدمی کا تبادلہ فلاں جگہ کردیں۔ محکمے سے معلوم کیا پتہ چلا جہاں وہ چاہتے ہیں وہاں سیٹ ہی نہیں۔ مگر سفارشی بضد تھے وہیں پوسٹ کیا جائے۔درجہ چہارم کا ایک اہلکار گریڈ سولہ کے مکان کی الاٹمنٹ پر بضد ہوتا ہے۔اسی طرح عجیب و غریب فرمائشیں ہوتی ہیں جنھیں سن کر طبیعت سیاست سے بیزار ہوجاتی ہے۔میں جھوٹ سے نفرت کرتا ہوں۔ مگر سچ سننے کو کوئی تیار نہیں۔ میرے حلقے کے عوام کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جو مجھ ایسے سے کھرا سچ سننے کے بعد بھی مجھے ووٹ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ میں اپنے آپ کو اس لیے بھی  miss fitکہتا ہوں جب اپنے دوستوں کو قائدین کی تعریفوں میں رطب اللسان دیکھتا ہوں۔انکے ابتدائیہ کلمات بھی قیادت کی تعریف سے شروع ہوتے ہیں۔ اختتام بھی اسی پر ہوتا ہے۔ انکی گفتگو کا یہ بھی مدعا ہوتا ہے ہم بالکل کسی قابل نہ تھے مگر یہ ہمارے قائدین کی مہربانی ہے۔ آج ہم اس مقام پر ہیں۔ انہی میں سے اکثریت جب بھی نجی محفلوں میں بیٹھتے ہیں تو اپنے لیڈروں کی ایسی ایسی برائیاں گنواتے ہیں بلکہ دشنام طرازی سے بھی باز نہیں آتے۔ خدا معلوم وہ یہ سارا کچھ کیسے کر لیتے ہیں؟
    2010ء کے ضمنی الیکشن کے ٹکٹ کے انٹرویو میں مجھ سے پرویز رشید نے یہ کہا اگر پارٹی آپ کو ٹکٹ نہ دے؟ میں نے کہا مجھے میاں نواز شریف بلا کر کہہ دیں میں الیکشن نہیں لڑوں گا۔ انہوں نے فوراََ فرمایا ہم تو اپنے قائد کی منشاء بھانپ کر بغیر انکے لب ہلائے تعمیل کر دیتے ہیں۔میرا جواب کھرا سچ مگر تلخ تھا۔ پرویز رشید صاحب آپ انہیں روحانی پیشوا مانتے ہونگے، میں پارٹی ہیڈ تسلیم کرتا ہوں۔
    پچھلے دور حکومت کے پانچ سالوں میں بڑے میاں صاحب یا چھوٹے میاں صاحب بہاولپور تشریف لاتے، انتظامیہ بتاتی آپ نے فلاں جگہ تقریب میں اتنے بجے آنا ہے۔ میں اسی تقریب ہی میں جاتا۔مجال کبھی ایئرپورٹ پر ان کی آمد یا روانگی کے وقت گیا ہوں۔ میرے ضلع کے سارے کولیگ آمد کے وقت، روانگی کے وقت حاضری دینا ضروری سمجھتے۔ ہماری لابی میں میاں شہباز شریف کبھی نہیں آئے۔ بلاول بھٹو ہمیشہ لابی میں بیٹھتے ہیں اپنے ممبران سے خوب گپ شپ لگاتے ہیں۔ میرے ایک دوست نے ان کو دیکھ کر آہ بھرتے  ہوئے کہا: کاش!ہمارے لیڈران بھی ایسا کرتے۔ افسوس میں ایسی پارٹی میں ہوں جو اپوزیشن میں بھی اپنے ممبران سے ملنا اپنی توہین سمجھتی ہے۔ میں اپنے آپ کو اس لیے بھی miss fitسمجھتا ہوں۔ میں نے کبھی سپیکر کے ڈائس کے سامنے جا کر نعرے بازی نہیں کی۔کبھی بھاگ بھاگ کر اپنے لیڈران سے مصافحہ کرنا فرض اولین نہیں سمجھا۔مسلم لیگ کی حکومت کے دوران جب ہم لابی میں بیٹھے ہوتے تو ہمارے چیف وہیپ شیخ آفتاب تشریف لاتے ہمیں فرماتے چلو ہال میں چلیں چوہدری صاحب نے تقریر کرنی ہے یعنی چوہدری نثار نے تقریر کرنی ہے۔ آپ لوگوں نے ڈیسک بجانے ہیں۔ میں مسکرادیتا، مگر کبھی ہال میں ڈیسک بجانے نہ گیا۔جب اسمبلی میں بجٹ پیش کیا جاتا ہے بغیر بجٹ پڑھے وزیرِ خزانہ کی تقریر کے دوران شوروغل مجھے ذرا بھی اچھا نہیں لگتا۔ میرے ذاتی نظریات میں مخالف کی مکمل بات سننی چاہیے۔ اس کے بعد جواب دینا چاہیے۔پچھلے دنوں اسمبلی میں جو طوفانِ بد تمیزی ہوا، اس کو دیکھتے ہوئے میں سوچتا ہوں کیا میں بھی اسی اسمبلی کا ممبر ہوں؟ مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
    ہماری تمام سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی میٹنگوں میں سوائے خوشامدانہ تقاریر کے کچھ نہیں ہوتا۔ جنہیں سن کر دل و دماغ شل ہوجاتے ہیں۔اسی وجہ سے میں کبھی ان میٹنگوں میں شریک نہیں ہوا۔کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جس کے قائد تنقید سننے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ فیصلے اوپر سے مسلط کیے جاتے ہیں۔ کسی سینیٹر کو ووٹ دینا ہو، صدارتی ووٹ ہو، چیف آرمی کی ملازمت میں توسیع ہو، بس حُکم آجاتا ہے غلام ابن غلام لوگو ایسا کرنا ہے۔ پارٹیوں کے عہدے بغیر کسی الیکشن کے نامزدگی کے پُر کر دیے جاتے ہیں۔ میں نے اپنے ایک جمعیت العلماء اسلام کے ساتھی سے پوچھا کیا آپ کی مجلس شوریٰ میں بولنے کی آزادی ہے انہوں نے فرمایا: ہمارا حال تو آپ کے حال سے بھی زیادہ برا ہے۔ TVکے شوز میں جس طرح میرے ساتھی اپنے قائدین کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں مجھے دکھ کے ساتھ ہنسی بھی آتی ہے ان معصوم لوگوں پر جو نہ جانے اپنے ضمیر کو سُلا کر کس طرح جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔ شاید میں ایسا کبھی نہ کر سکوں۔ اس لیے شاید تاریخ دان مجھے ایک ناکام سیاست دان لکھیں گے۔
     (کالم نگارمعروف پارلیمنٹیرین ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      روپے کی قدر میں مزید کمی,ڈالر 277، کینیڈین ڈالر 200 کے قریب

      شان بیگ اور روما مائیکل شادی کے بندھن میں بندھ گئے

      تاریخی کارنامہ، چار پاکستانی, پاکستانی رجسٹرڈ بائیکس پر آرکٹک سرکل پہنچ گئے

      تازہ ترین

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.