ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو مبینہ طور پر اس وقت روک لیا جب اس نے ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستہ اختیار نہیں کیا، سروس فیس ادا نہیں کی اور ضروری اجازت حاصل نہیں کی۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے سے محفوظ گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے مخصوص راستے اور متعلقہ اجازت نامے کی پابندی ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جزیرہ قشم کے قریب پیش آیا۔ بحری نگرانی کے ڈیٹا میں لائبیریا کے پرچم بردار ٹینکر ’’امارا‘‘ کو قشم کے جنوب میں رکنے اور کئی گھنٹوں تک انتہائی کم رفتار سے چکر لگاتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم ٹریکنگ ڈیٹا اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا کہ یہی جہاز ایرانی فورسز کی جانب سے روکا گیا تھا۔
ایرانی میڈیا نے جہاز کو متحدہ عرب امارات سے منسلک قرار دیا ہے، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق اس کے رجسٹرڈ مالک کا تعلق مارشل آئی لینڈز سے بتایا جاتا ہے، جبکہ تکنیکی انتظامی امور ایک UAE-based کمپنی کے پاس ہیں۔ جہاز کے اصل فائدہ مند مالک کی شناخت واضح نہیں ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں گزشتہ دنوں کئی بحری جہازوں کو حملوں اور سیکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے 14 اگست کو الزام عائد کیا تھا کہ ایران نے اس کی سرکاری تیل کمپنی ADNOC سے منسلک ایک جہاز کو نشانہ بنایا، تاہم ایران کی جانب سے ان الزامات کی اپنی تفصیل موجود ہے۔
حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں غیر معمولی کمی آئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 15 اگست کو صرف پانچ کموڈیٹی جہاز آبنائے سے گزرے جبکہ 16 اگست کو کوئی تجارتی جہاز ریکارڈ نہیں ہوا، جبکہ اس سے ایک ہفتہ قبل اسی عرصے میں 31 جہاز گزرے تھے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں بحری سرگرمیوں میں کمی نے عالمی تیل مارکیٹ اور شپنگ لاگت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔
