لاس اینجلس (این این آئی)سائنس دانوں نے پہلی بار اے آئی سے بنا وائرس انسان میں داخل کر دیا ہے ۔عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسانی مریض میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ وائرس داخل کرنے کے تجربے کا مقصد ایسے انفیکشنز کا علاج تلاش کرنا ہے جن پر اینٹی بائیوٹکس اب اثر نہیں کرتیں۔امریکی ریاست کیلی فورنیا میں قائم اے آئی سٹارٹ اپ ریڈیکل نیومیرکس نے بتایا کہ ایک سنگین بیکٹیریا کے انفیکشن میں مبتلا مریض پر یہ تجرباتی علاج کیا گیا، جس میں اس کے اے آئی ماڈل اومنی ون کی مدد سے تیار کردہ وائرس شامل تھے۔یہ ماڈل بیکٹیریوفیجز یا مختصرا فیز تیار کرتا ہے۔ یہ ایسے وائرس ہیں جو انسانی خلیوں کو نشانہ بنائے بغیر بیکٹیریا کو متاثر کر کے انہیں ختم کر دیتے ہیں۔ڈاکٹر پہلے ہی سنگین بیکٹیریل انفیکشنز کے علاج کے لیے فیز تھراپی کو تجرباتی طور پر استعمال کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے مریضوں میں جن کے علاج کے دیگر امکانات محدود رہ جاتے ہیں۔عام طور پر ڈاکٹر ایسے وائرس تلاش کرتے ہیں جو مریض میں انفیکشن پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو ختم کر سکیں لیکن اومنی ون نے اس سے مختلف طریقہ اختیار کیا۔اس نے ایک وائرس کے حصے کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا تاکہ وہ انفیکشن کا سبب بننے والے مخصوص بیکٹیریا کی قسم کو زیادہ بہتر انداز میں پہچان کر اس پر حملہ کر سکے۔