آسٹریلیا میں ایک شخص نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنے پالتو کتے کے لیے خصوصی کینسر ویکسین تیار کروائی ہے، جس کے بعد اس کی صحت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔
8 سال کی روزی جِلد کے ایک جارحانہ کینسر میں مبتلا تھی۔
ویٹرنری ڈاکٹرز نے اس کے مالک پال کوننگھم کو بتایا کہ روزی شاید چند ماہ سے زیادہ زندہ نہ رہ سکے، لیکن ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ پال نے ہار ماننے کے بجائے مصنوعی ذہانت کی مدد لینے کا فیصلہ کیا۔
ڈی این اے کے اندر جسم کے خلیوں کی بنیادی معلومات محفوظ ہوتی ہیں اور کینسر اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب ڈی این اے میں کچھ تبدیلیاں ہو جائیں جو خلیوں کو بے قابو انداز میں بڑھنے پر مجبور کر دیں۔
اس لیے پال نے سب سے پہلے روزی کے صحتمند ڈی این اے اور ٹیومر والے ڈی این اے کا تجزیہ کرایا، پھر مصنوعی ذہانت سے کہا کہ وہ ان دونوں تجزیوں کے درمیان فرق کی نشاندہی کرے۔
اُس فرق کی بنیاد پر پال نے مصنوعی ذہانت سے معلوم کیا کہ انفرادی نوعیت کی کینسر ویکسین کیسے تیار کی جا سکتی ہے؟
پال نے وہ معلومات آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے سائنسدانوں کو دیں جنہوں نے روزی کے لیے خصوصی mRNA ویکسین تیار کی۔
روایتی ویکسینز وائرس یا بیکٹیریا سے بچاؤ کے لیے دی جاتی ہیں، جبکہ کینسر کی ویکسین کا مقصد جسم کے مدافعتی نظام کو یہ سکھانا ہوتا ہے کہ وہ کینسر کے خلیوں کو کیسے پہچان کر صرف انہی پر حملہ کرے۔
اس مقصد کے لیے mRNA کو پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سائنسدانوں نے کینسر سیلز کے پروٹین کو mRNA ویکسین میں ڈالا اور وہ ویکسین روزی کو لگا دی۔
ویکسین لگنے کے بعد روزی کے کئی ٹیومرز سکڑ گئے، جسم میں کینسر کا بوجھ کم ہوا اور اس کی صحت میں واضح بہتری دیکھی گئی۔
تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک کیس ہے، کوئی باقاعدہ سائنسی آزمائش نہیں، اس لیے ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ طریقہ دوسرے جانوروں یا انسانوں میں بھی اتنا ہی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت نے کینسر کا علاج دریافت نہیں کیا بلکہ ایک معاون کردار ادا کیا، جبکہ ویکسین کی تیاری اور تمام سائنسی مراحل سائنسدانوں نے مکمل کیے۔
اس کے باوجود یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ڈی این اے تجزیے، mRNA ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج سے مستقبل میں ذاتی نوعیت کے علاج مزید قابلِ رسائی ہو سکتے ہیں۔
