Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اچھی خبر آئے گی: وزیرپیٹرولیم
    • تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات پر تیار ہوگئی
    • بلوچستان بجٹ 2026-27: تعلیم، صحت اور امن وامان ترجیح
    • رشمیکا مندانا نے اپنی خوبصورتی کا راز بتادیا
    • ہر کوکا کولا آپ کی زندگی کے 12 منٹ کم کر سکتی ہے
    • میں نے ایک ماہ قبل سگریٹ نوشی چھوڑ دی تھی،” اطالوی وزیراعظم
    • اپنی ہر جھری پر فخر ہے، ہر ایک میری زندگی کی کہانی سناتی ہے۔” — کیٹ ونسلیٹ
    • آسٹریلیا نے پہلے ٹی 20 میچ میں بنگلہ دیش کو شکست دے دی
    • پنجاب میں ریسٹورنٹس پر کارڈ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز
    • ٹرمپ محفوظ، وائٹ ہاؤس پر ڈرون اور اسنائپر حملے کی سازش ناکام، 5 منصوبہ ساز گرفتار
    • سعودی عرب میں پاکستانی لائسنس قبول کیے جانے کا امکان
    • کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟
    • امریکا ایران معاہدہ ، روسی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کو عالمی امن کا ضامن قرار دے دیا
    • کینسر کے علاج میں مصنوعی ذہانت امید کی نئی کرن
    • سونے کی قیمت میں کمی ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
    • 16 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ متعارف، رواں ہفتے سے اجرا شروع
    • ڈونلڈ ٹرمپ کی سالگرہ پر ایران نے تاریخی ڈیل کیسے کی؟
    • بکریوں کی انسانوں کے حوالے سے حیرت انگیز صلاحیت کا انکشاف
    • این ڈی ایم اے کا شمالی علاقوں میں سیلاب اور گلوف الرٹ جاری قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک کے شمالی علاقوں میں ممکنہ سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کے خطرات کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق گلگت بلتستان، چترال، دیر، سوات، کوہستان اور دیگر پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے اور متوقع بارشوں کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور مقامی آبادی کو محتاط رہنے، ندی نالوں اور گلیشیائی علاقوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں کو موسمی صورتحال سے باخبر رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
    • سندھ کا 3,500 ارب روپے سے زائد کا بجٹ آج پیش ہو گا، تنخواہوں، پنشن اور کم از کم اجرت میں اضافے کی تجویز
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    مجھے انصاف نہیں ملا

    By Daily Khabrainاکتوبر 30, 2021
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    خیر محمد بدھ
    محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی وفات سے قبل ایک خط میں یہ شکایت کی تھی کہ انہیں اپنی قوم سے انصاف نہیں ملا۔ اس طرح گزشتہ روز الجزیرہ ٹی وی چینل پر صبح کی نشریات میں شیخوپورہ سے مظہر فاروق نامی شخص کا انٹرویو نشر ہواجس میں اس نے بتایا کہ وہ 21 سال موت کی کال کوٹھڑی میں بند رہا ہے۔ ہر روز آپ کچہری میں جائیں تو بچے، بوڑھے، جوان سب ہی یہ کہتے ہوئے ملیں گے کہ وہ سالہاسال سے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں لیکن ابھی تک حصول انصاف میں انہیں کامیابی نہ ملی ہے۔ لیبرکوٹ این آئی آر سی میں جا کر دیکھیں مزدور شکایت کریں گے کہ وہ عرصہ دراز سے انصاف کے حصول کیلئے چکر لگا رہے ہیں۔ میرے اپنے ضلع میں ایک سرمایہ دار نے فیکٹری کو غیر قانونی طور پر بند کر دیاحالانکہ لیبر قانون کے مطابق فیکٹری کو مکمل بند کرنے کیلئے لیبر کورٹ کی اجازت درکار ہوتی ہے لیکن اس طاقتور شخص نے بلااجازت کارخانہ بند کرکے سینکڑوں مزدوروں کو بیروزگار کر دیا اور آج تین سال ہو گئے ہیں ابھی تک کوئی فیصلہ نہ ہوا ہے۔ آپ ریونیو کی عدالتوں میں جائیں زمین کے تنازع پر قبضہ اور تقسیم کے معاملے پر وراثت اور حد برداری کے مسئلے پر لاکھوں لوگ مارے مارے پھرتے ہیں۔گزشتہ دنوں مظفرگڑھ میں ریونیو عدالت میں ایک بزرگ نے رو کر کہا کہ وہ ریٹائرڈ سکول ٹیچر ہے کافی عرصے سے ناجائز قبضہ چھڑوانے کیلئے مقدمہ بازی کا سامنا کر رہا ہے لیکن اسے انصاف نہیں مل رہا، یہ کہہ کروہ عدالت میں گرگیا اور انتقال کر گیا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ جب ڈاکٹر عبدالقدیر جیسی بین الاقوامی شخصیات بھی انصاف نہ ملنے کا شکوہ کریں تو پھر نیچے کیا صورتحال ہوگی۔
    انصاف نہ ملنے کا یہ مسئلہ صرف عدالتوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہمارے سماج میں سبھی شراکت دار کسی نہ کسی طرح سے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ مریض یہ شکایت کرتے ہیں کہ ڈاکٹر سرکاری ہسپتال میں علاج کرنے کے بجائے اپنے ذاتی کلینک پر ریفرکرتے ہیں اور ادویات بھی بازار سے منگواتے ہیں۔ والدین شکوہ کرتے ہیں کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بہت زیادہ فیس لی جاتی ہے سہولیات کم ہیں جبکہ محکمہ تعلیم سے شکایت کی جائے تو پروا نہیں کرتے بلکہ ان لوگوں سے ملے ہوئے ہیں۔ہر جگہ شہری شکایت کرتے ہیں کہ پینے کا صاف پانی نہیں ملتا جو واٹر فلٹریشن پلانٹ لگے ہوئے ہیں وہاں فلٹر تبدیل نہیں ہوتے۔ پانی میں آسینک زیادہ ہوتا ہے۔ جب میونسپل اداروں سے بات کی جائے تو پرواہ نہیں کرتے۔ اس طرح نالی گلیوں کی صفائی اور سیوریج کیلئے جب شکایت کی جائے تو وہ کوئی داد رسی نہیں ہوتی۔
    وہ ادارے جن کے پاس کروڑوں روپے کے فنڈز ہیں، وسائل ہیں، گاڑیاں ہیں، ایئرکنڈیشن دفاتر ہیں،ٹھاٹ بھاٹ سے رہتے ہیں انکے کام اور خدمات Service Delivery کی یہ حالت ہے کہ لوگوں کو انصاف نہیں ملتا۔ اگر ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں، سول عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو دیکھا جائے تو ہر ضلع میں ہزاروں کی تعداد میں سرکاری محکمہ جات ریو نیو، بلڈنگ، آبپاشی، لوکل کونسل وغیرہ کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں۔ کیا یہ ان اداروں کی نااہلی نہیں ہے کہ جو کام انکا ہے وہ نہیں کرتے اور لوگوں کو عدالتوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اس طرح عدالتوں میں موجود درخواستوں میں اکثریت درخواستیں سرکاری محکمہ جات سے متعلق ہوتیں ہیں جن میں پولیس کا محکمہ سرفہرست ہے۔ جب لوگوں کو مقامی سطح پر انصاف نہیں ملتا تو پھر اعلیٰ عدالتوں میں اپنے حق کے حصول کیلئے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست دیتے ہیں۔ جس سے عدالتوں پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور اخراجات بھی آتے ہیں۔
    چند روز پہلے عدالت عالیہ میں ایک کام کے سلسلے میں جانا ہوا تو دوران سماعت ایک کیس میں یہ پتہ چلا کہ پولیس نے چالان پراسیکیوشن برانچ میں جمع کرادیا ہے اور ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود یہ چالان متعلقہ عدالت میں نہ بھیجا گیا ہے۔ ہماری عادت بن چکی ہے کہ ہم اپنی غلطی کا الزام دوسروں پر لگاتے ہیں اور خود احتسابی کا نام ہی نہیں لیتے۔ یہاں سے اخلاقیات کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اخلاقی طور پر دیوالیہ شخص اپنی غلطی کا الزام دوسروں پر لگاتا ہے۔ ہمارے معاشرے سے انصاف ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ گھر وں اور فیملی میں انصاف نہیں ہے۔ اولاد اپنے والدین کی نافرمانی پر تل گئی ہے۔یہاں تک کہ اطاعت والدین کا قانون بنانا نافذ ہوا ہے۔خاوند اپنی بیوی اور بچوں سے انصاف نہیں کرتے اس لیے فیملی کورٹس میں مقدمات کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔
    زمیندار اپنے مزارع اور مستاجر سے انصاف نہیں کرتا، سرمایہ دار اپنے مزدور کو اس کا حق نہیں دیتا۔ ملاوٹ، کم تولنا، دو نمبری عام ہے۔ مصنوعی مہنگائی کر کے صارفین کا استحصال ہورہا ہے۔ سرکاری محکمہ جات،پولیس، ریونیو، لوکل گورنمنٹ میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے نا انصافی ہے واپڈا، بجلی،سوئی گیس اپنے لائن لاسز صارفین پر ڈال کر ناانصافی کر رہے ہیں۔ سیاست دان عوام کے مسائل اور شکایت پر توجہ دینے کے بجائے ایک دوسرے پر گالم گلوچ کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ اپنے ووٹرز سے ناانصافی کر رہے ہیں۔ووٹ لینے کے بعد انہیں بھول جاتے ہیں اور میرٹ،قانون اور سماجی انصاف کے بجائے اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج تک ممبران پارلیمنٹ نے رشوت، بدعنوانی اور ناانصافی پر سخت قانون نہ بنایا ہے حالانکہ ان کا کام ہی قانون سازی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب گھر کا کوئی ایک آدمی غلط ہو تو گھر والے ا سے سمجھاتے ہیں لیکن جب سارے گھر والے ہی غلط ہوں تو پھر انہیں کون سمجھائے گا۔ اس وقت صورتحال بہت تشویشناک ہے، اخلاقی اقدار ختم ہوتی جارہی ہیں۔ جب کسی معاشرے سے اخلاقیات ختم ہو جائیں تو پھر انصاف کا حصول بہت مشکل ہو جاتا ہے اور ناانصافی سے زیادہ کوئی اور ظلم نہیں ہے۔ ہمیں اپنے اخلاقی نظام کو تبدیل کرنے کی سخت ضرورت ہے ور نہ نانصافی کا یہ سلسلہ بڑھتا جائے گا۔
    (کالم نگار سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

    فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

    عہدہ ختم تو اہمیت ختم

    تازہ ترین

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اچھی خبر آئے گی: وزیرپیٹرولیم

    تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات پر تیار ہوگئی

    بلوچستان بجٹ 2026-27: تعلیم، صحت اور امن وامان ترجیح

    سونے کی قیمت میں کمی ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

    16 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ متعارف، رواں ہفتے سے اجرا شروع

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.