Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • بنگلہ دیش خسے کی وبا بے قابو مشتبہ کیسز 2 لاکھ 2 ہزار سے متجاوز
    • ٹیلر سوئفٹ کا سنڈریلا لک دیکھ کر مداح تعرہف کیے بغیر نہ رہ سکے
    • ٹیکسلا: یوسی خرم پراچہ میں ملک سہیل عمران کے ڈیرہ پر پولیو ویکسنیشن و تربیتی سیشن سے الطاف خان و دیگر خطاب کر رہے ہیں۔
    • ایم اینڈ ٹینڈرز محض کاغذی کاروائی زمینی برعکس فنڈز ہڑپ کیے جانے کا انکشاف
    • یوفون نے ڈریگنز آف ایشیا میں دو ایوارڈز جیت کر عالمی پذیرائی حاصل کرلی
    • گوجر خان: پنجاب کالجز گوجر خان کے پرنسپل میڈل جیتنے والی نوجوان اتھلیٹ آمنہ خان کو انعام دیتے ہوئے۔
    • ٹیکسلایو سی خرم پراچہ میں پولیو مہم بارے تربیتی سیشن کا انعقاد
    • ریلوے زمینوں پر تنازعات کے باوجود ان جگہوں پر نقشوں کی منظوریاں
    • آئیسکو ریجن میںبوجہ ضروری سسٹم مینٹیننس19اکتوبر عارضی بجلی بندش کا شیڈول
    • اسلام آباد کی اخبار مارکیٹ دو روز بعد کھول دی گئی اخبارات کی ترسیل بحال
    • پولیس کی مبینہ پشت پناہی میں  منشیات کا کاروبار عروش پر
    • حنا جاوید قتل کیس کا معاملہ، تمام ٹیکنیکل،فرانزک شواہد کے حصول کو یقینی بنایاگیا
    • آئیسکو کا بجلی حادثات کی روک تھام کیلئے مؤثر حفاظتی اقدامات جاری رکھنے کا عزم
    • نوجوان اتھلیٹ آمنہ خان کی پا ک چائینہ فرینڈ شپ گیمز ریس میں تیسری پوزیشن
    • CDAنے بھارہ کہو میں صفائی کام بہتر بنانے کیلئے ٹھیکہ دیدیا
    • سی سی ڈای چکوال کی کارروائی، 15 سے زائد وارداتوں میں مبینہ طور پر ملوث چار رکنی بین الاضلاعی ڈکیت گینگ گرفتار
    • پادشاہان میں چوری کی وارداتوں کا سلسلہ جاری، قبرستان کے گیٹ بھی چوری
    • تھانہ بنی پولیس کی کارروائی3 پتنگ سپلائرگرفتار، 420 پتنگیں اور 15 ڈوریں برآمد
    • وینڈرز کی بروقت ادائیگیاں نہ ہونا ہسپتالوں میں ادویات کی قلت کا سبب
    • مقدمہ، اغوا برائے تاوان کیس کا اہم فیصلہ، 5 مجرمان کی عمر قید کی سزا برقرار
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پنجاب حکومت نے بلدیاتی اداروں کو تحلیل کرکے رائے دہندگان کے حقوق ضبط کیے، سپریم کورٹ

    By Daily Khabrainجولائی 6, 2021
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ پنجاب نے بلدیاتی اداروں کو تحلیل کرکے اپنے نمائندوں کو ووٹ دینے والے افراد کے حقوق ضبط کیے ہیں۔

     پیر کو جاری ہونے والے چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کے لکھے گئے ایک تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پنجاب میں بلدیاتی نظام کو تحلیل کرنا آئین کے آرٹیکل 17، 140 اے، 7 اور 32 کے خلاف ہے۔

    رواں سال 25 مارچ کو تین ججز پرمشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے ایک مختصر آرڈر کے ذریعے صوبے میں بلدیاتی اداروں کی بحالی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے انہیں بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

    پنجاب حکومت نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ (پی ایل جی اے) 2019 کے سیکشن 3 کے تحت بلدیاتی اداروں کو تحلیل کردیا تھا حالانکہ انتخابات پی ایل جی اے 2013 کے تحت 2015 اور 2016 میں مرحلہ وار ہوئے تھے۔

    منتخب بلدیاتی اداروں کا دورانیہ 5 سال تھا۔

    تاہم صوبائی حکومت نے سیکشن 3 (2) میں ترمیم کے بعد ’پانچ سال‘ کی جگہ ’21 ماہ‘ کے الفاظ اس میں شامل کرتے ہوئے گزشتہ سال 2 جولائی کو بلدیاتی اداروں کو ختم کردیا تھا۔

    18 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت قائم بلدیاتی نظام جب قانون کے تحت ایک مخصوص مدت کے لیے منتخب بلدیاتی حکومت کے پاس جاتا ہے تو اس کی مدت پوری ہونے سے پہلے اسے تحلیل نہیں کیا جاسکتا۔

    اسد علی خان کی جانب سے ان کے وکیل محمد نوازش علی پیرزادہ اور دانیال عزیز کے ذریعے دائر درخواستوں کے ایک سیٹ پر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا۔

    درخواست گزاروں نے پی ایل جی اے 2019 کی دفعہ 3 کے تحت اس تحلیل کو چیلنج کیا تھا کہ بلدیاتی اداروں کے منتخب ممبران اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے اہل ہیں جو اس سال 31 دسمبر کو ختم ہونی ہے۔

    آئین کے آرٹیکل 140اے کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس دفعہ میں صوبوں کی جانب سے بلدیاتی نظام کے قیام کا تصور دیا گیا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس کے لیے مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کے لیے سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار کو بھی ختم کرنا ہوگا۔

    اس فیصلے نے صوبائی حکومت کو یاد دلایا کہ اس کے پہلے اجلاس کے بعد سے پانچ سال تک ایک مقامی حکومت کو اپنے عہدے پر رہنا تھا۔

    اس میں کہا گیا کہ چونکہ پنجاب میں بلدیاتی اداروں نے جنوری 2017 میں پہلا اجلاس کیا تھا لہذا ان کی مدت جنوری 2022 میں ختم ہونی تھی۔

    فیصلے میں واضح کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 7 کے تحت مقامی حکومت کو ’ریاست‘ کا درجہ دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ فیڈریشن میں حکومت کا تیسرا درجہ تھا۔

    آرٹیکل 17 ایسوسی ایشن کو آزادی فراہم کرتا ہے اور ہر شہری کو ایسوسی ایشن، یونین بنانے یا کسی سیاسی جماعت کا ممبر بننے کا حق دیتا ہے۔

    اسی طرح آرٹیکل 32 ’ریاست کی پالیسی کے اصولوں‘ کا ایک حصہ ہے اور یہ ریاست کے منتخب نمائندوں پر مشتمل مقامی حکومت کے اداروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبائی مقننہ قانون بنانے کا اہل ہے اور 2019 کا قانون ایک قانون ساز اسمبلی نے بنایا ہے تاہم مسئلہ صرف اس ایکٹ کے سیکشن 3 کے حوالے سے ہے جہاں اس سے پنجاب میں مقامی حکومتیں تحلیل ہو جاتی ہیں اور تمام منتخب نمائندوں کو اپنے عہدے کی مدت پوری کرنے کی اجازت کے بغیر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 2013 کے ایکٹ نے انہیں یہ حق دیا تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک منتخب بلدیاتی حکومت کو 2019 کے قانون کی دفعہ 3 کے اطلاق سے تحلیل نہیں کیا جاسکتا۔

    عدالت نے یاد دلایا کہ 2013 کے ایکٹ نے صوبائی حکومت کو ایسے اختیارات نہیں دیے تھے۔

    سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ایک فاتح سیاسی جماعت کو منشور پر عمل درآمد کرنا ہوگا جس کی بنیاد پر اس نے بلدیاتی انتخابات لڑے تھے۔

    فیصلے کے مطابق کوئی بھی غیر قانونی حکم جو کسی جماعت کی مدت پوری ہونے سے قبل اسے عہدے سے ہٹاکر رائے دہندگان سے ان کے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے سے روکتا ہے، ان رائے دہندگان کی بنیادی حقوق کی پامالی ہوگی۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      حکومت پنجاب کے ترقیاتی اقدامات’ داتا دربار کے اطراف کا منظر تبدیل

      حریم فاروق اورفیصل قریشی یونیورسٹی میں ڈانس پرفارمنس پر تنقید کی زد میں آ گئے

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      تازہ ترین

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      ریاض حملے کے بعد حوثیوں کی نئی دھمکی، سعودی ایئرپورٹس استعمال نہ کرنے کی وارننگ

      * رابطوں کے باوجود پی ٹی آئی کی خاموشی، محسن نقوی کے اہم انکشافات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.