وزیراعظم شہباز شریف نے نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی بڑے پیمانے پر جانی و مالی تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نیپال کو ہنگامی امدادی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں نیپال کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کی جانب سے ہنگامی امدادی سامان نیپال بھیجنے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔
نیپال میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن فلیش فلڈ نے خصوصاً چین کے ساتھ سرحدی علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ سیلاب کے نتیجے میں مکانات، پل، سڑکیں اور بجلی کے منصوبے تباہ ہوئے جبکہ سیکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں لاپتا ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد 579 تک پہنچ چکی ہے جبکہ تقریباً 2 ہزار افراد لاپتا ہیں۔ خراب موسم اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں کے باعث امدادی کارروائیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
نیپال نے اب عمومی سرچ اینڈ ریسکیو کے بجائے خصوصی تکنیکی معاونت کی ضرورت پر زور دیا ہے، جس میں سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکالنا، مواصلاتی و ٹرانسپورٹ روابط بحال کرنا، لاشوں کی شناخت اور ڈی این اے ٹیسٹنگ سمیت دیگر خدمات شامل ہیں۔
پاکستان کی جانب سے امدادی پیشکش کو دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی روایت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

