کراچی: (ویب ڈیسک) کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے تبادلےمیں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حملہ شام 7 بجکر 10 منٹ پر کیا گیا، کراچی پولیس آفس میں 8 سے 10 حملہ آوروں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں، پولیس آفس کے قریب شدید فائرنگ اور دھماکے بھی سنے گئے ہیں اور ہیڈکوارٹرز کی لائٹس اور دروازے بند کردیے گئے ہیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور پولیس لائنز سے داخل ہوئے اور دہشت گرد کے پی او کے پارکنگ ایریا میں بھی موجود ہیں۔
حکام نے بتایا کہ رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری طلب کرلی گئی ہے اور پولیس نفری نے پولیس آفس کو چاروں طرف سےگھیرے میں لے لیا ہے اور شارع فیصل کے دونوں ٹریکس ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کے پی او کی تیسری منزل کو بھی کلیئر کرا لیا گیا ہے اور عملے کے 20 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔
کے پی او کے دفاتر سے ریسکیو کیے گئے 20 افراد کو گراؤنڈ فلور پر پہنچا دیا گیا ہے۔
ترجمان اسپیشل سکیورٹی یونٹ کے مطابق کمانڈوز کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے اور عمارت کا چوتھا فلور بھی کلیئر کرالیا گیا ہے، دہشت گرد عمارت کی چھت پر موجود ہیں، ایس ایس یو کے اسنائپرز اطراف میں تعینات ہیں۔
کراچی پولیس آفس کی چھت پر دہشتگرد نےخودکو دھماکے سے اڑا لیا
پولیس حکام کے مطابق جب سکیورٹی اہلکار گھیرا تنگ کرتے ہوئے عمارت کی بالائی منزل کی طرف پہنچے تو کراچی پولیس آفس کی چھت پر دہشتگرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 3 دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ دہشت گرد پوری تیاری سے آئے تھے، دہشت گردوں نے 2 سے 3 اطراف سےحملہ کیا، عمارت میں 40 سے 50 لوگ موجود ہیں، حملہ آوروں سے سخت مقابلہ کر رہے ہیں، شہر بھر کی نفری موجود ہے، رینجرز اور فوج بھی ہے، دہشت گردوں کی حتمی تعداد نہیں معلوم، عمارت کے اندر لوگ محصور ہیں اور آپریشن جاری ہے۔
جناح اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک 10 زخمی اور دو لاشیں لائی جاچکی ہیں، زخمیوں میں رینجرز اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ایک زخمی ریسکیو اہلکار کو 2 گولیاں لگی ہیں، ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔






































