اسلام آباد (عادل عباسی)لانگ مارچ سے قبل گرفتاریوں کی دوڑ؟ عام شہریوں اور صحافیوں تک پولیس کا کریک ڈان، گرفتاریوں کے طریقہ کار پر سنگین سوالات پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی میں گرفتاریوں کا سلسلہ تیز ہوگیا، تاہم پولیس کی کارروائیوں میں عام شہریوں اور صحافیوں کے نام سامنے آنے کے بعد پولیس کے گرفتاریوں کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شہر اقتدار کی پولیس مبینہ طور پر گرفتاریوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ایسے افراد کو بھی حراست میں لے رہی ہے جن کی سیاسی وابستگی یا احتجاج میں شرکت ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔تازہ معاملے میں اسلام آباد کے ریڑھی بانوں کے صدر رانا شہباز کو فروری میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماں اور کارکنوں کے خلاف احتجاج کے تناظر میں تھانہ سیکرٹریٹ میں درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے انہیں دو روز قبل آئی ٹین سے گرفتار کیا اور پیر کے روز انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا۔تفتیشی افسر نے رانا شہباز سمیت دیگر ملزمان کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیجنے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے 14 روز کے لیے جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے شناخت پریڈ مکمل ہونے کے بعد ملزمان کو 5 اکتوبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔تاہم معاملہ صرف ایک گرفتاری تک محدود نہیں، حالیہ دنوں میں پولیس کی جانب سے عام شہریوں اور صحافیوں کو احتجاجی مقدمات یا سیاسی وابستگی کے شبے میں گرفتار کیے جانے کے واقعات نے بھی تشویش پیدا کردی ہے۔رواں ماہ راولپنڈی میں صحافی شفیق لغاری کی گرفتاری کا معاملہ بھی سامنے آیا، جنہیں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کارکن سمجھ کر حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں صحافتی تنظیموں کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے اور احتجاج کے بعد انہیں رہا کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس واقعے نے پولیس کی جانب سے گرفتاری سے قبل شناخت اور تصدیق کے طریقہ کار پر سوالات کھڑے کر دیے۔صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی صحافی کو محض شناخت یا غلط فہمی کی بنیاد پر سیاسی کارکن سمجھ کر گرفتار کیا جائے تو یہ نہ صرف آزادی صحافت بلکہ شہری آزادیوں کے حوالے سے بھی سنجیدہ معاملہ ہے۔ پولیس کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی شخص کی گرفتاری سے قبل اس کی شناخت، مقدمے میں کردار اور دستیاب شواہد کی مکمل تصدیق کی جائے۔دوسری جانب 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا پولیس صرف ان افراد کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جن کے خلاف مقدمات میں ٹھوس شواہد موجود ہیں یا لانگ مارچ سے قبل گرفتاریوں کی تعداد بڑھا کر سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پولیس کی کارروائیوں پر تنقید کرنے والے حلقوں کا مقف ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے احتجاج کے ممکنہ ردعمل میں عام شہریوں، ریڑھی بانوں یا صحافیوں کو گرفتار کرنا پولیس کی کارروائیوں کی شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر کسی شخص کا سیاسی احتجاج سے براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا تو محض شبہ کی بنیاد پر اسے گرفتار کیے جانے کی صورت میں پولیس کو اس گرفتاری کی واضح وجوہات اور قانونی بنیاد عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔ادھر رانا شہباز کے قریبی عزیز کا کہنا ہے کہ ان کا پاکستان تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ریڑھی بانوں کے مسائل کے حوالے سے سرگرم رہے ہیں۔ ان کے مطابق رانا شہباز کا کسی سیاسی سرگرمی سے تعلق نہیں تھا۔حالیہ گرفتاریوں کے تناظر میں شہریوں اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے پولیس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سیاسی احتجاج کے مقدمات میں گرفتاریوں کے دوران شناخت اور شواہد کی مکمل تصدیق کی جائے تاکہ کسی بے گناہ شہری یا صحافی کو محض غلط شناخت یا شبے کی بنیاد پر گرفتار نہ کیا جائے۔
بریکنگ نیوز
- پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں کی مقامی تیاری کی جانب اہم پیشرفت
- جنرل ہسپتال، سروسز ہسپتال کے مستقل پرنسپل کی تعیناتی، انٹرویوز رواں ہفتے متوقع
- بیٹی کے قتل کا جرم ثابت، باپ کو سزائے موت،داماد کو 2 سال قید
- پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں روایتی سرنجز کے استعمال پر پابندی
- برائلر گوشت کی قیمت میں 8روپے کلو کمی کر دی گئی
- ڈے کیئر سینٹرز کو قانونی دائرے میں لانیکا فیصلہ، قانون سازی کی یقین دہانی
- ڈے کیئر سینٹرز کو قانونی دائرے میں لانیکا فیصلہ، قانون سازی کی یقین دہانی
- پنجاب میں چینی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، شافع حسین
- چوریاں ڈاکے تھم نہ سکے شہری نقدی زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء سے محروم
- لاہور ہائیکورٹ ‘پی ٹی آئی رہنما میاں حماد اظہر سے فیملی اور وکلاء ملاقات کیلئے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ
- لاہور ہائیکورٹ’ پراپرٹی ٹربیونل سے متعلق درخواست غیرضروری قرار دیتے مسترد
- لاہور چیمبر انتخابات کا پولنگ وینیو تبدیل کرنیکی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری
- مانگا منڈی پولیس کی بروقت کارروائی، بچے سے بدفعلی کی کوشش کرنیوالا استاد گرفتار
- لاہور میں رواں سال موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ
- پنجاب کے مختلف اضلاع میں سکولوں سے باہر بچوں کی شرح میں مزید اضافہ
- 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب بھر میں 1388 ٹریفک حادثات 794 افراد شدید زخمی
- ایمبا پے کا نائیکی سے 20 سالہ تعلق ختم آن برانڈ سے نیا معاہدہ
- فیصل آباد، مبینہ غیر قانونی پٹرول فروشوں نے 2بھائیوں کو آگ لگا دی
- ایم ایل ومنصوبے کیلئے 10 سال انتظار کے بعد متبادل فنانسنگ کی تلاش
- پی سی بی محمدرضوان کی میڈیا ٹاک کرنے کی اجازت مسترد
