Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں 3-5 سے شکست، ایونٹ سے باہر
    • انگلینڈ، پاک لنکا ون ڈے ٹرائی سیریز میں شرکت کیلئے تیار
    • برازیل کے فٹبال آئیکن رابرٹو کارلوس کے اسلام قبول کرنے کی اطلاعات
    • پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی 24 ستمبر تک بڑھا دی
    • علاقائی کشیدگی میںا ضافہ ، یواے ای نے ایران سے اقتصادی تعلقات محدود کر دیے
    • راولپنڈی میں مسلسل بارش کےباعث نالہ لئی بپھرگیا،نشیبی علاقوں میں پانی جمع
    • عمران خان کی ہسپتال منتقلی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کیلئے وارننگ ہے:حامد میر
    • چین کی بڑی خلائی کامیابی، زمین پر راکٹ کی پہلی کامیاب واپسی
    • یو اے ای میں 2 میزائلوں کی موجودگی کا انکشاف، ایران کا حملے سے انکار
    • کینیڈا کو بڑاریلیف، ٹرمپ نے 50 فیصد ٹیرف 3 دن کے لیے مؤخر کردیا
    • قنیطرہ میں اسرائیلی فورسز کا گھروں پر دھاوا، 2 افراد گرفتار
    • سینیٹر عابد شیر علی دوسری بار رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔
    • سینیٹر عابد شیر علی دوسری بار رشتہ ازدواج میں بندھ گئے
    • ڈیوڈ وارنر کو شراب پی کر گاڑی چلانے پر سزا، بریتھالائزر لاک نصب کرنے کا حکم
    • غزہ سٹی کی بندرگاہ پر اسرائیلی فضائی حملہ، 5 افراد جاں بحق
    • بارسلونا نے مانچسٹر سٹی کے اسٹار روڈری سے معاہدہ کرلیا
    • فرانس کا دو ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ
    • ای ایس پی این کے بانی بل راسموسن 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
    • گوگل نے پاکستان میں باضابطہ طور پر اپنا نیا دفتر کھول دیا۔
    • بانی پی ٹی آئی کی صحت پر قید اور تنہائی نے گہرا اثر ڈالا ، میڈیکل رپورٹس ما ہر ڈاکٹروں کے ساتھ دیکھی اور تفصیلی بات کی ہے، سابق صدرعارف علوی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    اردو ادب میں سیاسی و سماجی مزاحمت

    By Daily Khabrainجولائی 18, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    میم سین بٹ
    کرونا وباء شروع ہونے کے بعد سے حلقہ ارباب ذوق لاہورکے ہفتہ وارتنقیدی اجلاس مسلسل آن لائن ہورہے ہیں حالانکہ پاک ٹی ہاؤس کھل چکا ہے تاہم آن لائن اجلاس سے نقاد دانشوروں کویہ سہولت حاصل ہوچکی ہے کہ وہ گھر بیٹھے اس میں شریک ہوسکتے ہیں بلکہ پہلے تو حلقے کی نشست میں حاضری کیلئے لاہور میں موجودگی بھی ضروری ہوتی تھی اب دوسرے شہروں بلکہ غالباََ دوسرے ممالک سے بھی دانشور حلقہ ارباب ذوق لاہور کی آن لائن نشست میں شریک ہو سکتے ہیں تاہم بہت سے پرانے ارکان آن لائن اجلاس میں شریک نہیں ہو پاتے جبکہ رکنیت نہ رکھنے والے لاہوراوردوسرے شہروں میں مقیم بہت سے دانشور ہفتہ وار نشست میں شریک ہوتے رہتے ہیں۔
    حلقہ ارباب ذوق کی حالیہ ہفتہ وار آن لائن نشست ”اردو ادب میں سیاسی وسماجی مزاحمت“ کے عنوان سے کراچی میں مقیم دانشورسیدکاشف رضا کی زیرصدارت منعقد ہوئی جو اگر صرف اردو ادب اورآزادی کے بعد تک محدود نہ رکھی جاتی تو ہم مزاحمت کے حوالے سے پنجابی شعراء شاہ حسین، بلھے شاہ اور استاد دامن وغیرہ کا حوالہ بھی دے سکتے تھے،اس حوالے سے اہم بات یہ تھی کہ محرک بحث پنجابی زبان کے ادیب اورحلقہ ارباب ذوق لاہورکے سابق سیکرٹری زاہد حسن تھے جنہوں نے اپنے ابتدائی مضمون کے اختتام پرعجیب سوال اٹھادیا کہ جودانشورکل تک آمریت کے حامی رہے تھے وہ اب آمریت کے خلاف کیوں ہیں؟ان کے اعتراض نے ہمیں شبے میں مبتلاکردیا کہ یا تو وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ والوں کے سیاسی مخالف ہیں یا پھرخودبھی اسٹیبلشمنٹ کے حامی بن چکے ہیں آمریت کی حمایت چھوڑکر اس کی مخالفت کرنا تو خود یہ ظاہرکرتا ہے کہ ان دانشوروں کاضمیر بالآخر جاگ گیا ہے اور کاشف رضا کے بقول وہ راہ راست پر آگئے ہیں ویسے بھی توبہ کا دروازہ تو ہروقت کھلا رہتا ہے شاید محرک بحث یہ چاہتے تھے کہ ان دانشوروں کا ضمیر ہمیشہ سویا ہی رہتا اوروہ آخری سانس تک اسٹیبلشمنٹ کی مسلسل حمایت ہی کرتے رہتے۔
    تفنن برطرف محمدعباس نے محرک بحث کے ساتھ اختلاف کیا کہ کوئی ادیب اپنا رویہ کسی وقت بھی بدل سکتا ہے،مضمون مبہم سا اخباری کالم لگتا ہے جو نہ سوچ کر لکھا گیا اور نہ لکھنے کے بعد اس پرکوئی نظر ثانی کرنے کی زحمت کی گئی تاہم محمد عباس کے برعکس مظہر سلیم مجوکہ نے زاہد حسن سے اتفاق کرتے ہوئے قراردیاکہ اب مزاحمت نہیں مفاہمت کا چلن ہے، محمد نعیم کا خیال تھا کہ مضمون کے عنوانات ادب،سماج اورسیاست تھے لیکن خود محرک بحث کی جانب سے خاص رخ دینے سے بحث میں سیاست کا پلڑا بھاری ہوگیا،شہزاد نیئر نے پیغام دیا آج کے دورمیں عالمی اقتصادی استعمار اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کے موضوعات پر بھی ضرور بات ہونی چاہیے،شہناز حیدرکا موقف تھا کہ ہم سب کسی ایک اصول کی بجائے نظریہ ضرورت کے حامی ہوچکے ہیں انہوں نے مزاحمت کے حوالے سے اپنی نظم بھی پیش کی جس کے دو اشعار تھے۔۔۔۔
    دیکھ کر چنار وادی کے
    شہرجلتے دکھائی دیتے ہیں
    سوگئے ہیں ضمیر لوگوں کے
    چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں
    قیصر نذیر خاور نے درست تجزیہ کیا کہ سماج کی باگ ڈور جب ڈیپ سٹیٹ کے ہاتھ میں ہو تو وہ سماج کو موم کی ناک بنا دیتا ہے اسٹیبلشمنٹ نے سماجی مزاحمت دھیرے دھیرے یوں ختم کردی ہے کہ لوگ بے حس ہوتے چلے گئے ہیں،قاضی عابد نے بات کو آگے بڑھایا کہ اسٹیبلشمنٹ سے جڑے ہوئے ادیب ہمیشہ سے موجودرہے ہیں اور یہ سلسلہ پہلے فوجی حکمران کے دور سے شروع ہوگیا تھا،ڈاکٹر ضیا ء الحسن نے نشاندہی کہ ہمارے اردو ادب میں مزاحمتی رویئے جنرل ضیا کے مارشل لاء کے بعد پیدا ہوئے اوروہ اسے ہی مزاحمتی ادب قراردیتے ہیں۔ مزاحمت کا آغاز پہلے فوجی حکمران جنرل ایوب خان کے دور سے ہی کرنا چاہیے تھا،قاضی ظفراقبال نے لقمہ دیا کہ مزاحمت کیلئے دل گردے اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر انسان میں موجود نہیں ہوتا۔شہزاد نیئر نے وضاحت کی کہ پہلی فوجی آمریت میں طلبہ کی تحریک سیاسی وسماجی مزاحمت ہی تھی،نعیم بیگ کا موقف تھا کہ اردو ادب میں سیاسی مزاحمت تو بہت کم لوگوں کے حصے میں آئی جب عملی سیاسی مزاحمت ہوئی تو ملک ہی دولخت ہوگیا تھا۔
    آخر میں سیدکاشف رضا نے صدارتی کلمات میں بحث کو سمیٹتے ہوئے قراردیا کہ وہ ادیب جنہوں نے مزاحمت اوراپنے آدرش کی راہ میں قید و بندکی صعوبتیں برداشتیں کیں وہ ان دیگر ادیبوں سے زیادہ تکریم کے لائق ہیں جو اپنے گھر میں بیٹھ کر احتجاج کرتے رہے کسی بھی دورکا ادب صرف چند ناموں کے حوالے سے معروف نہیں ہونا چاہیے،فیض اور جالب جیسے معروف بڑے ناموں کے ساتھ ہمیں فارغ بخاری، شہرت بخاری، ظہیرکاشمیری،اعجاز راہی، احمدداؤد، احمد جاوید، سلیم شاہد،ضیا ساجد،ستارطاہر کوبھی نہیں بھولنا چاہیے، کچھ ادیب ایک آمریت کیخلاف تو مزاحمت کرتے ہیں مگر دوسری آمریت کے خلاف ان کا جوش وجذبہ ٹھنڈا پڑجاتا ہے ا آج کی بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ ادب مزاحمت ہو،کثیر الجہتی ہو اورکئی سطحوں پر ہو تبھی ہم زندہ اور پائندہ ادب تخلیق کرسکتے ہیں۔
    (کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.