اسلام آباد (حبہ عباسی سے)پٹرول کی قیمت میں اضافے نے ایک بار پھر مہنگائی کے نئے طوفان کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومت
جب قیمتیں کم کرتی ہے تو چند روپے کی معمولی کمی کی جاتی ہے، لیکن اضافہ کرنا ہو تو ایک ہی فیصلے میں عوام پر بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ پہلے ہی بجلی، گیس، آٹا، سبزی، دالیں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے پریشان شہری اب پٹرول مہنگا ہونے کے بعد مزید فکر مند دکھائی دے رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ٹرانسپورٹ سے لے کر اشیائے خورونوش کی ترسیل تک تقریباً ہر شعبہ ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔ جیسے ہی پیٹرول مہنگا ہوتا ہے، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے، جس کا اثر سبزی منڈیوں، بازاروں اور عام صارف تک پہنچتا ہے۔ یوں ایک فیصلے کا بوجھ کروڑوں شہریوں کی جیب پر منتقل ہو جاتا ہے۔شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر کب تک مہنگائی کا سارا بوجھ عام آدمی اٹھاتا رہے گا؟ تنخواہیں اور آمدن اپنی جگہ کھڑی ہیں لیکن اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوامی ریلیف کے دعووں کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ ہر بار پیٹرول مہنگا ہونے کے بعد زندگی کا پہیہ مزید مشکل ہو جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا پیٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف ایک عددی تبدیلی ہے یا مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا آغاز؟ ماضی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ ایندھن مہنگا ہوتے ہی روزمرہ استعمال کی اشیا بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں عوام کو خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کی نئی لہر ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گی جبکہ حکومت کے معاشی استحکام کے دعوے بھی عوامی کسوٹی پر پرکھے جائیں گے۔
