امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے پیر کو کہا کہ امریکی بحریہ کا کوئی بحری جہاز نشانہ نہیں بنا۔ قبل ازیں ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے امریکی جنگی جہاز کو واپس پلٹنے پر مجبور کر دیا۔
ایران کی بحریہ نے کہا کہ اس نے “تیز اور فیصلہ کن انتباہ” جاری کرتے ہوئے “امریکی صیہونی” جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز کے علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔
ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے کہا کہ آبنائے کے جنوبی داخلی راستے پر جاسک بندرگاہ کے قریب جنگی بحری جہاز پر دو میزائل گرے جہاں ایرانی بحریہ کا فوجی مرکز ہے لیکن ایک سینیئر امریکی اہلکار نے فوراً اس اطلاع کی تردید کی، میڈیا ادارے ایکزیاس کے بارک راوید نے کہا۔
رائٹرز آزادانہ طور پر ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کر سکا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث خلیج میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کی “رہنمائی” کرے گا۔ اس کے بعد ایران نے پیر کے روز امریکی افواج کو تزویری اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ میں داخل نہ ہونے کی تنبیہ کی تھی۔
ٹرمپ نے بحری جہازوں اور ان کے عملے کی مدد کرنے کے منصوبے کی بعض تفصیلات بتائیں جو اہم آبی گذرگاہ تک محدود ہیں اور تنازعہ کے دو ماہ سے زیادہ عرصے سے خوراک اور دیگر سامان کی قلت کا شکار ہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کو اپنی ٹروتھ سوشل سائٹ پر ایک پوسٹ میں کہا، “ہم نے ان ممالک کو بتا دیا ہے کہ ہم ان کے جہازوں کو ان محدود آبی گذرگاہوں سے بحفاظت نکلنے کے لیے رہنمائی کریں گے تاکہ وہ آزادانہ طور پر سفر اور کام جاری رکھ سکیں۔”
اس کے جواب میں ایران کی متحد کمان نے تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز سے کہا کہ وہ کسی بھی ایسی حرکت سے گریز کریں جس کے بارے میں ایران کی فوج سے ہم آہنگی نہ ہو۔
“ہم نے بارہا کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت ہمارے ہاتھ میں ہے اور بحری جہازوں کے محفوظ راستے کو مسلح افواج کے ساتھ مربوط اور ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے،” فورسز کی متحدہ کمان کے سربراہ علی عبداللٰہی نے بیان میں کہا۔
نیز کہا، “ہم خبردار کرتے ہیں کہ کوئی بھی غیر ملکی مسلح افواج خاص طور پر جارح امریکی فوج اگر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتی ہے تو اس پر حملہ کیا جائے گا۔”
امریکی مرکزی کمان جو تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کیے ہوئے ہے، نے کہا کہ وہ 15,000 فوجی اہلکاروں اور 100 سے زیادہ برّی اور بحری طیاروں کے علاوہ جنگی جہازوں اور ڈرونز کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مدد کرے گی۔
سینٹ کام کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک بیان میں کہا، “علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے اس دفاعی مشن میں ہماری حمایت ضروری ہے کیونکہ ہم بحری ناکہ بندی بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔”




































