کراچی(این این آئی) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ دھرنوں کے
دوران حکومت نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا تاہم جماعت اسلامی نے اس وقت معذرت کی، اب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے لیے تجاویز طلب کی ہیں، ہم مذاکرات میں سنجیدہ ہیں اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اپنی تجاویز حکومت کو دے رہے ہیں، پٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی اور حکومت مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتی تو 10 ستمبر کی رات آئندہ دھرنے کا اعلان کیا جائے گا، 10 ستمبر کے مذاکرات کے نتائج دیکھ کر اسلام آباد مارچ کا فیصلہ کریں گے۔ ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے ملک بھر میں 25ویں روز میں داخل ہوگئے ہیں اور کراچی سمیت 32 مقامات پر احتجاج جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس پر گزشتہ روز بڑی تعداد میں عوام موجود تھے جبکہ آج خواتین کا تاریخی جلسہ ہوگا۔ 11 ستمبر کو گوجرانوالہ اور 12 ستمبر کو اسلام آباد میں خواتین کے بڑے اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز عوام کے لیے بڑا مسئلہ ہیں، پٹرولیم لیوی کا عالمی مارکیٹ کی قیمتوں سے براہ راست تعلق نہیں بلکہ یہ حکومت کی نااہلی اور غلط معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تکنیکی کمیٹی نے حکومت کو لیوی کے خاتمے کے لیے 6،7 اہم نکات پر مشتمل سفارشات پیش کردی ہیں، حکومت اور جماعت اسلامی کی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی دو روز قبل ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں پٹرولیم لیوی کے خلاف قرارداد منظور ہونا خوش آئند ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دینے سے متعلق قانون فوری تبدیل کیا جائے، بینکوں اور حکومت کے گٹھ جوڑ نے عوام کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے، حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے اسٹیٹ بینک کا قانون تبدیل کرسکتی ہے، پالیسی ریٹ میں کمی کے لیے حکومت کو اسٹیٹ بینک سے مؤثر انداز میں بات کرنی چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمن
