سینئر صحافی حامد میر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لیے سیاسی دھچکا اور وارننگ قرار دیا ہے۔
حامد میر کے مطابق عمران خان کی اسپتال منتقلی کو ان دونوں جماعتوں کے لیے “پہلی خوراک” کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سیاسی صورتحال پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی آئندہ سیاسی معاملات، خصوصاً نئے صوبوں کے قیام سے متعلق مطالبات پر اتفاق نہیں کرتیں تو ان پر مزید سیاسی دباؤ آ سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی رائے دی کہ اگر عمران خان کو مستقبل میں رہائی ملتی ہے تو اس کے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ حامد میر کا سیاسی تجزیہ ہے، کسی آئندہ انتخابی نتیجے یا سیاسی پیش رفت کی تصدیق شدہ پیش گوئی نہیں۔

