لاہور (سٹی رپورٹر) ننکانہ صاحب پیر بازار کی نیلامی میں مبینہ بے ضابطگیاں،47 لاکھ سے زائد کی رقم وصول کرنے میں رکاوٹ بن گئے’ ٹھیکیدار کے افسران پر سنگین الزامات، افسران جان بوجھ کر ورک آڈر جاری نہیں کر رہے۔ میونسپل کمیٹی واربرٹن میں مبینہ انتظامی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک اور معاملہ سامنے آگیا۔47 لاکھ25 ہزار روپے سے زائد میں نیلام ہونے والے پیر بازار کے ٹھیکے کی مکمل رقم سرکاری خزانے میں جمع کروانے اور ورک آرڈر جاری کرنے کے معاملے میں مبینہ طور پر ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے جس کے باعث میونسپل کمیٹی کو لاکھوں روپے کے مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ سال سستا پیر بازار تقریبا33 لاکھ روپے میں نیلام ہوا تھا جبکہ رواں سال شعیب نامی ٹھیکیدار نے نیلامی میں 47 لاکھ25 ہزار روپے کی سب سے زیادہ بولی دے کر ٹھیکہ حاصل کیا جس سے میونسپل کمیٹی واربرٹن کو گزشتہ سال کی نسبت نمایاں اضافی آمدن حاصل ہونا تھی تاہم ٹھیکیدار شعیب کا الزام ہے کہ نیلامی کو تقریبا تین ماہ گزرنے کے باوجود چیف آفیسر میونسپل کمیٹی واربرٹن اور میونسپل آفیسر فنانس راحت کی جانب سے اسے ورک آرڈر جاری نہیں کیا جارہا حالانکہ اس کی سکیورٹی رقم پہلے ہی میونسپل کمیٹی کے اکائونٹ میں جمع ہے۔ ٹھیکیدار کے مطابق متعلقہ افسران کی ہدایت پر وہ بقایا رقم لے کر بھی متعدد مرتبہ میونسپل کمیٹی کے دفتر پہنچا، تاہم مبینہ طور پر ہر بار اسے مختلف حیلوں بہانوں سے واپس بھیج دیا گیا۔ ٹھیکیدار نے دعویٰ کیا کہ اس پر اپنے مبینہ کارِ خاص افراد کو ٹھیکے میں حصہ دار بنانے کے لیے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ شعیب کے بقول فنانس آفیسر راحت نے مبینہ طور پر اسے یہ بھی کہا کہ اگر وہ ان کے نامزد افراد کو ٹھیکے میں شریک کر لے تو ٹھیکہ کم قیمت پر بھی الاٹ کیا جاسکتا ہے۔ ٹھیکیدار نے الزام عائد کیا کہ اسے مبینہ طور پر دبائو اور بلیک میلنگ کے ذریعے سرکاری نیلامی کے عمل میں غیر متعلقہ افراد کو شریک کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اہم امر یہ ہے کہ اگر47 لاکھ25 ہزار روپے کی کامیاب بولی کے باوجود ٹھیکیدار کو بروقت ورک آرڈر جاری نہیں کیا جاتا تو نہ صرف میونسپل کمیٹی کی متوقع آمدن متاثر ہوگی بلکہ پہلے سے مالی مشکلات کا شکار میونسپل کمیٹی واربرٹن کو مزید مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب سرکاری نیلامی میں سب سے زیادہ بولی دینے والے ٹھیکیدار کو مبینہ طور پر اضافی شرائط یا غیر متعلقہ افراد کو شریک کرنے کے لیے دبائو ڈالنے کے الزامات بھی معاملے کی شفافیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ٹھیکیدار شعیب نے وزیراعلی پنجاب، ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف اور غیر جانب دارانہ انکوائری کرائی جائے، نیلامی کا مکمل ریکارڈ، سکیورٹی رقم، ورک آرڈر، متعلقہ افسران کی فائل موومنٹ اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا جائزہ لیا جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
