وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان میں پٹرول کی قلت پیدا ہوئی تو اس کی قیمت ایک ہزار روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں پٹرول کی کوئی قلت نہیں اور حکومت بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان میں یکم مارچ سے پٹرول کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت عالمی قیمتوں میں اضافے کا تمام بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کر رہی۔
وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کی اولین ترجیح ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی برقرار رکھنا ہے۔ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل کو درپیش خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کم آمدنی والے اور متاثرہ طبقات کو ریلیف فراہم کر رہی ہے۔ پٹرول ریلیف اسکیم کے تحت ایک دن میں 18 کروڑ روپے کے ٹوکن جاری کیے گئے، جبکہ ہزاروں پٹرول پمپس کو ادائیگیاں بھی کی جا رہی ہیں۔
علی پرویز ملک کے مطابق حکومت ملک میں مقامی تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ تیل کے کنوؤں پر کام شروع ہوچکا ہے اور حکومت کو اکتوبر تک مقامی خام تیل کے ذخائر دریافت ہونے کی امید ہے، جس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تازہ مقرر کردہ نرخوں کے مطابق پٹرول 389.14 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 424.04 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔
وزیرِ پیٹرولیم نے سردیوں میں گیس کی دستیابی کے حوالے سے بھی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ حکومت عوام کو گیس کی قلت سے بچانے کے لیے ضرورت پڑنے پر مہنگی درآمدات بھی کرے گی۔

