چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان بیجنگ میں اہم ملاقات ہوئی ہے، جس کے دوران چینی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور خصوصاً امریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے اہم ترین بیانات دیے ہیں۔
-
مذاکرات کی اہمیت: چینی صدر شی جن پنگ نے روسی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ “امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس وقت خصوصی اور انتہائی اہمیت کے حامل ہیں”۔
-
جنگ بندی پر زور: انہوں نے زور دیا کہ خطے میں جاری لڑائی اور جنگ کو ہر صورت روکنا ہوگا، کیونکہ مزید کشیدگی بڑھانا کسی بھی طور دانشمندی نہیں ہے۔
-
عالمی توانائی کا استحکام: چینی صدر کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام سے ہی عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چین کا دورہ کیا اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔
-
امریکی صدر کا دعویٰ: صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چینی صدر نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ چین، ایران کو کسی قسم کا فوجی سامان یا ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔ تاہم، چینی حکام کی جانب سے اس دعوے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی۔
-
دونوں عالمی رہنماؤں (امریکا اور چین) نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ عالمی معیشت کو بچانے کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور وہاں سے تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو بحال کرنا ناگزیر ہے۔
-
مذاکرات کے لیے ڈیڈ لائن: صدر ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران پر مزید حملوں کا ارادہ رکھتے تھے لیکن فی الحال انہوں نے اسے مؤخر کیا ہے اور ایران کو مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کے لیے چند دنوں کا وقت دیا ہے۔






































