اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کے مطابق غزہ میں ہر پانچ میں سے تقریباً چار گھرانے ایسے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ان کے پاس مناسب رہائش یا چھت موجود نہیں۔ کئی پناہ گاہوں میں ایندھن، توانائی اور بنیادی گھریلو اشیاء کی شدید کمی ہے۔
ڈوجارک نے کہا کہ انسانی امداد میں رکاوٹوں کے باعث فلسطینیوں کو سونے، کھانا پکانے، نہانے، خوراک و پانی ذخیرہ کرنے اور مناسب روشنی برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 21 اگست کو ملبے سے 19 بچوں سمیت 50 افراد کی لاشیں نکال کر دفن کی گئیں، جبکہ ملبہ ہٹانے اور لاشوں کی تلاش کا کام ضروری مشینری اور دیگر سامان کی قلت اور غزہ کے بڑے علاقوں تک محدود رسائی کے باعث متاثر ہو رہا ہے۔

