ملتان(مرزا ندیم سے ) کسٹم اور پولیس افسران کی ملی بھگت سے پنجاب بھر میں نان کسٹم پیڈ اور سمگل شدہ گاڑیوں کی بھر مار ہو گئی ہے۔نئی حکومت کو جہاں مہنگائی ،بیروز گاری،اور اپوزیشن جماعتوں نے پریشان کیا کر رکھا ہے وہیں پر سارا فائدہ سالہاسال سے دیمک کی طرح چمڑی بیوروکریسی اٹھارہی ہے۔کرپشن کی کمائی میں نیچے سے لیکر اوپر تک تمام سرکاری افسران مزے کر رہے ہیں۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شوروم مالکان کی اکثریت ان دو نمبر گاڑیوں کے ذریعے کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔سرکاری افسران کا ”خرچہ”نکال کر بھی فی گاڑی لاکھوں روپے کی بچت ہو رہی ہے۔قبائلی علاقوں سے آسانی سے سمگل ہوکر آنیوالی ان گاڑیوں کو منہ مانگی قیمت پر فروخت کیا جا رہاہے۔بلوچستان اور سندھ چونکہ بارڈر ایریا ہے اسی وجہ سے یہاں سے سمگل شدہ گاڑیاں پنجاب پہنچ رہی ہیں۔ان میں زیادہ تر بڑی گاڑیاں ،پراڈو،پجارو،ہائی لیکس لینڈ کروزر فورچونر سمیت ڈالے اور جیپیں شامل ہیں۔ایسی گاڑیوں کو پنجاب میں لانا مشکل ہے کیونکہ جگہ جگہ کسٹم اور پولیس کے ناکے موجود ہیں۔جو گاڑی کے کاغذات چیک کرتے ہیں اور نان کسٹم گاڑی کو پکڑ لیا جاتا ہے۔مگر شوروم مالکان کے چونکہ کسٹم اور پولیس سے فی گاڑی معاملات طے ہوتے ہیں۔اس لئے ایسی گاڑیاں زیادہ تر ڈیرہ غازی خان کے ذریعے آسانی سے پہنچ جاتی ہیں۔حکومت کی طرف سے نئی گاڑیوں کی آمد کی پابندی کی وجہ سے ایک تو ملک کے اندر موجود گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیاہے تو دوسری طرف بڑی گاڑیوں کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے۔نان کسٹم پیڈ گاڑیاں جو کہ ڈیلرز کو سستی مل جاتی ہیں۔اکثر ان گاڑیوں پر پہلے سے موجود گاڑی کا نمبر لگا دیا جاتا ہے۔بڑے ڈیلرز پر مشتمل مافیا کے کسٹم حکام اور اینٹی سمگلنگ سکواڈ سے رابطے ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے گاڑیاں سرعام سڑکوں پر گھوم رہی ہوتی ہیں۔گزشتہ حکومت کے دورمیں ایک مذہبی سیاسی جماعت کے آزادی مارچ میں بھی ایک ہزار سے زائد گاڑیاں قافلے میں شامل ہو کر شہر میں موجود ڈیلرز تک آسانی سے پہنچ گئی تھیں۔جس سے حکومت کو ریونیو کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان ہو ا۔معلوم ہوا ہے کہ فی گاڑی 5 سے 8 لاکھ روپے مقررہ مقام تک پہنچانے کے مقرر ہوتے تھے۔چندسال پہلے حکومت کی طرف سے ایمنسٹی سکیم متعارف کروائی گئی تھی تا کہ کم پیسوں میں گاڑیاں قانونی ہو جائیں اور حکومت کو ریونیو مل جائے۔مگر یہ سکیم ناکام ہو گئی۔حکومت کی طرف سے سمگل اور نان کسٹم پیڈگاڑیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مافیا اور ان کے سرپرستوں کو سامنے لایا جا سکے۔
سمگل شدہ گاڑیاں
