پشاور، اسلام آباد ( نیوز ایجنسیاں) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بند کمروں کے فیصلوں کو نہیں مانتا، ضرورت پی تو بغاوت کروں گا۔ جبکہ گورنر خیبرپختونخوافیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر امیر مقام میں اتفاق ہوا ہے کہ سہیل آفریدی کا مزید وزیراعلیٰ رہنا صوبے کیلئے نقصان دہ ہے۔ادھر صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر نے کہا ہے کہ وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کی ہمت ہی نہیں ہے،کے پی میں گورنرراج یا ایمرجنسی لگائی تو عوام بھرپور ردعمل دے گی۔اس کے علاوہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہاہے کہ پی ٹی آئی کا صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔جبکہ پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اور سابق وزیر شوکت یوسفزئی نے پارٹی قائدین کو موجودہ حالات کے پیش نظر لانگ مارچ فوری طور پر ملتوی کرنے اور ریاست سے ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کا مشورہ دیدیا ہے۔علاوہ ازیں سہیل آفریدی کے ہوتے ہوئے نئے وزیراعلیٰ کی دوڑ شروع ہوگئی ہے جس کیلئے پی ٹی آئی میں کئی گروپس متحرک ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کے حوالے سے بندکمروں کے فیصلے کسی صورت منظور نہیں ہیں، اپنی پالیسی منوانے کیلئے اگر ضرورت پڑی تو بغاوت کریں گے، 4اکتوبر کا مارچ ہر صورت ہوگا۔نجی ٹی وی کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے بی آر ٹی منصوبے میں پنک بسوں کو باضابطہ طور پر شامل کرلیا۔افتتاحی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ قوم کا پیسہ فضول خرچ نہیں کرینگے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صدر سے مال روڈ تک بی آر ٹی بس میں سفر کیا، وہاں سے دوسری بس میں سوار ہو کر تقریب کے مقام پر پہنچے۔ گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم عوامی لوگ ہیں، عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل اور مشکلات کا احساس ہوتا ہے، اگر یہ پروگرام سرکاری خرچ پر ہے تو یی خرچہ میں برداشت نہیں کرونگا بلکہ وزیر ٹرانسپورٹ کو اخراجات ادا کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جو عوامی منڈیٹ سے آتے ہیں وہ ہمیشہ عوام کی خدمت کرتے ہیں، عوامی مینڈیٹ والے اپنے لئے جہاز اور پرپل انٹریرر والی گاڑیاں نہیں خریدتے، 3دن کی کانفرنس کے لئے قوم کے چھ ارب روپے خرچ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کبھی ایسا کام نہیں کرینگے جس سے پاکستان کو خطرہ ہو، بھی یہ نہیں کہیں گے کہ ہمیں انڈیا سے نہیں باقی صوبوں سے خطرہ ہے، ہہ سال صوبے میں امن ترقی و خوشحالی کا سال ہوگا۔ جو لوگ بند کمروں کے فیصلے کرہے ہیں انہیں میز پر لاکر اپنی پالیسی نافذ کرکے دکھاؤں گا۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا نے کہا کہ تین مسخرے ٹی وی پر بیٹھ کر ہمارے 80 ہزار شہدا کی توہین کررہے ہیں، اس بار ہر وہ پالیسی تبدیل ہوگی جس سے یہ صوبہ لہو لہان ہوا، اگر ضرورت پڑی تو بغاوت کرینگے مگر ایسی پالیسی قبول نہیں کرینگے۔انہوں نے کہا کہ 4 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہوگا، یہ عہدے اور کرسی اس کے لئے معنی رکھتی ہے جس کے اپنے مفاد ہوں، ہم ڈر کر پیچھے ہٹنے والے نہیں، 4 اکتوبر کو ہر صورت مارچ کرینگے۔دریں اثناء وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی کارکنوں کو اہم پیغام جاری کر دیا۔سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر وزیراعلی خیبر پختونخوا نے 4 اکتوبر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کیا۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ آپ تیاری پکڑیں میں تیار ہوں۔قبل ازیں پشاور میں 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کا وزیراعلیٰ ہاؤس میں پارلیمانی پارٹی کا مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کی، جس میں ارکان صوبائی و قومی اسمبلی، وزرا، مشیر اور دیگر شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس آن لائن منعقد ہوا، بعض ارکان اسمبلی نے زوم کے ذریعے شرکت کی، جبکہ پارٹی عہدیدار بھی اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس میں 4 اکتوبر کو لانگ مارچ شروع کرنے یا ملتوی کرنے پر مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق وزیراعلی نے لانگ مارچ کی تیاریوں میں دلچسپی نہ لینے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری صفوں میں میر جعفر اور میر صادق بھی ہیں۔ ہم اسلام آباد فتح کرنے نہیں جارہے کہ وفاقی حکومت ہمارا راستہ روک رہی ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم دو ہاتھ اور دو پاں لے کر جائیں گے، غلیلیں اور لاٹھیاں لے کر جانے کے حوالے سے الزامات ہیں۔ 4 اکتوبر کو ہم نے پشاور سے روانہ ہونا ہے۔تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا، جبکہ ارکان اسمبلی کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز وزیراعلی نے مسترد کردی۔وزیراعلی سہیل آفریدی نے ارکان کو ہدایت کی کہ کارکنوں میں مایوسی نہ پھیلائی جائے، ہم نے 4 اکتوبر کو نکلنا ہے، 4 اکتوبر کے لیے تیاری پکڑیں، ہم نے پرامن لانگ مارچ کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق پارٹی عہدیداروں نے بھی لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار رکھنے کی تجویز دی۔ تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر نے ملک سے باہر موجود ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کو وطن واپسی کی ہدایت کردی۔جنید اکبر نے کہا کہ جو ایم پی ایز، ایم این ایز یا پارٹی قائدین 4 اکتوبر کو پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے، ان کا پاکستان تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہوگا، وہ اپنے لیے کوئی دوسری پارٹی بنالیں۔قبل ازیںچیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی گئی تو ہم بھرپور مزاحمت کریں گے، دہشت گردی کو بنیاد بنا کر گورنر راج نہیں لگ سکتا۔داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ 4 اکتوبر کو مارچ کی کال فی الوقت قائم ہے، آج جوائنٹ اپوزیشن کی صورت میں پی پی رہنماؤں سے ملے اور انھیں اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی، پیپلز پارٹی نے کہا کہ مشاورت کے بعد اے پی سی میں شرکت کے بارے میں آگاہ کریں گے، اے پی سی میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال پر بات ہو گی۔
ادھر گورنر خیبرپختونخوافیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر امیر مقام میں اتفاق ہوا ہے کہ سہیل آفریدی کا مزید وزیراعلی رہنا صوبے کیلئے نقصان دہ ہے۔ ذرائع کے مطابق گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر امیر مقام کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ ملاقات میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور دونوں رہنمائوں میں اتفاق ہوا کہ سہیل آفریدی کا مزید وزیراعلی رہنا صوبے کیلئے نقصان دہ ہے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی موجودگی کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے اندر ممکنہ تبدیلی اور نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے لابنگ شروع ہوگئی ہے،سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سمیت پارٹی کے ناراض ارکان کے گروپس بھی متحرک ہوگئے ہیں جبکہ ممکنہ تبدیلی کی صورت میں وزارت عالیہ کے لیے ناراض گروپ اپنا امیدوار لانے کے لیے بھی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔۔قبل ازیں صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر نے کہا ہے کہ وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کی ہمت ہی نہیں ہے،کے پی میں گورنرراج یا ایمرجنسی لگائی تو عوام بھرپور ردعمل دے گی۔ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ ہمیں خیبرپختونخوا کی حکومت کسی کی خواہش پر نہیں ملی، وفاقی حکومت میں پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کی ہمت ہی نہیں ہے، اگر ان کی ہمت ہوتی تو یہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ ہی نہیں بننے دیتے۔دریں اثناء پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اور سابق وزیر شوکت یوسفزئی نے پارٹی قائدین کو موجودہ حالات کے پیش نظر لانگ مارچ فوری طور پر ملتوی کرنے اور ریاست سے ٹکرا کے بجائے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے پارٹی قیادت کو ایک خط لکھا ہے ۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے تحریک انصاف کو حکومت اور ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ملک کو ممکنہ بیرونی خطرات اور دہشت گردی کا سامنا ہے، اس لیے پارٹی اپنے مطالبات سے دستبردار ہوئے بغیر احتجاج موخر کرے۔خط میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز تلاش کر رہی ہے ، افغانستان کی جانب سے ممکنہ حملے کو صوبے میں ایمرجنسی کے لیے جواز بنایا جا سکتا ہے۔ ادھر وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ احتجاج سے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے،مذاکرات کیلئے پی ٹی آئی کو متعدد بار مواقع فراہم کیے گئے، لیکن اس طرف سے کوئی مناسب جواب نہیں ملا، بانی پی ٹی آئی کی رہائی عدالتی معاملہ ہے، عدالت سے رجوع کرکے رہا کرا لیں،عمران خان کا طبی معائنہ مکمل ہو چکا، ان کی ہمشیرہ نے خود تصدیق کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی تمام تر لحاظ سے بالکل صحتمند اور تندرست ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نیاسلام آباد میں نیشنل فرانزک ایجنسی لیبارٹری کے دورے کے موقع پر تقریب سے خطا ب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ ملک کے سینئر ترین ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ نے کیا، جس میں یہ طے کرنا تھا کہ ان کی زندگی کو کوئی خطرہ تو لاحق نہیں، عمران خان کی ہمشیرہ جو خود اس میڈیکل بورڈ کے عمل کا حصہ تھیں، انہوں نے خود میڈیا پر آ کر کہا کہ بانی پی ٹی آئی تندرست اور صحتمند ہیں، اگر اب بھی کوئی قانونی کمی بیشی ہے تو وہ معاملہ عدالتوں نے دیکھنا ہے، اسلام آباد پر چڑھائی اور جلسے جلوسوں سے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔اعظم نذیر نے کہا کہ اسلام آباد پر بار بار چڑھائی کی گئی، محفوظ پاکستان کیلئے محفوظ دارالحکومت ضروری ہے، پی ٹی آئی کے ماضی کے دھرنوں سے سب واقف ہیں، آپ نے دیکھا کہ مئی 2023 میں کیا ہوا اور نومبر 2024 میں کیا ہوا؟ یہ بتا دیں جو ماضی میں ہوا کیا وہ ٹھیک تھا؟۔ وزیر قانون نے عام شہریوں سے سوال کیا کہ شہری خود بتائیں کہ تحریکِ انصاف نے جس طرح بار بار دارالحکومت اور پنجاب پر چڑھائی کی، کیا وہ طریقہ درست تھا؟ اگر تحریکِ انصاف کا یہ رویہ ٹھیک ہے تو پھر حکومت کو بھی پرے بیٹھ جانا چاہیے، ملک میں ایک آئینی، قانونی اور عدالتی میکنزم موجود ہے، پارلیمنٹ میں قانون سازی پر سیر حاصل بحث ہوتی ہے، حکومت سنجیدہ گفتگو اور مذاکرات سے کبھی منکر نہیں رہی لیکن قیدیوں کی رہائی کے فیصلے عدالتوں سے ہوتے ہیں، شہروں کو یرغمال بنا کر اپنے مطالبات نہیں منوائے جا سکتے۔انہوں نے کہا پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔وکلا ڈگریوں اور بار کونسل کے الیکشنز کے تنازع پر بات کرتے ہوئے وزیرِ قانون نے سخت موقف اپنایا اور کہا کہ بار کونسلز کے الیکشنز اور وکلا کا نظام ان کا اپنا اندرونی معاملہ ہے، کسی سیاسی رہنما یا حکومت کو اس پر فتوی دینے کا کوئی حق حاصل نہیں، رہی بات ڈگریوں کی تو 2020 میں میرے سمیت تمام وکلا کی ڈگریاں پاکستان بار کونسل سے تصدیق شدہ ہیں اور ان کا تمام ریکارڈ موجود ہے، جن لوگوں کے پاس ادھوری معلومات ہیں وہ جا کر ریکارڈ دیکھ لیں اور جنہوں نے غلط الزامات لگائے ہیں وہ یا تو معافی مانگیں یا پھر قانون کے مطابق جرمانہ ادا کریں۔
سہیل آفریدی
