نئی دہلی (این این آئی) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں وکلا نے ٹریفک چالانوں کو نمٹانے سے متعلق قانون میں ترامیم کے خلاف آج پیر کو ایک روزہ ہڑتال کرتے ہوئے کہاکہ ترمیم شدہ قانون ظالمانہ اورجابرانہ ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دہلی کی تمام ضلعی عدالتوں کی بار ایسوسی ایشنز کی رابطہ کمیٹی نے وکلا سے 21 ستمبر کوہڑتال کی اپیل کی تھی۔ وکلا کی تنظیم نے ان ترامیم کے خلاف علامتی احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالتی نگرانی اور انصاف تک رسائی کو کمزور کرتی ہیں۔کمیٹی نے بالخصوص متنازعہ چالانوں پر فیصلہ کرنے کے عدالتی مجسٹریٹس کے اختیارات سب ڈویژنل مجسٹریٹس، ایگزیکٹو مجسٹریٹس اور دیگر محکمانہ افسران کو منتقل کرنے پر اعتراض کیا ہے۔کمیٹی نے محکمہ خوراک ، تحصیلداروں اور ضلعی ٹرانسپورٹ و انفورسمنٹ دفاتر سمیت مختلف محکموں کے افسران کو چالانوں کے ازالے کے لیے نامزد کیے جانے کی بھی مخالفت کی ہے۔ایک اور اہم اعتراض یہ ہے کہ چالان کے خلاف کسی شخص کی درخواست مسترد ہونے کی صورت میں اسے مزید عدالتی چارہ جوئی سے قبل چالان کی رقم کا 50 فیصد جمع کرانا ہوگا۔کمیٹی نے اس شرط کو بالخصوص عام شہریوں کے لیے عدالتی چارہ جوئی میں غیر معقول رکاوٹ قرار دیا ہے۔ترمیم شدہ رول 167(5)کے تحت چالان جاری کیے جانے والے شخص کو 45 دن کے اندر مقررہ رقم ادا کرنا یا مقررہ پورٹل کے ذریعے چالان کو چیلنج کرنا ہوگا، بصورت دیگر رول 167(6)کے تحت چالان کو منظور شدہ تصور کیا جائے گا۔ رول 167(9) کے مطابق چالان کے خلاف درخواست مسترد ہونے کی صورت میں متعلقہ شخص کو مجاز عدالت سے رجوع کرنے سے پہلے چالان کی رقم کا 50 فیصد جمع کرانا ہوگا۔وکلا کی تنظیم نے کہا کہ ان تبدیلیوں سے انتظامی اور عدالتی اختیارات کی علیحدگی اور شہریوں کے اس حق کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ متنازعہ چالانوں کا فیصلہ ایک مجاز عدالتی فورم کے ذریعے کیا جائے۔کمیٹی نے کہا کہ اس نے دہلی حکومت کے ساتھ یہ معاملہ متعدد مرتبہ اٹھایا ہے، جن میں 27اگست اور 7ستمبر کو پیش کی گئی درخواستیں بھی شامل ہیں، تاہم اس کے خدشات تاحال دور نہیں کیے گئے۔
٭٭٭٭٭٭
