چین نے غیر ملکی مسافروں کے لیے اپنی 240 گھنٹے یعنی 10 روزہ ویزا فری ٹرانزٹ پالیسی میں مزید توسیع کرتے ہوئے کرغزستان اور ویتنام کے شہریوں کو بھی اس سہولت میں شامل کرلیا ہے۔ نئی توسیع کے بعد چین کے ویزا فری ٹرانزٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کی تعداد 57 ہوگئی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت کرغزستان اور ویتنام کے اہل شہری مخصوص داخلی راستوں سے بغیر ویزا چین میں داخل ہوسکیں گے۔ تاہم اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مسافر کے پاس چین سے آگے کسی تیسرے ملک یا خطے کے لیے کنفرم ٹکٹ ہونا ضروری ہے۔
ویزا فری ٹرانزٹ کے تحت اہل مسافر چین میں زیادہ سے زیادہ 240 گھنٹے یا 10 دن تک قیام کرسکتے ہیں۔ اس دوران انہیں پالیسی کے تحت مقررہ علاقوں میں ہی رہنا ہوگا اور مخصوص داخلی و خارجی راستوں کا استعمال کرنا ہوگا۔
چین نے گزشتہ دو برس کے دوران اس پروگرام کو مرحلہ وار وسیع کیا ہے تاکہ بین الاقوامی مسافروں کے لیے ملک کا سفر مزید آسان بنایا جاسکے۔ ستمبر 2025 میں انڈونیشیا کے شہریوں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا، جس کے بعد اس سہولت سے مستفید ہونے والے ممالک کی تعداد 55 ہوگئی تھی۔
چینی حکام نے بعد ازاں اہل ٹرانزٹ مسافروں کے لیے دستیاب انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس میں 21 مزید بندرگاہوں کا اضافہ بھی کیا۔ اس طرح مختلف ممالک سے آنے والے مسافروں کے لیے چین میں مختصر قیام اور ٹرانزٹ کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا۔
پالیسی کے تحت کسی تیسرے ملک یا خطے کی جانب سفر کرنے والے اہل غیر ملکی مسافر چین کے مخصوص کھلے بندرگاہی راستوں سے بغیر ویزا داخل ہوسکتے ہیں اور ٹرانزٹ کی مقررہ مدت کے دوران منظور شدہ علاقوں میں قیام کرسکتے ہیں۔
اس سے قبل جاری تفصیلات کے مطابق یہ سہولت 24 صوبوں، خودمختار علاقوں اور میونسپلٹیوں میں 60 کھلے داخلی و خارجی راستوں کے ذریعے دستیاب تھی۔
چین نے ویزا فری ٹرانزٹ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی دسمبر 2024 میں کی تھی، جب نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن نے زیادہ سے زیادہ ٹرانزٹ مدت کو 72 یا 144 گھنٹوں سے بڑھا کر 240 گھنٹے کردیا تھا۔
چین کی جانب سے ویزا فری ٹرانزٹ پروگرام میں مسلسل توسیع کو بین الاقوامی سیاحت، کاروباری سفر اور مختصر مدت کے ٹرانزٹ کو فروغ دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ نئی توسیع کے بعد مزید غیر ملکی مسافروں کے لیے چین کا مختصر دورانیے کا سفر پہلے کے مقابلے میں آسان ہوگیا ہے۔

