Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ٹانک میں دہشتگردوں کا پولیس چیک پوسٹ پر حملہ، جوابی کارروائی میں 12 دہشتگرد ہلاک، 15 اہلکار شہید: آئی ایس پی آر
    • ایران کا کہنا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں 55 افراد جاں بحق ہوئے ہیں
    • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے استعفیٰ دے دیا
    • مون سون کے بڑھتے خطرات کے درمیان پاکستان کے ڈیم 58 فیصد بھر گئے۔
    • امریکہ نے پاکستانی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا
    • شاہراہِ بلتستان پر سیلاب سے متاثرہ پل کی بحالی کا کام جاری
    • برطانیہ ایران کی دھمکیوں کے پیشِ نظر اپنے دفاع کے لیے تیار
    • ڈاکٹر نبیحہ کا دعویٰ: حارث کھوکھر روزانہ ازدواجی تعلق نبھانے کے قابل نہیں تھے
    • نابلس کے قریب اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں چار فلسطینی جاں بحق
    • ایران کے خلاف جارحیت کی حمایت کے نتائج بھگتنا ہوں گے: عباس عراقچی
    • کویت میں مظاہرین کا امریکی فوجی اڈوں کے انخلا کا مطالبہ
    • ایران کا دعویٰ: بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر ڈرون حملے
    • پنجاب نے مقامی اور عالمی کرکٹ ستاروں کے ساتھ چیمپئنز کرکٹ لیگ کا آغاز
    • روپے کی قدر میں مزید کمی,ڈالر 277، کینیڈین ڈالر 200 کے قریب
    • امریکا نے چینی اے آئی کمپنیوں پر مبینہ ماڈل ڈسٹلیشن کے الزام میں پابندیوں کی دھمکی دے دی
    • * بحیرۂ احمر کشیدگی، تیل 100 ڈالر سے اوپر
    • درفشاں سلیم نے بھارت کے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
    • وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں انگریزی اور کیمسٹری پڑھانے کا اعلان۔
    • مون سون بارشوں سے پنجاب میں 21 افراد جاں بحق، 154 زخمی۔
    • اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یورپی معیار کا پہلا طیارہ مرمت مرکز قائم کیا جائے گا۔
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    5جولائی 1977کیوں؟

    By Daily Khabrainجولائی 11, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اعجاز الحق
    جنرل ضیاء الحق کے بہت سے رفقاء اس بات سے اتفاق کرتے ہیں بلکہ جنرل محمد شریف کی گواہی ہے کہ بھٹو صاحب نے ان اقدامات کا اعلان جنرل ضیاء الحق کے مشورے پر کیا تا کہ تحریک کا زور ٹوٹ سکے۔ جنرل ضیاء الحق کا حکومت کے لیے یہ مشورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ملک میں  حکومت کے ساتھ تھے اور چاہتے تھے کہ حالات درست ہو جائیں  اور اس کے لیے حکومت کو موقع بھی دے رہے تھے، مگر پیپلز پارٹی کی غیر مقبولیت اور عوام میں اس کے بارے میں غصہ بہت زیادہ بڑھ چکا تھااس غصہ کا جواز خود حکومت کے وزراء کی کارکردگی نے فراہم کیا تھا۔ انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک دراصل اب بھٹو مخالف تحریک بن چکی تھی۔
    20 اپریل کو حکومت نے خود ایک فیصلہ کیا کہ ملک کے اہم شہروں   میں مارشل لاء نافذ کرنے کا حکم دیا۔ حکومت سے کہا گیا کہ ایسانہ کیا جائے کیونکہ یہ پھر آگے ہی بڑھے گا واپس نہیں  آئے گابہر حال حکومت نے لاہور،کراچی اور حیدر آباد میں  مارشل لاء نافذ کرنے کا فیصلہ کیا اور چیئرمین JCSCجنرل محمد شریف کو اس کی ہدایت کر دی گئی وزیر اعظم نے ا ٹارنی جنرل کو فرمان ڈرافٹ کرنے کی ہدایت کی تا کہ صدر فضل الٰہی چوہدری سے اس پر دستخط کروا لیے جائیں  اس کے باوجود وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے کہا گیا کہ وہ ایسا نہ کریں اس سے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ تو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جواب دیا تو کیا پھر پورے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا جائے۔ جب مارشل لاء نافذ ہوا تو تین بریگیڈئر اشتیاق احمد خان،نیاز احمد اور محمد اشرف نے استعفیٰ دے دیا۔ حکومت نے اپوزیشن سے دوبارہ مذاکرات شروع کر دیئے جو کہ بد نیتی پر مبنی تھے۔ بھٹو صاحب کی غیر سنجید گی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک جل رہا تھا وہ مذاکرات چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے۔ بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ اپوزیشن کو مذاکرات میں الجھائے رکھو ایک دن آئے گا کہ اپوزیشن تھک جائے گی اور تحریک دم توڑ دے گی لیکن وہ یہ بات بھول گئے تھے کہ تحریک اپوزیشن کے ہاتھوں سے نکل کر عوام کے ہاتھوں میں  جا چکی تھی۔ملک کے گلی کوچوں میں  حکومت کے خلاف سخت احتجاج ہو رہا تھا۔لوگ جیل جانے سے بہت ڈرتے ہیں لیکن یہ ایسی تحریک بن چکی تھی کہ ملک کی اکثر مساجد سے روزانہ لوگ خود گرفتاریاں پیش کر تے تھے۔یہاں تک کے ملک کے جیل خانوں میں جگہ ختم ہو چکی تھی۔پولیس شہریوں کو گرفتار کر کے شہر سے باہر جنگلوں میں چھوڑ دیتی تھی،ملک کا نظام دھرم بھرم ہو چکا تھا۔ان حالات سے نمٹنے کے لیے جنرل ضیا ء الحق نے اپنے رفقاء کار سے مشاورت کی اور متفقہ طور پر یہ فیصلہ ہوا کہ ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا جائے اور 5 جولائی 1977ء کو اس پر عمل ہو گیا۔بھٹو حکومت ختم کر دی گئی اور ملک میں  از سر نو انتخابات کا اعلان کر دیا گیا۔اس مارشل لاء کو تمام مکتبہ فکر نے خوش آمدید کہا یہاں تک کہ اْس وقت کے صدر جناب فضل الٰہی چوہدری نے بھی اطمینان کا سانس لیا اور مارشل لاء حکومت کے ساتھ کام جاری رکھا نہ صرف کام جاری رکھا بلکہ متعدد مشورے بھی دیئے۔یہاں تک کہ اْس وقت کے چیف جسٹس یعقوب علی نے بھی تائید کی اور مشورہ دیا کہ آئین کو ختم نہ کیاجائے بلکہ معطل کر دیا جائے۔قومی پریس میں بھی مارشل لاء کے نفاذ کے فیصلے پر مختلف تبصرے ہوئے، ایک اخبار نے لکھا کہ گہری کھائی پر پل۔ نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبار کے اداریے کا عنوان یہ تھا ”مصالحانہ وقفہ“۔ ایک ہفت روزہ نے لکھا کہ ”اللہ تعالیٰ نے کروڑوں بے بس انسانوں کی دعا قبول کر لی“۔
    پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ مولانا مفتی محمود نے پیغام جاری کیا کہ ”ملک کے افق پر مصیبتوں اور ابتلاؤں کے بادل چھٹ گئے“۔ اصغر خان نے بی بی سی پربیان دیا کہ جنرل ضیاء الحق نے فوجی مداخلت کر کے ایک بر وقت اقدام کیا اور ملک کو آنے والی تباہی سے بچا لیا۔ جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے خیالات اور آراء کو مخلصانہ اور با معنی قراردیا۔بیگم نسیم ولی خان نے اسے امید کی کرن قراردیا۔ عالمی اخبارات نے بھی اداریے لکھے۔ڈیلی ٹیلی گراف نے لکھا کہ بھٹو کو خود اس واقعہ کا الزام قبول کر نا چاہیے تھا۔ ملک میں الیکشن کی تیاریاں شروع ہو گئیں نہ جانے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو کیا ہوا کہ اْنہوں نے اچانک نعرہ لگایا ”پہلے احتساب پھر انتخاب“ اور الیکشن ملتوی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔اس کالم میں گنجائش نہیں کہ بعد کے حالات کی تفصیل میں  جایا جا سکے کہ انشاء اللہ بقیہ کسی آئندہ کالم میں پیش کروں گا۔
    سارے پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہم آج اپنے سیاسی حالات کا بھی جائزہ لیں،حکومت اور اپوزیشن مل کر اس پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں آج بھی ماضی جیسے حالات ہیں حکومت اور اپوزیشن با ہم مل بیٹھ کر پارلیمانی آداب کے اندر رہ کر کام کرنے سے عاری دکھائی دے رہی ہے۔ابھی بجٹ سیشن میں پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران مکمل انتشار دیکھنے کو ملا ہے۔ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم حکمت کے ساتھ کام کریں اپنے ہمسائیہ ممالک کے حالات پر نظر رکھیں او رسوچیں کہ ہم پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ہمیں کیسے نمٹنا ہے،تب کہیں جا کر ہم ملک میں ایک مضبوط اسلامی جمہوری نظام لاسکتے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ یوں ہی جاری رہاتو حالات ہاتھ سے نکل بھی سکتے ہیں۔ اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو، آمین۔
    (مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ اورسابق وفاقی وزیر ہیں)
    ٭……٭……٭اعجاز الحق
    جنرل ضیاء الحق کے بہت سے رفقاء اس بات سے اتفاق کرتے ہیں بلکہ جنرل محمد شریف کی گواہی ہے کہ بھٹو صاحب نے ان اقدامات کا اعلان جنرل ضیاء الحق کے مشورے پر کیا تا کہ تحریک کا زور ٹوٹ سکے۔ جنرل ضیاء الحق کا حکومت کے لیے یہ مشورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ملک میں  حکومت کے ساتھ تھے اور چاہتے تھے کہ حالات درست ہو جائیں  اور اس کے لیے حکومت کو موقع بھی دے رہے تھے، مگر پیپلز پارٹی کی غیر مقبولیت اور عوام میں اس کے بارے میں غصہ بہت زیادہ بڑھ چکا تھااس غصہ کا جواز خود حکومت کے وزراء کی کارکردگی نے فراہم کیا تھا۔ انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک دراصل اب بھٹو مخالف تحریک بن چکی تھی۔
    20 اپریل کو حکومت نے خود ایک فیصلہ کیا کہ ملک کے اہم شہروں   میں مارشل لاء نافذ کرنے کا حکم دیا۔ حکومت سے کہا گیا کہ ایسانہ کیا جائے کیونکہ یہ پھر آگے ہی بڑھے گا واپس نہیں  آئے گابہر حال حکومت نے لاہور،کراچی اور حیدر آباد میں  مارشل لاء نافذ کرنے کا فیصلہ کیا اور چیئرمین JCSCجنرل محمد شریف کو اس کی ہدایت کر دی گئی وزیر اعظم نے ا ٹارنی جنرل کو فرمان ڈرافٹ کرنے کی ہدایت کی تا کہ صدر فضل الٰہی چوہدری سے اس پر دستخط کروا لیے جائیں  اس کے باوجود وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے کہا گیا کہ وہ ایسا نہ کریں اس سے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ تو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جواب دیا تو کیا پھر پورے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا جائے۔ جب مارشل لاء نافذ ہوا تو تین بریگیڈئر اشتیاق احمد خان،نیاز احمد اور محمد اشرف نے استعفیٰ دے دیا۔ حکومت نے اپوزیشن سے دوبارہ مذاکرات شروع کر دیئے جو کہ بد نیتی پر مبنی تھے۔ بھٹو صاحب کی غیر سنجید گی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک جل رہا تھا وہ مذاکرات چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے۔ بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ اپوزیشن کو مذاکرات میں الجھائے رکھو ایک دن آئے گا کہ اپوزیشن تھک جائے گی اور تحریک دم توڑ دے گی لیکن وہ یہ بات بھول گئے تھے کہ تحریک اپوزیشن کے ہاتھوں سے نکل کر عوام کے ہاتھوں میں  جا چکی تھی۔ملک کے گلی کوچوں میں  حکومت کے خلاف سخت احتجاج ہو رہا تھا۔لوگ جیل جانے سے بہت ڈرتے ہیں لیکن یہ ایسی تحریک بن چکی تھی کہ ملک کی اکثر مساجد سے روزانہ لوگ خود گرفتاریاں پیش کر تے تھے۔یہاں تک کے ملک کے جیل خانوں میں جگہ ختم ہو چکی تھی۔پولیس شہریوں کو گرفتار کر کے شہر سے باہر جنگلوں میں چھوڑ دیتی تھی،ملک کا نظام دھرم بھرم ہو چکا تھا۔ان حالات سے نمٹنے کے لیے جنرل ضیا ء الحق نے اپنے رفقاء کار سے مشاورت کی اور متفقہ طور پر یہ فیصلہ ہوا کہ ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا جائے اور 5 جولائی 1977ء کو اس پر عمل ہو گیا۔بھٹو حکومت ختم کر دی گئی اور ملک میں  از سر نو انتخابات کا اعلان کر دیا گیا۔اس مارشل لاء کو تمام مکتبہ فکر نے خوش آمدید کہا یہاں تک کہ اْس وقت کے صدر جناب فضل الٰہی چوہدری نے بھی اطمینان کا سانس لیا اور مارشل لاء حکومت کے ساتھ کام جاری رکھا نہ صرف کام جاری رکھا بلکہ متعدد مشورے بھی دیئے۔یہاں تک کہ اْس وقت کے چیف جسٹس یعقوب علی نے بھی تائید کی اور مشورہ دیا کہ آئین کو ختم نہ کیاجائے بلکہ معطل کر دیا جائے۔قومی پریس میں بھی مارشل لاء کے نفاذ کے فیصلے پر مختلف تبصرے ہوئے، ایک اخبار نے لکھا کہ گہری کھائی پر پل۔ نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبار کے اداریے کا عنوان یہ تھا ”مصالحانہ وقفہ“۔ ایک ہفت روزہ نے لکھا کہ ”اللہ تعالیٰ نے کروڑوں بے بس انسانوں کی دعا قبول کر لی“۔
    پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ مولانا مفتی محمود نے پیغام جاری کیا کہ ”ملک کے افق پر مصیبتوں اور ابتلاؤں کے بادل چھٹ گئے“۔ اصغر خان نے بی بی سی پربیان دیا کہ جنرل ضیاء الحق نے فوجی مداخلت کر کے ایک بر وقت اقدام کیا اور ملک کو آنے والی تباہی سے بچا لیا۔ جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے خیالات اور آراء کو مخلصانہ اور با معنی قراردیا۔بیگم نسیم ولی خان نے اسے امید کی کرن قراردیا۔ عالمی اخبارات نے بھی اداریے لکھے۔ڈیلی ٹیلی گراف نے لکھا کہ بھٹو کو خود اس واقعہ کا الزام قبول کر نا چاہیے تھا۔ ملک میں الیکشن کی تیاریاں شروع ہو گئیں نہ جانے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو کیا ہوا کہ اْنہوں نے اچانک نعرہ لگایا ”پہلے احتساب پھر انتخاب“ اور الیکشن ملتوی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔اس کالم میں گنجائش نہیں کہ بعد کے حالات کی تفصیل میں  جایا جا سکے کہ انشاء اللہ بقیہ کسی آئندہ کالم میں پیش کروں گا۔
    سارے پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہم آج اپنے سیاسی حالات کا بھی جائزہ لیں،حکومت اور اپوزیشن مل کر اس پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں آج بھی ماضی جیسے حالات ہیں حکومت اور اپوزیشن با ہم مل بیٹھ کر پارلیمانی آداب کے اندر رہ کر کام کرنے سے عاری دکھائی دے رہی ہے۔ابھی بجٹ سیشن میں پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران مکمل انتشار دیکھنے کو ملا ہے۔ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم حکمت کے ساتھ کام کریں اپنے ہمسائیہ ممالک کے حالات پر نظر رکھیں او رسوچیں کہ ہم پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ہمیں کیسے نمٹنا ہے،تب کہیں جا کر ہم ملک میں ایک مضبوط اسلامی جمہوری نظام لاسکتے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ یوں ہی جاری رہاتو حالات ہاتھ سے نکل بھی سکتے ہیں۔ اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو، آمین۔
    (مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ اورسابق وفاقی وزیر ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.