ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا بلکہ ایک معاہدے کے ذریعے تنازع حل کرنے کیلئے تیار ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ کا انتخاب نہیں کرتا اور وہ مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنے کیلئے اب بھی تیار ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پہلے ایک مفاہمت طے پائی تھی اور تہران اس بنیاد پر دوبارہ آگے بڑھنے کیلئے تیار ہے۔ ان کے مطابق جون میں طے پانے والی مفاہمت کا مقصد 60 روز کے اندر حتمی امن معاہدہ کرنا تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق اختلافات کے باعث یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ ختم کرنے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں تو ایک دوسرے کو قتل کرنے کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
پزشکیان نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کہا کہ تہران بین الاقوامی قوانین اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کیلئے تیار ہے۔
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ حوثی اپنے فیصلوں کے خود ذمہ دار ہیں اور ایران انہیں براہِ راست ہدایات نہیں دیتا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز بند کرنے کے دعوے کو بھی مسترد کیا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کیلئے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

