Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • 27ستمبراحتجاج سیاسی سرگرمیاں تیز وزیر اعطم و اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلئے رابطے
    • حوثیوں کا بابالمند ب پر مکمل کنٹرول کا دعوی
    • لوڈ شیڈنگ پروزیراعظم برہم کسی بھی علاقے میں2 گھنٹے سے زیادہ بجلی بند نہ کرنے کا حکم
    • پولینڈ روبوٹس کا انوکھا احتجاج، اے آئی سے متعلق سخت قوانین کا مطالبہ
    • فیلڈ مارشل امن کیلئے پھر متحرک
    • سکیورٹی فورسز کا کرم میں کامیاب آپریشن افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک
    • آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت ایران ‘ عمان ‘ خلیجی ممالک کا اجلاس پیرکوہوگا
    • نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ
    • مشرق وسطی میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں122 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں
    • لانگ مارچ کیس چیف سیکٹری ای جی کے پی سے بیان حلفی طلب
    • مریم نوازکا ساہیوال میں جلد 14مزید الیکٹروبسیں جلد فراہم کرنے کا اعلان
    • حمزہ شہباز کا دورہ پمز متاثرہ والدین سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار
    • میر ی ٹیچر مجھے بچپن میں سونو سونو کہتی تھی: حکیم بابر
    • علی ناصر رضوی تبدیل، سہیل چودھری آئی جی اسلام آباد تعینات
    • ن لیگی وزرائ’ ارکان اسمبلی سمیت 51افراد کے ناقابل ضمانت وارنٹ
    • قائداعظم محمد علی جناح کا 78واں یوم وفات عقیدت و احترام سے منایاگیا
    • سری لنکا نے پاکستان کو 4 وکٹوں سے ہرا کر ایشیا کپ فائنل میں جگہ بنا لی
    • شمالی کوریا کے حکمراںکم جونگ کا ایک چھوٹا بچہ بھی ہے: جنوبی کورین انٹیلی جنس ایجنسی
    • کے پی اسمبلی:کورم پورا نہ ہونے کے باوجود مریم نواز کیخلاف قرارداد منظور ہونے کا انکشاف
    • میجر راجہ عزیز بھٹی کے 61ویں یومِ شہادت پر پاک فوج کا شاندار خراج عقیدت
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    لانگ مارچ کیس چیف سیکٹری ای جی کے پی سے بیان حلفی طلب

    By Khabrain Newsستمبر 12, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد(آئی این پی )اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ نے پی ٹی آئی کے 27ستمبر کو احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت
    کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سے پیر تک بیانِ حلفی طلب کرلیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو جواب الجواب جمع کرانے کی اجازت دے دی اور ریمارکس دئیے کہ خیبرپختون خوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کے علاوہ دیگر افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس حمد آصف پر مشتمل تین رکنی بنچ میں سماعت سے قبل خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، ایڈیشنل آئی جی عباس احسن، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ، سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر حکام عدالت پہنچے۔سماعت کے آغاز پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پر ابتدائی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پہلا نکتہ جسے عدالت کو دیکھنا چاہئے وہ اس کا دائرہ اختیار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ کے تحت قائم ہوئی اور اس کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک ہے، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے افسران کو ہدایات دینا اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ پہلے عدالت یہ طے کرے کہ وہ یہ کیس سن بھی سکتی ہے یا نہیں، اس کے بعد قابل سماعت ہونے کے معاملے پر دلائل دوں گا۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے دلائل جاری رکھیں، ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست گزار کے متاثرہ فریق ہونے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کیسے متاثرہ فریق ہے، ابھی تو کام ہی نہیں ہوا۔اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے درمیان تلخی بھی ہوئی، ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے دلائل نہیں دئیے بلکہ ان کی جانب سے اٹارنی جنرل نے دلائل دئیے تھے، درخواست گزار کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میں نے دلائل دئیے تھے، یہ انتہائی نامناسب بات ہے۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ پہلی سماعت کے آرڈر میں درخواست گزار کے وکیل کے دلائل موجود ہیں، انہیں بات کرنے دیں، بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو متعدد مرتبہ خاموش رہنے کی ہدایت بھی کی۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ وزیراعلیٰ کی دو ٹوپیاں ہیں، ایک وزیراعلیٰ کی اور دوسری سیاسی جماعت کے رکن کی، ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ اگر وہ پارٹی کے رکن نہ ہوتے تو وزیراعلیٰ کیسے بنتے، عدالت کی ہدایت پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ کے حلف کے متعلقہ حصے بھی پڑھ کر سنائے، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو آئین، قانون یا ملک کی سالمیت کے خلاف ہو۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو آئین کا آرٹیکل 5 پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وزیراعلی کو ریاست سے زیادہ مخلص ہونا چاہئے، ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وزیراعلی ریاست کے ساتھ بہت زیادہ مخلص ہیں اور انہوں نے کوئی ایسا بیان نہیں دیا جو آئین، قانون یا ریاست کے خلاف ہو۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا نے یہ بیان کیوں دیا؟ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بات سیاسی جماعت سے متعلق نہیں بلکہ وزیراعلی سے متعلق ہے، وزیراعلی ریاست سے مخلص ہونے کا حلف لے چکے ہیں، سیاسی جلسے سے متعلق بیان پر وزیراعلی خود جواب دے سکتے ہیں۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلی کے بیان کا جواب وہ خود دے سکتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ احتجاج ہمیشہ اسلام آباد کی طرف ہی کیوں آتے ہیں؟ چیف سیکرٹری نے اسے سیاسی سرگرمی قرار دیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی بھی سیاسی سرگرمی ہے؟ عدالت نے بعد ازاں چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا سے بیان حلفی طلب کرلیا۔سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے وزیراعلی خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی کو بھی کیس میں فریق بنانے کی استدعا کی، انہوں نے کہا کہ جن کے خلاف درخواست کے ذریعے رٹ جاری کروانا چاہتے ہیں، انہیں فریق ہی نہیں بنایا گیا۔ایڈووکیٹ جنرل نے پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز اور وزیراعظم کے معاون برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے بعض بیانات کا بھی حوالہ دیا، انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب نے بیان دیا کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیان خیبرپختونخوا کو توڑنے کے لیے نہیں؟ رانا ثنا اللہ نے بھی کہا کہ ہائیکورٹ سے لانگ مارچ کے خلاف فیصلہ آئے گا، اس پر جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دئیے کہ لگ رہا ہے آپ سیاسی باتیں کر رہے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وہ سیاسی باتیں نہیں بلکہ حقائق بیان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ کیس قانونی کم اور سیاسی زیادہ لگ رہا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے احتجاج اور لانگ مارچ کے دوران کنٹینرز لگانے پر بھی اعتراض کیا، ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کی بات ہوتی ہے تو شہریوں کے آنے سے پہلے ہی کنٹینرز لگا دیے جاتے ہیں، کیا کنٹینرز رکھنا شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟ انہوں نے وفاقی حکومت کے خلاف نوٹس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں کہ کے پی ہاس کے باہر بھی کنٹینرز لگا دیے جاتے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ شہریوں کا وفاقی حکومت پر اعتماد ختم ہورہا ہے، انہوں نے اڈیالہ جیل سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ دو سال سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہورہا، کیا اس کے خلاف شہریوں کو احتجاج کا حق بھی نہیں؟۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جواب دیا کہ توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے، کیسز کب لگنے ہیں یہ عدالت کا انتظامی اختیار ہے، آپ تو عجیب سی باتیں کرنے لگ گئے ہیں، کیا کیسز آپ کے مطابق لگنے ہیں؟ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کے بعض دلائل پر ریمارکس دیے کہ یہ تو آپ نے سیدھا سیدھا عدلیہ پر حملہ کردیا۔دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور چیف جسٹس کے درمیان بعض جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کوئی غلطی ہو تو معاف کردیا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ غلطی معاف نہیں کرتا ہوتا، سمجھا دوں گا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آپ بادشاہ ہیں، کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ کہنے کی ضرورت نہیں، میں بادشاہ ہوں، ہم قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے لئے ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جج کو بادشاہ کہتے ہوئے کبھی نہیں سنا۔بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے روسٹرم پر آکر دلائل کا آغاز کیا، انہوں نے کہا کہ وہ شہریوں کی آزادی کے سخت حامی ہیں، پنجاب میں شیلنگ ہوتے اور پولیس اہلکاروں کو شہید ہوتے دیکھا ہے، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کے خلاف بیان دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی پنجاب اس درخواست میں فریق نہیں اور نہ ہی وہ عدالت میں موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلی پنجاب کی ذمہ داری اپنے صوبے کے ہر شہری کو محفوظ رکھنا ہے، انہوں نے کہا کہ کرمنل کانسپریسی جہاں ہوتی ہے وہاں کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کی ذمہ داری بنتی ہے، ان دھرنوں سے پنجاب کا کاروبار بھی متاثر ہوا، جلوسوں میں کرینز ہوتی ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کوئی سیاسی فورم نہیں بلکہ قانونی فورم ہے۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے درخواست کے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں اٹھایا اور کہا کہ عدالت جو بھی ہدایت دے گی اس پر عمل کیا جائے گا، بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بھی اپنے دلائل مکمل کیے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بھی دلائل دیئے ۔ عدالت نے سماعت کے اختتام پر خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سے پیر تک بیان حلفی طلب کرلیا اور قرار دیا کہ ان دونوں افسران کے علاوہ دیگر افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں، فریقین کو جواب الجواب جمع کرانے کی اجازت دیتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
    اسلام آباد ہائیکورٹ

    Khabrain News

      Keep Reading

      27ستمبراحتجاج سیاسی سرگرمیاں تیز وزیر اعطم و اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلئے رابطے

      لوڈ شیڈنگ پروزیراعظم برہم کسی بھی علاقے میں2 گھنٹے سے زیادہ بجلی بند نہ کرنے کا حکم

      پولینڈ روبوٹس کا انوکھا احتجاج، اے آئی سے متعلق سخت قوانین کا مطالبہ

      تازہ ترین

      سابق پاکستانی ہاکی کپتان خالد محمود 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

      27 ستمبر احتجاج؛ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلیے رابطے، سیاسی سرگرمیاں تیز

      خوبصورت بننے کا شوق جان لیوا ثابت ہوا، کاسمیٹک سرجری کے دوران معروف انفلوئنسر ہلاک

      سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت 4,400ڈالر سے نیچے

      نئے صوبے ،شہبازشریف متحرک ‘ممتاز صنعت کاروں,کاروباری شخصیات سے طویل ملاقات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.