امریکا کا ایران پر مسلسل 12ویں رات بھی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری
امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں میں مسلسل بارہویں رات بھی فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں متعدد فوجی تنصیبات، میزائل لانچنگ مقامات، ڈرون مراکز اور اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق حالیہ کارروائیاں ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے اور خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہیں۔ حملوں میں اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ایران کی جانب سے نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایران نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ان حملوں کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق دفاعی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت کئی ممالک نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع ہونے سے روکنے اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل پر زور دیا ہے۔
امریکی حملوں اور ایرانی ردعمل کے باعث خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ عالمی منڈیوں، فضائی سفر اور توانائی کی ترسیل پر بھی اس کشیدگی کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔

