(این این آئی)غیر قانونی طور پربھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیر میں معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قابض حکام کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں کسی ”فرضی مقابلے”میں قتل کیا جا سکتا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، سونم وانگچک نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی جان کو لاحق خطرات کے بارے میں دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اور وہ کسی بھی نتیجے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہاکہ انہیں جیل میں قید کیاگیااور اب یہ خدشہ ہے کہ مجھے کہیں جعلی مقابلے میں قتل کر دیا جائے گا۔وانگچک نے گزشتہ برس لیہہ میں ہونے والے تشدد پر بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفے کا مطالبہ کیا، جس میں چار افراد مارے گئے تھے۔انہوں نے جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر رپورٹ جاری نہ کی گئی تو پولیس فائرنگ کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد ”عوامی ٹریبونل”قائم کیا جائے گا۔گزشتہ برس کی تحریک کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی سیاسی ذمہ داری وزیر داخلہ پر ڈالتے ہوئے وانگچوک نے زور دیا کہ اس واقعے کی زمہ داری طے ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ لداخ میں جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری امیت شاہ کو لینی ہوگی ،وانگچک نے کہا کہ بھارتی فوج نے مقامی نوجوانوں کے خلاف AK-47 سمیت خودکار ہتھیار استعمال کیے، جنہیں بعد میں "ملک دشمن” قرار دیا گیا۔کانگریس رہنما راہل گاندھی کی جانب سے نئی دہلی کے جنتا منتر پر طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر امیت شاہ کے استعفے کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے وانگچک نے اس مطالبے کی حمایت کی لیکن لداخ کی صورتحال پر راہل گاندھی کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ لداخ کیلئے انصاف صرف یونین ٹیریٹری کے عوام کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے ملک کی ذمہ داری ہے۔دریں اثنا، 24 ستمبر کے تشدد کوایک سال مکمل ہونے کے موقع پر لیہہ اور لداخ کے دیگر علاقوں میں مکمل شٹ ڈان رہا۔ لیہہ اور کارگل میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے، جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت کم رہی جس سے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
سونم وانگ چک
