لاہور(کورٹ رپورٹر) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے لاپتہ مقدس بی بی کی بازیابی کی درخواست پر آئی جی پنجاب راو عبد الکریم کو خواتین کی بازیابی سے متعلق تفصیلی پیش رفت رپورٹ سمیت 11 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، ڈی آئی جی کرائم نے عدالت میں داخل رپورٹ میں موقف اپنایا کہ پنجاب میں 462 خواتین کو تاحال بازیاب کرانا باقی ہے، جبکہ 2021 میں لاپتہ ہونے والی چار خواتین بھی ابھی بازیاب نہیں ہو سکیں، غفلت کے مرتکب پنجاب بھر کے تفتیشی افسران کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب لاپتہ خواتین کی بازیابی کے لیے قائم ٹیم کی نگرانی کر رہے ہیں،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آپ نے لاپتہ خواتین کے معاملے پر ایسے شخص کو لگا دیا ہے جو پہلے ہی بہت مصروف رہتا ہے، اس نے کام کیا کرنا ہے؟ وہ صاحب تو ٹک ٹاک بناتے رہتے ہیں، انہوں نے کام کب کرنا ہے؟ کیا پولیس افسر کا ٹک ٹاک بنا کر اپ لوڈ کرنا سروس رولز میں شامل ہے؟ کیا ٹک ٹاک بنانے کی رولز میں اجازت ہے؟ ڈی آئی جی کرائم نے عدالت کو بتایا کہ اب پولیس یونیفارم میں کوئی ٹک ٹاک نہیں بناتا، جو پولیس اہلکار ٹک ٹاک بناتا ہے اس کے خلاف فوری کارروائی کی جاتی ہے، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ جو شخص اپنی ذاتی نمائش سوشل میڈیا پر کرتا ہے، اس نے کام کیا کرنا ہے؟ ایسے افسران نے کیا کام کرنا ہے جو ٹک ٹاک پر نمائش کرتے ہیں،4 سال سے لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہوئے ، کیا کبھی ٹک ٹاک بنانے والے افسران کیخلاف کارروائی ہوئی؟ کیا سروس رولز افسران کو ٹک ٹاک بنانے کی اجازت دیتے ہیں؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر سیال نے بتایا کہ ڈی آئی جی لیگل نے ایسے افسران کیخلاف کارروائی کی ہے،جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ سب دکھاوے کی کارروائی ہے،عدالت نے 2026 میں لاپتہ افراد کا ڈیٹا پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہایہ پولیس کی کارکردگی ہے ؟ عدالت نے چیف جسٹس نے پولیس کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیا ، عدالتی حکم پر آئی جی کی طرف سے 2021 سے اب تک لاپتہ افراد کی رپورٹ پیش کر دی گئی، رپورٹ میں بتایاگیا کہ 5 سالوں میں 14 ہزار3 سو افراد لاپتہ ہوئے ،452 ابھی تک بازیابی نہیں ہوئے ، مسنگ افراد کو بازیاب نہ کروانے پر متعلقہ ائی اوز کو شوکاز نوٹس دے دئے گئے ہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ 2026 میں کتنے افراد لاپتہ ہوئے؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ چنرل پنجاب وقاص عمر سیال نے استدعا کی کہ تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے لئے مہلت د ی جائے،عدالت کے استفسار پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ چنرل نے بتایا سب سے زیادہ لاپتہ افرادراولپنڈی،سیالکوٹ اور ننکانہ میں ہوئے،ان کے بارے میں پولیس ایپ پر ڈیٹا اپ لوڈ کر دیا گیا ہے ،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ زیادہ تر لوگوں کو ایپ کا علم نہیں ہے، یہ تشویشناک صورتحال ہے،ڈی آئی جی انوسٹی گیشن نے موقف اپنایا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پولیس ٹیم کام کر رہی ہے،ڈی آئی جی مصروف رہتے ہیں انکے پاس اتنا وقت کہاں ہے کہ لاپتہ افراد کو ٹریس کر سکیں؟
