اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر کے تمام سرکاری طبی مراکز میں فائر سیفٹی اور ہنگامی انتظامات کا فوری جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر تمام سرکاری اسپتالوں میں فائر ایکسٹنگوشرز، فائر فائٹنگ آلات اور ہنگامی اخراج کے راستوں کی دستیابی اور فعالیت چیک کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اضلاع میں اسپتالوں کا معائنہ کرنے جبکہ ریسکیو 1122 کو ایمرجنسی ایگزٹ اور فائر ہائیڈرنٹس کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام اضلاع سے فائر سیفٹی آڈٹ کی جامع رپورٹ 24 گھنٹوں کے اندر حاصل کی جائے، جبکہ ڈویژنل کمشنرز اس عمل کی نگرانی کریں گے۔ ریسکیو 1122 ان مقامات کی بھی نشاندہی کرے گا جہاں مزید فائر ہائیڈرنٹس کی ضرورت ہے۔
حکومت نے حساس شعبوں، خصوصاً آئی سی یوز، نرسریوں اور ایمرجنسی یونٹس میں جدید فائر الارم سسٹم، اسموک ڈیٹیکٹرز اور واٹر اسپرنکلر سسٹم نصب کرنے کے لیے فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
یہ اقدامات پمز کے مادر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ میں پیش آنے والے المناک واقعے کے بعد کیے گئے ہیں، جہاں 15 نومولود بچوں میں سے 14 جانبر نہ ہوسکے۔ اس سانحے نے ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

