Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • کراچی: عمرہ ویزے کی آڑ میں مبینہ غیرقانونی امیگریشن کی کوشش کرنے والے مسافر ایف آئی اے کی تحویل میں۔
    • فیصل آباد:ٹریفک وارڈن غلط طریقے پر پارک کی گئی کار کو لفٹر کے ذریعے اٹھا رہا ہے۔
    • پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، روزگار کی فراہمی بڑا چیلنج بن گئی
    • گل پلازہ آتشزدگی کیس: حتمی چالان اور عمارت مسمار کرنے کی درخواست پر فیصلہ نہ ہوسکا
    • جی ٹی روڈ پر ایکسیڈنٹ گاڑی کی ٹکر سے شاہ زیب موقع پر جابحق سہالہ
    • سعودی عرب ،خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث سعودی عرب جانے والی بیشتر پروازیں منسوخ
    • راولپنڈی پولیس کی کاروائیاں 4 افراد کو حراست میں لیکر اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
    • چوآ سیدن شاہ و گرد و نواح میں کوئلے کی کان کنی کا معاملہ بنیادی سوال کو جنم دیتا
    • اٹک:منشیات فروشی اور شراب فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمان پولیس کی حراست میں ۔
    • گوجرخان میں مبینہ ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت جاری
    • نا جائز پارکنگ،عملہ کیساتھ ہاتھا پائی کرنیوالے ملزمان پر مقدمہ درج
    • 10 سالہ لڑکے سے زیادتی کرنیوالے مجرم کو عمر قید کی سزا سنا
    • ڈمپر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار میاں بیوی اور بیٹے کے جاں بحق ہونے کا معاملہ، آئی پنجاب کا سخت نوٹس
    • سیکٹر G-13 کے رہائشیوںکے مسائل حل کیلئے FGEHA کی کھلی کچہری
    • راولپنڈی :پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں پولیس افسران واہلکاروں کے رویوں میں مثبت تبدیلی اور شہریوں کو بہترین سروسز کی فراہمی کے حوالے سے خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ۔
    • ہنگری کے قومی دن کے موقع پر مہمان خصوصی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر وزیر اعظم کے مشیر فہد ہارون رکن قومی اسمبلی نوید قمر ہنگری کے سفیر اور دیگر اہم شخصیات اسٹیج پر موجود ہیں
    • اٹک :کار سرکار میں مداخلت اور تجاوزات عملہ کیساتھ ہاتھا پائی کرنے پر سندر کا ر پیٹ کے مالکان کیخلااف ایف آئی آر اور دکان سیل ۔
    • روڈ ایکسیڈنٹ میں3افراد جاں بحق واقعہ،چونترہ پولیس نے واقعہ میں ملوث ڈرائیور کو تحویل میں لے لیا
    • محلہ عمرآباد، عشا کے بعد یتیم بچے حیدر علی کو مبینہ طور پر مسلح افراد نے دو گولیاں مار کر قتل کر دیا
    • گوجرخان میں ڈکیتی و چوری کی متعدد وارداتیں جاری
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    مری کا رُومان اور انتظامی نااہلی

    By Daily Khabrainجنوری 23, 2022
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    مریم ارشد
    کوئی بھی موسم ہو مری کا رومان اور جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔موسمِ گرما میں فضا میں رچی چناروں اور چیڑ کی خوشبو دل موہ لیا کرتی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں مری کے آسمان کے رنگوں کی چھب ہی نرالی ہوتی ہے۔ یکا یک بادلوں کے چھا جانے سے آسمانی رنگ لاجوردی اور گلابی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مری کا آسمان گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ مری پنجاب کا وہ سیاحتی پُرفضا پہاڑی مقام ہے جو ہر خاص و عام کی پہنچ میں ہے۔ کوئی بھی اپنے بجٹ کی منصوبہ بندی کر کے یہاں کی سیر سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اسے ملکہ کوہسار کہا جاتا ہے۔ لیکن مری کے مقامی ہوٹلوں والے ہمیشہ سیاحوں کی کھال اتارنے کو تیار ہی رہتے ہیں۔ چند دن پہلے بھی ویک اینڈ پہ لوگ پروانوں کی طرح مری کی برف باری دیکھنے کے عشق میں گھروں سے نکلے۔ انہیں کیا پتا تھا کہ وہ انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے ٹھنڈی سفید برف میں ٹھٹھرتے ہوئے میٹھی موت مر جائیں گے۔
    یوں تو وطنِ عزیز میں بہت سے سیاحتی مقام ہیں جیسے ناران، کاغان، سوات، کالام، ہنزہ وغیرہ جانے کے لیے جیب میں کافی روپے ہونے چاہئیں۔ لہذا زیادہ تر لوگ مری کا رُخ کرتے ہیں۔ اس دفعہ بھی برف باری کے شوقین لوگوں نے مری کا رُخ کیا۔ جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق 3جنوری سے 8جنوری تک برفانی طوفان آنے کے پیشین گوئی کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں تمام اداروں کو ریڈ الرٹ کر دیا گیا تھا۔ بلا شبہ مری ایک چھوٹا سا ہِل سٹیشن ہے جہاں اس کے قدیمی حسن کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے اُلٹا اس پر بہت سی تعمیرات بنائی گئی ہیں۔ مری میں زیادہ سے زیادہ35سو گاڑیاں داخل ہو سکتی ہیں لیکن اس روز مری میں تقریباً ایک لاکھ گاڑیاں داخل ہو گئیں۔ مری میں دو بڑے چوک ہیں جہاں ٹریفک بلاک ہو جانے کی وجہ سے نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ ایک جھیکا گلی اور دوسرا سنی بینک سے کلڈنہ۔ اس روز ان دونوں رستوں کو صاف کروانے کی کوئی تیاری ہی نہیں کی گئی تھی۔ فواد چوہدری صاحب کی ٹویٹ تھی: ”اتنی بڑی تعداد میں کسی سیاحتی مقام پہ گاڑیوں کے داخلے کا مطلب ہے کہ پاکستان میں لوگ خوشحال اور معیشت مظبوط ہے۔“
    کوئی ان حکمرانوں سے پوچھے کہ کیا مری جیسے چھوٹے سیاحتی مقام پر اس کی قوتِ اختیار سے زیادہ گاڑیوں کا اندھا دھند داخل ہونا اور مری انتظامیہ کا غائب رہنا حکومت کی نا اہلی ہے یا معیشت کی مضبوطی۔ ملک کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اس کے عوام کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کرنے سے۔ عوام کے لیے تعلیم و صحت کے شعبے میں ترقی دینے سے۔ عوام کے لیے بروقت سہولتیں بہم پہنچانے سے۔ اب مری کو ہی دیکھ لیجیے جب لوگ وہاں پھنسے مدد کے لیے آہ و فضاں کر رہے تھے۔ ماں اور باپ کے سامنے ان کے پھول سے بچے موت کی آغوش میں سرک رہ تھے۔ تب کوئی ان کا پُرسانِ حال نہ تھا۔ مری کی انتظامیہ شاید بھنگ پی کر سو رہی تھی۔ جب 23قیمتی جانیں میٹھی موت کے گھاٹ اتر گئیں تب کہیں جا کر اگلے روز برف صاف کرنے کی گاڑیاں پہنچیں۔ کیا یہ گاڑیاں وہاں پہلے سے موجود نہیں ہونی چاہیے تھیں۔
    وزیر داخلہ شیخ رشید صاحب نے خود کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ نتھیا گلی کی طرف سے کے پی سے آنیوالی گاڑیوں کا داخلہ بروقت بند کیا جا سکتا تھا۔ اگر مری کی انتظامیہ غفلت نہ برتتی اور بروقت مدد کی جاتی تو وہ قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں۔ اب بات کرتے ہیں اس ظلم کی جو مقامی ہوٹلوں والوں نے غریب سیاحوں پر ڈھا یا۔ ایک اُبلا انڈہ تین سو تک کا بیچا۔ منرل واٹر کی بوتل جو 60روپے میں بکتی تھی وہ پانچ سو تک کی بیچی گئی۔
    گاڑیوں میں چینز لگانے والوں نے بھی منہ کھول کر پانچ ہزار روپے تک مانگے۔ لوگوں کو ناشتے دو دو ہزار روپے میں بیچے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں بچ جانیوالی ایک فیملی اپنے تاثرات بیان کرتی ہے کہ وہ پہلے سے 10ہزار روپے پر تین دن کے لیے کمرہ بُک کروا کر گئے۔ ایک رات گزارنے کے بعد ہوٹل والوں نے کمرہ خالی کرنے کو کہا۔ جب اس شخص نے بتایا کہ میری تو پہلے سے تین دن کی بکنگ ہے تو کہا کہ پھر آج آپ 40ہزار کرایہ ادا کریں گے۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ میں ٹوٹل 60ہزار کا بجٹ لے کر گیا تھا۔ لہذا ہم واپس آ گئے اور یوں زندہ بچ گئے۔ مری والوں نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ایسی اہندو ناک صورتِ حال میں بغیر منافع کے اپنے دلوں کے دروازے کھول دینے چاہیئے تھے۔
    اگر ایسے میں مری والے اپنے ہم وطنوں کو سہولتیں دیتے تو ان کے لیے آنیوالے دنوں میں کاروبار دُگنا ہی ہونا تھا۔ ایک سوال پرائم منسٹر عمران خان سے بھی ہے کہ آپ تو زمانے کے سیاح ہیں۔ اپنی عید کی چھٹیاں گزارنے بھی نتھیا گلی جاتے ہیں۔ کیا آپ کو اپنے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کو نہیں بتانا چاہیے تھا کہ اتنی گاڑیاں آ رہی ہیں تو اس رش کو کنٹرول کرنے کے انتظامات کر رکھے ہیں یا نہیں۔ بعد میں عثمان بزدار کا ہیلی کاپٹر میں چڑھ کر ہوائی جائزہ لینے کا مقصد کیا تھا؟ کیا وہ معصوم لوگ جو گھروں سے سیر کرنے کو نکلے اور ملکی معیشت میں حصہ ڈلا وہ یوں اپنے بچوں سمیت مرنے کو گئے تھے؟ کیا مری کے اسسٹنٹ اور ڈپٹی کمشنر کو معلوم نہیں تھا کہ اتنی گاڑیاں آ رہی ہیں تو راستے صاف کروانے ہیں۔
    حکومتِ پاکستان سے گزارش کے کہ راولپنڈی سے مری تک ٹرین ٹریک بنایا جائے اور مری کے اندر چھوٹی بس شروع کی جائے تاکہ ضرورت سے زائد گاڑیوں کے داخلے کو ممنوع قرارد دیا جائے۔ مری کی انتظامیہ کو ہر صورت محفوظ سیاحت کا بندوبست کرنا ہوگا۔ اس وقت عوام اتنی دلبرداشتہ ہے کہ وہ مری کا مکمل بائیکاٹ کر چکے ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ منافع خوروں کو اور اس اہندوناک واقعہ کے ذمہ داران کو فی الفور کڑی سے کڑی سزا دے۔ مری والوں نے جان بوجھ کر سڑکیں بلاک کیں۔ کمروں کے کرایے چار گُنا بڑھا دیے۔ ٹول پلازہ والوں نے لُوٹا۔ پوری قوم طیش میں ہے۔ مری کا سب بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ہوٹل ایسوسی ایشن والوں کو سزا دی جائے۔ آخر میں اگر کوئی پھر بھی زندگی کی رعنائیوں سے تنگ ہے اور مرنے کا ارادہ ہے تو مری چلیے۔مری کے رومان کو بالآخر مری کی انتظامیہ کی نااہلی لے ڈوبی۔
    (کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.