یورپ میں رواں موسمِ گرما کے دوران مسلسل چار ریکارڈ توڑ ہیٹ ویوز کے باعث کم از کم 35 ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ ابتدائی اعداد و شمار یورپ کے تقریباً نصف حصے سے موصول ہونے والی معلومات پر مبنی ہیں، اس لیے حتمی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق جرمنی، فرانس اور اسپین میں ہی مجموعی طور پر 25 ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ ہوئی ہیں۔ جرمنی میں سب سے زیادہ تقریباً 14 ہزار اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ فرانس میں جولائی کے آخر تک تقریباً 7,300 اضافی اموات سامنے آئیں۔ اسپین میں گرمی سے منسوب اموات کی تعداد تقریباً 4,947 تک پہنچ گئی، جو ملک میں اب تک کی بلند ترین سالانہ تعداد ہے۔
برطانیہ میں بھی مئی اور جون کی ہیٹ ویوز کے دوران تقریباً 2,877 گرمی سے متعلق اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ بیلجیئم، نیدرلینڈز، اٹلی اور پولینڈ سمیت دیگر یورپی ممالک میں بھی معمول سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
شدید گرمی کے دوران یورپ کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرگیا، جبکہ فرانس سمیت متعدد ممالک میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ ماہرین کے مطابق شدید گرمی اکثر موت کی براہِ راست وجہ کے طور پر درج نہیں ہوتی بلکہ یہ دل، پھیپھڑوں اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کی حالت کو مزید خراب کرکے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی شدید گرمی کی لہروں کو زیادہ بار بار اور زیادہ طاقتور بنا رہی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں یورپ میں گرمی سے متعلق اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
حکام اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگست کے مکمل اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

