نیروبی : کینیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے پر شدید مظاہروں میں سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں 4 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق کینیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور ملک گیر ٹرانسپورٹ ہڑتال کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
کینیا کے وزیرِ داخلہ کپچمبا مرکو مین کے مطابق، ہڑتال اور احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے الزام میں اب تک 348 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ کینیا کے دارالحکومت نیروبی سمیت ملک کے تمام بڑے تجارتی شہروں اور جنوبی شہر مومباسا میں پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہے، بس آپریٹرز کی ہڑتال کی وجہ سے لاکھوں ملازمین اور اسکول جانے والے بچے شدید مشکلات کا شکار ہیں اور لوگ میلوں پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
نیروبی کے مرکزی کاروباری علاقوں کی طرف جانے والی سڑکیں بالکل سنسان نظر آئیں، جہاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور سڑکوں پر ٹائر جلا کر راستے بلاک کر دیے۔
ٹرانسپورٹ یونینز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ بے پناہ اضافہ فوری طور پر واپس لے۔
یاد رہے کہ کینیا میں پچھلے مہینے ایندھن کی قیمتوں میں 24.2 فیصد اضافے کے بعد، گزشتہ ہفتے مزید 23.5 فیصد کا تاریخی اضافہ کیا گیا ہے، ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے ملک میں خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس نے پہلے سے معاشی بدحالی کا شکار کینیا کی عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
کینیا کی وزارتِ توانائی اور پیٹرولیم نے قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ مشکل فیصلہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ اور ایران کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی بین الاقوامی صورتحال کے پیشِ نظر مجبوری میں کیا گیا ہے۔
کپچمبا مرکو مین نے ٹیلی ویژن پر پریس کانفرنس کے دوران ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں لاء اینڈ آرڈر کو ہر صورت برقرار رکھے گی۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے کینیا میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے حکومت کے لیے شدید دردِ سر بنے ہوئے ہیں، اور پولیس کے وحشیانہ کریک ڈاؤن اور درجنوں ہلاکتوں کے باوجود عوامی غصہ کم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔






































