تازہ تر ین

معاشرہ،سیاست ،انصا ف اورسوالات

میں آج کل بیسویں صدی کے اٹلی کے حالات ،واقعات اوروہاں مافیاز کے رحم وکرم پرکرپشن میں لتھڑے معاشرے اور حکومتوں کواسٹڈی کررہاہوں۔اٹلی کے اس وقت کے حالات پاکستان کے موجودہ معاشی اور سیاسی حالات سے کافی ملتے جلتے لگ رہے ہیں۔ہم یہاں جس سسلین مافیاکی کہانیاں سنتے، ناول پڑھتے اورگاڈفادر جیسی فلمیں دیکھتے ہیں ان مافیازکا تعلق اٹلی سے ہی ہے۔آپ اگر معاشی ابتری اور کرپشن بارے پڑھنا شروع کریں تو ہررپورٹ ،ہر کہانی آپ کو کھینچ کرسسلی جزیرے کی طرف لے جاتی ہے یہاں سے مافیاز نے جنم لیا اورپھر پورا سسٹم ان مافیازکے اشاروں اور منشا کے مطابق چلا۔پاکستان سے مشابہہ حالات اور اٹلی کی ان مافیازپر فتح اور کرپشن میں کمی ایک الگ اور وسیع موضوع ہے اس پر الگ سے لکھوں گا۔
میں جب سسلی جزیرے میں پروان چڑھنے والے سسلین مافیا بارے پڑھ رہاہوں تو مجھے بار بار جسٹس آصف سعید کھوسہ یاد آرہے ہیں۔جس آصف سعید کھوسہ صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کریمینل لا کے بڑے ہی ماہر جج تھے۔وہ ایک سماعت میں ہی برسوں سے سماعت کے منتظر مقدمات کے فیصلے سنادیا کرتے تھے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کچھ وقت کے لیے جیلوں میں قید ہائی کورٹس سے سزا یافتہ مجرموں کی اپیلوں کو نمٹانے کا ٹاسک جسٹس آصف سعید کھوسہ کو سونپا تو انہوں نے تیزی سے ایسے مقدمات نمٹانا شروع کیے۔ اس سلسلے کو اس وقت بریک سی لگ گئی جب جسٹس کھوسہ نے بیس سال پہلے کے ایک قتل کیس کا فیصلہ سنایا۔ اپنے اس فیصلے میں جسٹس کھوسہ نے قتل کے مجرم کو ناکافی شواہد کی بناپر بری کرنے کا حکم دیا۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے پرجب مجرم کی رہائی کی روبکار جیل پہنچی تو پتہ چلا کہ جس مجرم کو سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے سے بری کیا ہے وہ توپانچ سال پہلے جیل میں ہی انتقال کرگیا ہے۔اس خبر نے پاکستان کے نظام عدل کو جھنجوڑ ڈالا۔سپریم کورٹ میں زیرالتوااپیلوں کے اعدادوشمار سامنے آنے لگے تو پتہ چلا کہ جیلوں میں ہزاروں سزایافتہ مجرم دس ،دس پندرہ ،پندرہ سال پہلے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کرکے مقدمات کی سماعتوں کے انتظار میں گل سڑ رہے ہیں لیکن پاکستان کے اعلیٰ ترین انصاف کے ادارے کے پاس ان اپیلوں کی سماعت کا ہی وقت نہیں ہے ۔بلکہ سپریم کورٹ کے لیے سیاسی معاملات پر از خود نوٹسز،سیاسی مقدمات کے لیے فرمائشی رِٹوں اور پارلیمان کے بنائے قوانین کو مٹانے کی جستجو کے علاوہ اور کچھ دیکھنے سننے کے لیے نہ وقت ہے اور نہ ہی چاہ اور نہ ہی راہ۔
میری خواہش ہے کہ میں جناب جسٹس کھوسہ صاحب کا انٹرویو کروں ،ان سے کچھ سوال پوچھوں۔میں نے اس کی کوشش بھی کی لیکن جسٹس صاحب کسی بھی آن یا آف دا ریکارڈ انٹرویو یا گفتگو کے لیے راضی نہیں ہیں۔میں جسٹس کھوسہ صاحب سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ جب وہ پانامہ کا فیصلہ لکھ رہے تھے تو ان کے ذہن میں ایسا کیا تھا کہ انہوںنے فیصلے کا آغازسسلین مافیااور گاڈ فادر جیسے الفاظ سے کرنا ہی مناسب سمجھا ۔حالانکہ وہ ایک ایسے مقدمے کا فیصلہ تحریرکررہے تھے جس میں انہوں نے نوازشریف کو سزا دینے کے لیے ان کا مافیا ہونایا کرپشن ثابت نہیں کی بلکہ ایک اقامہ رکھنے ،بیٹے سے تنخواہ پانے اور پھر اس غیر وصول شدہ تنخواہ کو وصول شدہ ثابت کرنے کے لیے تمام مروجہ ڈکشنریاں چھوڑ کر بلیک لانامی ڈکشنری کا سہارا لیاتھا۔میں ان سے سوال کرنا چاہتاہوں کہ جو مقدمات انہوں نے احتساب عدالت کو ٹرائل کے لیے بھجوائے تھے ان پر سپریم کورٹ کا ایک مانیٹرنگ جج کیوں اور کس کے کہنے پر لگایا تھااور پھر مریم نوازجب اس کیس میں بری ہوگئی ہیں تو اب جسٹس کھوسہ اس فیصلے کو کیسے دیکھتے ہیں۔میں جسٹس کھوسہ صاحب سے ایک سوال اور کرنا چاہتا ہوں کہ جب جسٹس انورظہیر جمالی صاحب نے پانامہ کی درخواست کو فضول کہہ کر سماعت کے قابل ہی نہیں سمجھا تھا تو آپ نے سڑکوں پر احتجاج کرنے والے عمران خان صاحب کو سپریم کورٹ میں آنے کی دعوت آئین اور قانون کی کس شق کے تحت دی تھی کہ وہ احتجاج چھوڑ کرسپریم کورٹ آگئے اور اپنے سیاسی مخالف کی تاحیات نااہلی کی ٹرافی لے کر واپس آئے۔
میں عزت مآب جناب ثاقب نثار صاحب سے بھی بہت سے سوال کرنا چاہتا ہوں ۔ میں سابق چیف جسٹس سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر وہ کیا وجہ تھی کہ آپ جناب نے الیکشن سے پہلے عدالت چھوڑکرسرکاری اور غیر سرکاری اداروں پر چھاپے مارنے کس قانون کے تحت نکل کھڑے ہوئے تھے۔ آپ نے پرائیویٹ اسپتالوں سے لے کر میڈیکل کالجزکی فیسوں تک کے سو موٹو لیے لیکن کچھ ہی دیر بعد سب کچھ بغیر فیصلوں کے افراتفری میں کیوں چھوڑ دیا۔میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس شاہ رخ جتوئی کو انہوں نے سزاکے باوجود جیل کے بجائے اسپتال میں پکڑااور شدید غصے اور حقارت میں اس کو فوری جیل میں ڈلوادیا تھا جب ان کے برادر ججز نے اسی شاہ رخ جتوئی کو سپریم کورٹ سے بری کردیا تو انکو کیسا محسوس ہواتھا۔میں جسٹس ثاقب نثار سے یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس شوکت صدیقی کی ایک تقریر پر سوموٹو کس اختیار اورکس قانون کے تحت لیا اور پھر سپریم جوڈیشل کونسل میں پہلے سے موجود بہت سی شکایات کوپیچھے دھکیل کر اس سو موٹو پر فوری کونسل کا اجلاس بلانے اورایک ہائی کورٹ کے جج کو اس بے رحمی سے نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ کس کی خواہش تھی۔اورپھر جسٹس شوکت صدیقی کی اس فیصلے کے خلاف اپیل پر کیوں سماعت نہیں کی ۔جسٹس شوکت صدیقی صاحب ایک ہائی کورٹ کے جج اور قانونی ماہر ہونے کے باوجودآج تک سپریم کورٹ سے اپنے لیے انصاف نہیں لے سکے اوراسی اپیل پر سماعت کے انتظارمیں ہی ملازمت کی مدت پوری ہوگئی۔ان کی اپیل کو سپریم کورٹ میں پڑے پانچ سال ہوگئے ۔آخری سماعت بارہ جون دوہزار بائیس کو ہوئی تھی ۔سماعت کرنے والے بندیال صاحب بھی اپنے برادر جج کا فیصلہ کیے بغیر ریٹائرہوگئے لیکن انہوں نے نیب ترامیم کا فیصلہ کرنا ضروری خیال کیا۔اس سلسلے میں سوال نہیں موجودہ چیف جسٹس جناب قاضی فائز عیسی ٰ سے درخواست ہے آپ جسٹس شوکت صاحب کو انصاف فراہم کرکے پیغام دیں کہ اب سپریم کورٹ پسند نا پسند کی بنیاد پرنہیں بلکہ اصولوں کی پاسدار ہے۔جسٹس ثاقب نثار صاحب سے اور بہت سے سوال ہیں لیکن مختصرکرتے ہوئے ایک آخری سوال یہ کرنا چاہتاہوں کہ آپ نے ایڈن ہاوسنگ سوسائٹی کے فراڈ کا کیس سنا تھا۔ تیرہ ہزار خاندان اس اسکینڈل کے متاثرین ہیں ۔آپ نے ان متاثرین کو انصاف دلانے کی بجائے درمیان میں کیوں چھوڑ دیا تھا اورجب اس اسکینڈل کے مرکزی ملزم سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے داماد کو انٹرپول نے دبئی سے پکڑلیا تھا تو لاہور کی عدالت نے اس ملزم کو دبئی میں بیٹھے ہی ضمانت دے دی تھی۔کیا آپ کا حق نہیں بنتا تھا کہ ہاتھ میں آئے مجرم کو ایک جج کے رشتہ دارہونے کی وجہ سے چھوڑ نے پرعدالت کی سرزنش کرتے اور اس پر ازخود نوٹس لیتے۔آپ چلے گئے لیکن ایڈن کے متاثرین تیرہ ہزار خاندان لٹی دولت کی واپسی کا انتظار کررہے ہیں۔
میں عزت مآب جسٹس گلزارصاحب سے بھی سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کراچی بدامنی کا کیس سنا اور کیا کیا ریمارکس نہیں دیے ۔آپ جناب نے نالوں پر تجاوزات کے مقدمات سنے اورسرکلر ریلوے چلانے کے لیے زور لگاتے رہے لیکن کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ آج بھی پینے کا پانی ہے آپ نے اس کے حل کے لیے کچھ کیوں نہیں کیا۔اورجسٹس گلزارصاحب سے آخری سوال کہ آپ نے نسلہ ٹاورگراکرلوگوں کو بے گھر کیاتو کیا اس ایک ٹاورگرانے سے کراچی تجاوزات سے پاک ہوگیا؟سوال تو عزت مآب جسٹس عمر عطا بندیال صاحب سے بھی بہت ہیں لیکن کالم کا دامن تنگ ہے توگُڈتوسی یو!!


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain