تہران (22 مئی 2026): ایران نے اپنا مؤقف واضح کیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی سرکاری چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی، فی الحال ہمارا فوکس جنگ کے خاتمے پر ہے جبکہ لبنان کی جنگ بندی ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے، ہم این پی ٹی رکن ہیں اور یورینیم کی افزودگی ہمارا قانونی حق ہے، مذاکرات میں امریکا نے ایٹمی پروگرام پر بات کرنے کی کوشش کی تو انہیں ناکامی ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ امریکا سے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، امریکا اور ایران میں اختلافات انتہائی زیادہ اور گہرے ہیں، گزشتہ دو سے تین ماہ میں واشنگٹن ایسی چیزوں کا مرتکب ہوا جس سے خلیج بڑھی، یہ نہیں کہہ سکتے کہ چند بار کے آنے جانے یا چند ہفتوں کے مذاکرات سے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارت کاری کے عمل کیلیے ابھی مزید وقت لگے گا، دونوں فریقین ہر مذاکراتی موقع سے اپنا مؤقف بیان کرنے کیلیے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ترجمان ایرانی مذاکراتی ٹیم نے گفتگو میں یہ بھی بتایا کہ آج قطر سے بھی ایک مذاکراتی وفد تہران پہنچا لیکن ہمارے مذاکرات کا اصل ثالث پاکستان ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز کے امریکی محاصرے کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں۔





































